مرکزی خیال: یہ افسانہ دنیوی کامیابی اور اخلاقی و روحانی اقدار کے مابین درپیش طبقاتی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔ کہانی ظاہر کرتی ہے کہ محض ڈگریاں، دنیاوی قابلیت اور مادی دوڑ انسان کے کردار کی ضامن نہیں ہو سکتیں، جبکہ ظاہری طور پر ناکام یا "نالائق" سمجھا جانے والا شخص ہی خلوصِ نیت، ایثار اور رشتوں کے تقدس کو نبھانے میں حقیقی کامیاب ثابت ہوتا ہے۔
پرنسپل کے نفاست سے سجے ہوئے ایئر کنڈیشنڈ دفتر میں ایک مخصوص قسم کی مہنگی بو پھیلی ہوئی تھی—روشنائی، پالش شدہ چوبین میز اور بے حسی کی ملا جلا آمیزش۔ اکرام صاحب کے ہاتھ میں تھما ہوا چائے کا پیالہ اب ٹھنڈا یخ ہو چکا تھا۔ سامنے میز پر چھٹی جماعت کا رپورٹ کارڈ پڑا تھا، جس پر سرخ روشنائی سے لگے ہوئے دائرے کسی ناسور کی طرح چمک رہے تھے۔
"اکرام صاحب!" پرنسپل نے اپنے مہنگے پین کی ٹوپی پر انگلی مارتے ہوئے کہا۔ آواز میں وہ شائستہ ناگواری تھی جو صرف بھاری فیسیں لینے والے اداروں کے سربراہوں میں ہوتی ہے۔ "معذرت کے ساتھ، فرحان حد درجے نالائق ہے۔ مسلسل دوسرا سال ہے کہ وہ چھٹی جماعت میں اوندھے منہ گرا ہے۔ جبکہ عثمان اور عرفان اسکول کا فخر ہیں۔ آخر آپ اس لڑکے پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟"
اکرام صاحب نے اپنی پرانی عینک کو ناک کے پل پر سنبھالا۔ ان کی آنکھوں کے گرد جھریاں کسی ادھورے حساب کی طرح الجھی ہوئی تھیں۔ "سر! میں… میں تو کلرک آدمی ہوں، مگر ان کی پڑھائی کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہوں۔ اس کی ماں گھر پر گھنٹوں اس کے سر پر سوار رہتی ہے… مگر…"
"مگر نتیجہ صفر ہے!" پرنسپل نے فائل اس انداز میں بند کی جیسے کسی گناہگار کا بابِ عمل ختم کیا جا رہا ہو۔
گھر کے صحن میں لگے ہوئے نیم کے درخت کے نیچے، فرحان اپنا بستہ سینے سے لگائے کھڑا تھا۔ اس کے چہرے پر خوف نہیں، ایک عجیب قسم کی گنگ کر دینے والی بیگانگی تھی۔ وہ معصوم بچہ پڑھتا تھا، راتوں کو چراغ کی مدہم روشنی میں کتاب کے الفاظ گھورتا رہتا تھا، مگر وہ الفاظ اس کے ذہن کے بند دریچوں سے ٹکرا کر واپس لوٹ جاتے تھے۔ وہ کچھ حفظ نہ کر پاتا تھا، کچھ رقم نہ کر پاتا تھا۔
"شبانہ! ذرا ٹھنڈا پانی لاؤ… اس نالائق نے تو میرا خون جلا دیا ہے!" اکرام صاحب نے صحن میں داخل ہوتے ہی جوتیاں اتاری اور چارپائی پر ڈھے گئے۔
شبانہ بیگم پانی کا گلاس لیے آئیں تو ان کا چہرہ سوالیہ نشان بنا ہوا تھا۔ "کیا ہوا؟ رزلٹ ٹھیک نہیں آیا؟"
"یہ دیکھو اپنے شہزادے کے کارنامے!" اکرام نے رپورٹ کارڈ شبانہ کی طرف اچھال دیا۔ "پھر فیل! اگر یہی خاک اڑانی تھی تو اس مہنگے اسکول میں فیسیں بھرنے کا کیا فائدہ؟ دفتر میں صاحب کی جلی کٹی سن کر آیا تھا اور یہاں اس کی ناکامی کے قصے۔۔۔ کل ہی جا کر اس کا نام کٹوائیے۔ ساتھ والی بستی کے سرکاری اسکول میں پھینک آئیں اسے۔ پڑھنا ہوا تو وہاں بھی پڑھ لے گا، کم از کم میری جیب پر یہ بوجھ تو نہیں رہے گا۔"
اگلے ہی روز فرحان کا ٹرانسفر سرٹیفکیٹ نکلوا کر اسے بستی کے سرکاری اسکول میں داخل کروا دیا گیا۔
نجی اسکولوں کے چمکدار بورڈز کی بھیڑ میں سرکاری اسکول ایک متروک حویلی جیسا لگتا تھا، جہاں صرف غریبوں، لاوارثوں یا پھر "نالائقوں" کے بچے بھیجے جاتے تھے۔ فرحان کے لیے یہ دنیا اجنبی تھی۔ ٹوٹی ہوئی بنچیں، اکھڑتا ہوا پلستر اور ماسٹر صاحب کی چھڑی۔ مگر فرحان کا خلل بدستور قائم رہا۔ اس کا ذہن کسی کورے کاغذ کی طرح تھا جس پر سیاہی ٹھہرتی ہی نہ تھی۔ سال ختم ہوا، امتحانات آئے، اس نے راتوں کو جاگ کر محنت کی، مگر نتائج کی تختی پر پھر وہی سرخ لکیر پھیلی ہوئی تھی۔ فرحان پھر ناکام تھا۔
اس رات صحن میں تاریکی گہری تھی۔ اکرام صاحب اور شبانہ بیگم کھلی چھت کے نیچے بیٹھے اپنے اکلوتے سوال کا جواب تلاش کر رہے تھے۔
"آخر اس کا ہوگا کیا؟" اکرام نے سگریٹ کا دھواں فضا میں چھوڑتے ہوئے کہا۔
"میں بھی یہی سوچ کر کڑھ رہی ہوں،" شبانہ بیگم کی آواز میں مایوسی تھی، "باقاعدہ دونوں لڑکے تو پڑھ لکھ کر صاحب بن جائیں گے۔ یہ نالائق ہمارا نام ڈبوئے گا۔"
اکرام صاحب نے سگریٹ کا ٹکڑا پاؤں تلے مسل دیا۔ وہ اس بیمار کی طرح تھے جو شفا کی چاہ میں بار بار طبیب بدلتا ہے۔ ایک اوسط درجے کا سرکاری کلرک اپنی اولاد کو پیٹ کاٹ کر دی گئی تعلیم کے سوا اور دے ہی کیا سکتا تھا؟
"ایک راستہ ہے،" اکرام کا لہجہ اس بار حتمی تھا۔ "کم از کم ہماری آخرت ہی سنوار دے گا۔ ہم اسے مدرسے میں ڈال دیتے ہیں۔"
شبانہ نے حیرت سے شوہر کو دیکھا۔ "مدرسہ؟"
"ہاں، مدرسہ! کل ہی مولانا صاحب کے پاس لے جاتا ہوں اسے۔"
اسکولوں اور ڈگریوں کی دنیا میں مسترد ہو جانے والا فرحان اب مدرسے کے پورچ میں کھڑا تھا۔
یہاں کی دنیا کا فلسفہ ہی الگ تھا۔ کھجور کی چٹائیاں، مٹی کی صراحیاں اور قال قال قال اللہ کا زمزمہ۔ فرحان کا گھر قریب تھا، مگر اکرام صاحب نے اسے مقیم (بورڈنگ) طالب علم بنا کر وہیں چھوڑ دیا۔ اب وہ مہینوں بعد محض دو دن کی چھٹی پر گھر آتا۔ شروعات میں یہاں بھی اسے سبق یاد نہ ہونے پر استاد کی چھڑی کھانی پڑی، لیکن اس نے شکوہ کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس نے خاموشی کو اپنی ڈھال بنا لیا تھا۔
دوسری طرف، عثمان اور عرفان کامیابی کی روشن شاہراہ پر دوڑ رہے تھے۔ عثمان نے میٹرک میں بستی کا نام روشن کیا اور بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ عرفان نے آٹھویں میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اکرام صاحب نے خوشی میں عثمان کو نئی موٹر سائیکل لے کر دی۔
انہی دنوں فرحان، مدرسے کے برآمدے میں بیٹھ کر، خیرات کے سادے کھانے کھا کر، اور سال بھر میں ملنے والے ایک ہی سفید جوڑے میں دن گزار کر قرآن پاک کے پانچ پارے حفظ کر چکا تھا۔
تین برس بیت گئے۔ فرحان نے قرآن مجید حفظ کر لیا۔ جب اکرام صاحب اسے گھر لائے تو ماں نے اسے گلے سے لگایا۔ فرحان نے اپنی زندگی میں پہلی بار والدین کی آنکھوں میں اپنے لیے احترام کا ایک مدہم سا عکس دیکھا۔ مگر جب وہ اپنے بھائیوں کے سامنے آیا تو ایک غیر مرئی خلیج ان کے درمیان حائل ہو چکی تھی۔ عثمان اور عرفان کے پرفیومز کی خوشبو، ان کے جدید تراشیدہ کپڑے، اور فرحان کا سادہ کرتہ اور خاموشی—ان دونوں دنیاؤں کے درمیان کوئی پل باقی نہ رہا تھا۔
حفظ کے بعد فرحان کو شہر کے بڑے جامعہ میں ’درسِ نظامی‘ (عالمِ دین کورس) کے لیے بھیج دیا گیا۔ ادھر عثمان میڈیکل کالج کا درخشندہ ستارہ بن چکا تھا اور عرفان قانون (LLB) کی تعلیم کی طرف بڑھ رہا تھا۔
وقت پروں پر باندھ کر اڑتا رہا۔ اکرام صاحب کی کمر جھک گئی، ہاتھوں کی رگیں ابھر آئیں، مگر انہوں نے خون پسینہ بہا کر بچوں کی فیسیں دیں۔
پھر وہ دن آیا جس کا اکرام صاحب نے عمر بھر انتظار کیا تھا۔ عثمان نے MBBS کی ڈگری حاصل کر لی، عرفان نے وکالت کا امتحان پاس کر لیا، اور فرحان نے عالمِ دین کی دستارِ فضیلت اپنے سر پر سجائی۔
کامیابی کی اس مثلث میں تینوں بھائیوں کا سفر الگ سمتوں میں شروع ہوا۔
عثمان کو سرکاری ہسپتال میں زبردست عہدہ ملا، مگر جلد ہی مادیت پرستی کے زہر نے اس کے اندر کے طبیب کو نگل لیا۔ وہ مریضوں کو منٹوں میں نمٹاتا اور شام کو اپنے پرائیویٹ کلینک پر بھاری فیسیں وصول کرتا۔ اس کی شادی ایک امیر گھرانے کی ڈاکٹر سے ہوئی۔ شادی کے کچھ ہی عرصے بعد بہو نے اکرام صاحب کے پرانے اور تنگ مکان میں رہنے سے صاف انکار کر دیا۔ عثمان نے شہر کے پوش علاقے میں ایک عالیشان کوٹھی خریدی اور ماں باپ کو ان کی تنہائی کے سپرد کر کے الگ ہو گیا۔
عرفان اب شہر کا مانا ہوا وکیل بن چکا تھا، مگر اس کی مصروفیت اتنی بڑھ گئی کہ والدین سے ملنے کے لیے اس کے پاس اتوار کے چند گھنٹے بھی نہ بچتے۔
دوسری طرف، "نالائق" فرحان شہر کی جامع مسجد میں امامت اور تدریس سے وابستہ ہو گیا۔ لوگ اب اسے "مفتی فرحان" کے نام سے جانتے تھے۔ اس کے لہجے کی نرمی اور علم کی گہرائی نے لوگوں کے دل فتح کر لیے تھے۔ اکرام صاحب نے اس کی شادی اپنے ہی طبقے کی ایک سادہ، بااخلاق اور حافظہ لڑکی، قدسیہ سے کر دی۔
قدسیہ کے قدم مبارک ثابت ہوئے۔ اس نے اکرام صاحب اور شبانہ بیگم کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ وہ بوڑھے ساس سسر کے پاؤں دباتی، ان کی ادویات کا وقت یاد رکھتی۔ عرفان جب بھی کورٹ کے مقدمات سے تھک کر گھر لوٹتا، قدسیہ اس کے لیے گرم چائے بناتی۔ عرفان اکثر کچن کی دہلیز پر کھڑا ہو کر اپنے عجیب و غریب کیسز کے قصے قدسیہ کو سناتا، اور وہ خاموشی سے مسکرا کر سنتی۔ اکرام اور شبانہ مطمئن تھے کہ بڑا بیٹا الگ ہو گیا تو کیا ہوا، چھوٹا بیٹا اور یہ نیک بہو تو ان کے ساتھ ہیں۔
پھر… ایک بھیانک شام نے اس گھر کے سکون پر شب خون مارا۔
عثمان کسی میڈیکل کانفرنس کے سلسلے میں ملک سے باہر تھا۔ عرفان معمول کے مطابق شام کو گھر لوٹا تھا۔ قدسیہ کچن میں کھانا بنا رہی تھی کہ اچانک ابلتا ہوا گھی اس کے بازو پر گر گیا۔ اس کی خوفناک چیخ سن کر عرفان کچن کی طرف بھاگا۔ اس نے قدسیہ کو سنبھالا، گاڑی کی چابی اٹھائی اور اسے فوری طور پر ہسپتال لے گیا۔
اس رات، اکرام صاحب اور شبانہ بیگم صحن کی تاریکی میں بیٹھے منتظر رہے۔ رات ڈھلتی گئی، چاند مغرب کی طرف جھک گیا۔ انہوں نے عرفان اور قدسیہ دونوں کے فون ملائے—مگر دونوں کے نمبر مسلسل بند آ رہے تھے۔
وہ رات کبھی ختم نہ ہوئی۔
دن، ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے۔ پولیس رپورٹس، ہسپتالوں کے چکر، رشتہ داروں کے ہاں تلاش—سب بیکار گیا۔ عرفان اور قدسیہ یوں غائب ہوئے جیسے وہ کبھی اس زمین پر موجود ہی نہ تھے۔ اکرام، شبانہ اور فرحان نے اس حادثے کو اللہ کی کوئی ایسی آزمائش سمجھ کر صبر کر لیا جس کا کوئی جواب نہیں تھا۔ عثمان نے بھی چند دن افسوس کا اظہار کیا اور پھر اپنی مصروفیات میں گم ہو گیا۔
اس اندوہناک واقعے کے دو سال بعد…
مفتی فرحان صاحب کو ایک عالمی اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے لندن مدعو کیا گیا۔ ان کی دینی بصیرت اب بین الاقوامی حلقوں میں تسلیم کی جا چکی تھی۔ لندن کا ہال سامعین سے لبریز تھا اور مفتی فرحان کا خطاب اتنا مؤثر تھا کہ ہال میں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔
کانفرنس کے اختتام پر، آرگنائزرز کا قافلہ مفتی فرحان کو انتہائی احترام کے ساتھ ہوٹل کی طرف لے جا رہا تھا۔ لندن کی سڑکوں پر ہلکی بارش اور برفانی ہواؤں کا راج تھا۔
ایک مرکزی چوراہے پر ٹریفک کا سگنل سرخ ہوا اور ان کی گاڑی رک گئی۔
اسی لمحے، ان کی گاڑی کے بالکل برابر میں ایک چمکتی ہوئی بی ایم ڈبلیو (BMW) آ کر رکی۔ مفتی فرحان نے بے دلی سے گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھا—اور ان کا وجود جیسے برف بن گیا۔
اس گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر ان کا گم شدہ بھائی عرفان بیٹھا تھا! ساتھ والی سیٹ پر قدسیہ تھی—جس کے چہرے پر کوئی خوف، کوئی پچھتاوا نہیں تھا، بلکہ ایک آسودہ، جدید اور بے فکر مسکراہٹ تھی۔ اور پچھلی سیٹ پر ایک دو سالہ بچہ کھیل رہا تھا…
سگنل کی سرخ روشنی ان کے چہروں پر پڑ رہی تھی، بالکل اسی طرح جیسے سالوں پہلے فرحان کے رپورٹ کارڈ پر سرخ دائرے چمکتے تھے۔
سگنل سبز ہوا۔ بی ایم ڈبلیو کیمبرج کی سڑکوں کی طرف فرار ہو گئی… اور مفتی فرحان وہیں گاڑی کی سیٹ پر ساکت بیٹھے رہے۔ ان کے اندر کوئی چیز ٹوٹ کر ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔ وہ رشتہ، وہ سانحہ جس پر ان کے بوڑھے ماں باپ نے راتیں رو کر گزاری تھیں، وہ کوئی حادثہ نہیں تھا—وہ ایک سوچی سمجھی خیانت تھی، ایک اخلاقی فرار تھا!
فرحان نے لندن کے اس بھیانک سچ کو اپنے اندر دفن کر دیا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر انہوں نے یہ سچ اپنے بوڑھے اور اپاہج والدین کے سامنے کھول دیا، تو وہ اس صدمے کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔
پاکستان واپس آ کر، انہوں نے خاموشی سے والدین کی خدمت جاری رکھی۔ جب والدین کی تنہائی حد سے بڑھنے لگی، تو انہوں نے ان کی خواہش پر ایک غریب گھرانے کی پرہیزگار لڑکی سے عقد کر لیا تاکہ گھر میں دوبارہ کوئی سنبھالنے والا موجود ہو۔
ایک شام، صحن میں سورج کی آخری زرد کرنیں اکرام صاحب کے جھریوں زدہ چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ وہ لاٹھی کے سہارے بیٹھے فرحان کو وضو کا پانی لاتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
اکرام صاحب کی آنکھوں سے دو گرم آنسو نکل کر ان کی سفید داڑھی میں جذب ہو گئے۔
"فرحان بیٹا…" اکرام صاحب کی آواز میں بوجھل ندامت تھی۔ "ہم نے بچپن میں تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں کیں۔ تمہیں نااہل کہا… نالائق کہا… لیکن جن کی لیاقت پر ہمیں غرور تھا، وہ اپنی ڈگریوں اور روپوں کے زعم میں اپنے اخلاق، اپنے ضمیر اور اپنے باپ کا سایہ تک بھول گئے… اور جسے ہم نالائق سمجھتے رہے، وہی آج ہماری دنیا اور آخرت کا واحد سہارا بنا۔"
مفتی فرحان نے وضو کا لوٹا نیچے رکھا، آگے بڑھے اور باپ کے جھریوں بھرے ہاتھوں کو اپنے چہرے سے لگا لیا۔ ان کی مسکراہٹ میں ایک گہرا حزن تھا، مگر ان کا لہجہ اٹل تھا۔
"ابو جی! نالائق وہ نہیں ہوتا جو امتحان کے کاغذ پر فیل ہو جائے… نالائق تو وہ ہے جو رب کی تقسیم اور رشتوں کے تقدس کے امتحان میں ناکام ہو جائے۔ باقی سب تو محض دنیا کے دکھاوے ہیں۔"
صحن میں رات کا اندھیرا پھیل رہا تھا، مگر اس پرانے گھر کے صحن میں مفتی فرحان کی صورت میں ایک ایسا چراغ روشن تھا جس کی روشنی کو دنیا کی کوئی ناکامی بجھا نہیں سکتی تھی۔
------------------------------
📚 فرہنگ (مشکل الفاظ کے معنی):
• چوبین : لکڑی کا بنا ہوا
• ناسور : ایسا زخم جو جلدی ٹھیک نہ ہو یا مسلسل دکھ دے
• بیگانگی : اجنبیت، کٹاؤ کا احساس
• متروک : چھوڑی ہوئی، پرانی
• خلل : نقص، خرابی، رکاوٹ
• طبیب : علاج کرنے والا، ڈاکٹر یا حکیم
• زمزمہ : دھیمی سر میں گنگنانا یا پڑھنا
• خلیج : فاصلہ، گہری دوری
• دستارِ فضیلت : علم کی ڈگری یا اعزازی پگڑی
• مادیت پرستی : دنیاوی مال و دولت کو ترجیح دینا
• شب خون : رات کے وقت اچانک حملہ کرنا
• لبریز : لبوں تک بھرا ہوا
• ساکت : بالکل خاموش اور بے حرکت
• حزن : غم، دکھ
دُکھاوا : محض دوسروں کو دکھانے، متاثر کرنے یا واہ واہ سمیٹنے کے لیے کیا جانے والا عمل۔
• قالَ اللہ: "اللہ تعالیٰ نے فرمایا" (قرآنِ پاک کی آیات اور احکام کا بیان)۔
• زمزمہ: دھیمی سر یا خوبصورت ترنم میں گنگنانا، تلاوت کرنا یا ورد کرنا۔ (دینی مدرسے یا علمِ دین کی محفل میں قرآنی آیات اور اللہ کے احکام کی مسلسل، خوبصورت اور ترنم سے ہوتی ہوئی تلاوت یا ورد کا ماحول۔ جب فرحان اسکول کی دنیا سے نکل کر مدرسے میں داخل ہوتا ہے، تو وہاں کا تعلیمی و روحانی ماحول ظاہر کرنے کے لیے یہ ترکیب استعمال کی گئی ہے—یعنی وہ فضا جہاں ہر وقت قرآن و حدیث کی تلاوت اور تعلیمی گونج جاری رہتی ہے۔
📝 مصنف کا نوٹ: اس افسانے کے ذریعے مصنف قاری کو یہ بنیادی حقیقت سمجھانا چاہتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں کامیابی کا پیمانہ محض سکول کے نمبر، اعلیٰ ڈگریاں اور مادی آسائشیں بنا دیا گیا ہے، جبکہ انسانی اقدار، خلوص، اور رشتوں سے وفاداری کