مرکزی خیال: انسان کا اصل امتحان جغرافیائی سرحدوں پر نہیں، بلکہ بقا اور تحفظ کی داخلی جنگوں میں ہوتا ہے۔ خوف کی زمینی حقیقت جب وقت کی دھند پر غالب آتی ہے تو انسان عقائد اور اصولوں سے پہلے زندگی کی رمق کو ترجیح دینے پر مجبور ہو جاتا ہے، کیونکہ ایمان کا سایہ بھی تبھی قائم رہتا ہے جب وجود کا سورج روشن ہو۔
چائے کی پیالی سے اٹھتا ہوا دھواں باورچی خانے کی مدہم زرد روشنی میں ایک لمبی، لرزتی ہوئی لکیر بنا کر غائب ہو رہا تھا۔ ڈرائنگ روم میں رکھی پرانی شیشم کی میز پر ہاتھ ٹکائے، چوہدری صابر نے اپنے کشادہ ماتھے پر ابھری رگوں کو مسلا۔ ان کی نظریں سامنے دیوار پر لٹکی ستر کے عشرے کی اس دھندلی تصویر پر جم گئیں جہاں وہ لنڈن کے برج برج کے سامنے سیاہ اوور کوٹ پہنے کھڑے تھے۔ تصویر کا فریم پرانا ہو چکا تھا اور شیشے کے ایک کونے پر گرد کی باریک تہ جم چکی تھی۔
"ابا جان! آج تو آپ کو کوئی فیصلہ کرنا ہی پڑے گا۔"
سیف کی آواز نے شیشم کی میز کی خاموشی کو توڑا۔ وہ کمرے کے وسط میں پنجوں کے بل ذرا سا جھک کر، گردن تان کر کھڑا تھا۔ اس کے انداز میں وہی نوخیز بے صبری تھی جو تیز ہوا کے جھونکے کی طرح ہر پرانی شے کو اکھاڑ پھینکنا چاہتی ہے۔
صابر صاحب نے اپنی عینک اتار کر میز پر رکھی۔ ان کی آنکھوں کی گرد گہرائی میں اکتاہٹ اور گہرے غم کی تھکن تیر رہی تھی۔ انہوں نے نحیف آواز میں کہا:"بیٹا! جب میری عمر تک پہنچو گے نا... تب میں تم سے پوچھوں گا کہ فیصلہ کرنا کتنا مشکل کام ہوتا ہے۔ اور وہ بھی اپنے اکلوتے لختِ جگر کو ہمیشہ کے لیے اپنی نظروں سے دور کر کے پردیس بھیجنے کا فیصلہ..."
سیف نے جھنجھلا کر ہاتھ ہوا میں لہرایا۔ اس کی گھڑی کے دھاتی پٹے پر چھت کے بلب کی روشنی چمکی۔
"میں کون سا ہمیشہ کے لیے جا رہا ہوں ابا! بس یہ دو چار سال کی ٹریننگ اور پھر واپسی۔" اس کے لہجے میں ایسی سرسری اور بے ساختہ بے نیازی تھی جیسے وہ ہفتے بھر کے تفریحی دورے کا ذکر کر رہا ہو۔ "آپ بھی تو تین سال میں انگلینڈ سے واپس آ گئے تھے۔"
صابر صاحب نے جھریاں زدہ ہونٹوں کو سختی سے باہم پیوست کر لیا۔ وہ کیا بتاتے؟ وہ اس نوخیز خون کو کیسے سمجھاتے کہ ستر کے عشرے کے اس دیارِ غیر میں چمکتی عمارتوں اور سنہری موقعوں کے پیچھے کس طرح کا سحر اور روح کو نگل جانے والا زہر چھپا تھا؟ وہ محفلیں، وہ آسائشیں، وہ مال و دولت اور عیش و عشرت کا پھیلا ہوا جال... جہاں روح روز ایک ان دیکھے کھڈے میں گرتی تھی۔ جب انہیں لگا کہ اس چکاچونڈ میں ان کا اپنا وجود اور ایمان گہنا رہا ہے، تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر پہلی دستیاب فلائٹ سے خالی ہاتھ لوٹ آئے تھے۔ انہوں نے اس واپسی کو اپنی ہار نہیں، بلکہ اپنے ایمان کا سب سے بڑا دفاع سمجھا تھا۔لیکن آج کا وقت ان کے اپنے ماضی کی طرح سادہ نہیں رہا تھا۔
چھ ماہ بعد...
لاہور کے ایئرپورٹ کے ڈیپارچر ہال میں فضائی درجہ حرارت کی ٹھنڈک کے باوجود فضا میں ایک عجیب سی حبس تھی۔ صابر صاحب خاموش کھڑے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے، جبکہ ان کی زوجہ، جو گزشتہ چھ ماہ سے اپنے شوہر کے اس اچانک اور غیبی فیصلے پر حیرت کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھیں، نم آنکھوں سے سیف کی پیشانی چوم رہی تھیں۔ صابر صاحب کے چہرے پر تذبذب کا نام و نشان تک نہ تھا، فقط ایک چٹان جیسی مضبوطی تھی۔
انہیں یاد تھا وہ دن—
تین ماہ قبل، جب سیف شام کو گھر لوٹا تو اس کے کپڑے مٹی سے اٹے ہوئے تھے اور چہرے سے تمام رنگ اڑ چکے تھے۔ شہر کی مرکزی سڑک پر دن دہاڑے اس کا موبائل فون چھین لیا گیا تھا۔ ابھی اس صدمے کی راکھ ٹھنڈی نہ ہوئی تھی کہ اگلے ہی ہفتے سگنل پر گن پوائنٹ پر اس کی نئی گاڑی لے اڑی۔ اور پھر وہ خوفناک جمعہ... جب میریٹ ہوٹل کے باہر دھماکے کے بعد اٹھنے والے دھوئیں کے بادلوں اور بکھرے ہوئے شیشوں کے درمیان سے سیف موت کو چھو کر زندہ واپس لوٹا تھا۔ اس رات اس کے جسم کا کپکپاہٹ سے کانپنا اور آنکھوں میں جما ہوا خوف صابر صاحب نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔
اس رات صابر صاحب نے اپنے کمرے کے اندھیرے میں بیٹھ کر ایک طویل فیصلہ کیا تھا۔ جن چیزوں کو وہ ستر کے عشرے میں "ایمان کا خطرہ" سمجھتے تھے، وہ اب محض ایک روحی فلسفہ لگتی تھیں۔ اب ان کے سامنے لالچ یا عیش و عشرت کا امتحان نہیں تھا، بلکہ گلیوں میں بکھری ہوئی بے نام موت کا خوف تھا۔
انہوں نے اپنے بوڑھے سینے پر صبر کی ایک بھاری اور ٹھنڈی سل رکھی اور دل ہی دل میں دھیرے سے بڑبڑائے: "اگر زندہ رہا... تو ایمان کی حفاظت بھی کر لے گا۔"
ایئرپورٹ کا شیشے کا کاؤنٹر پار کرتے ہوئے سیف نے مڑ کر آخری بار ہاتھ ہلایا۔ صابر صاحب نے بھی اپنا لرزتا ہوا ہاتھ فضا میں اٹھایا۔ بیٹے کا وجود آہستہ آہستہ بھیڑ میں اوجھل ہو گیا، اور صابر صاحب شیشے کے اس پار کھڑے اپنے ہی عکس کو تکتے رہ گئے، جس میں ایک باپ نے اپنے بیٹے کا ایمان خدا کے سپرد کر کے، اس کی زندگی کو بچا لیا تھا۔
--------------------
مشکل الفاظ کے معنی:
• تذبذب : ہچکچاہٹ / شک و شبہ
• نحیف : کمزور / باریک
• حبس : گھٹن / ہوا کا رک جانا
• لختِ جگر : جگر کا ٹکڑا / اولاد
• چکا چونڈ : شدید روشنی جس سے آنکھیں دھندلا جائیں / ظاہری چمک دمک
• پیوست : جوڑا ہوا / پیوست شدہ
• نوخیز : جوان / نیا ابھرنے والا
مصنف کا نوٹ: اس افسانے کا بنیادی فلسفیانہ اور اخلاقی مقصد انسان کے ترجیحی نظام (System of Priorities) کی اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ نظریات اور اصولوں کی بقا بھی تبھی ممکن ہے جب انسانی زندگی محفوظ ہو۔ ایک باپ کا اپنے تاریخی تجربات اور خوف سے نکل کر بیٹے کی زندگی اور تحفظ کو اولین ترجیح دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بقا کی جدوجہد تمام دیگر اندیشوں پر مقدم ہوتی ہے۔ انسان زندہ رہے گا تو ہی اپنے ایمان، قدروں اور اصولوں کی پاسداری کر سکے گا۔
افسانہ میں لندن کا برج (London Bridge / Tower Bridge)کا ذکر ہے۔
لندن میں دریاۓ تھیمز (River Thames) پر دو مشہور پل واقع ہیں جن کے ساتھ "برج" یا "پل" کا نام جڑا ہوا ہے:
ٹاور برج (Tower Bridge) — سب سے زیادہ مشہور و معروف پل یہ لندن کا سب سے مشہور تاریخی اور خوبصورت گوتھک طرزِ تعمیر کا پل ہے جس میں دو بڑے اور اونچے مینار (Towers) بنے ہوئے ہیں۔ جب دریا میں سے بڑا جہاز گزرتا ہے تو یہ پل بیچ میں سے اوپر اٹھ جاتا ہے۔ یہ لندن کے مرکز میں، دریائے تھیمز کے اوپر، ٹاور آف لندن (Tower of London) کے بالکل قریب واقع ہے۔
لنڈن برج (London Bridge) — تاریخی پلیہ وہی پل ہے جس کا ذکر بچوں کی مشہور نظم "London Bridge is Falling Down" میں اتا ہے۔ یہ ایک سادہ اور جدید پل ہے جو تاریخی لنڈن برج کی جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہ ٹاور برج سے تھوڑا سا مغرب کی طرف، دریائے تھیمز پر سٹی آف لندن (City of London) اور ساؤتھ وارک (Southwark) کو آپس میں ملاتا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: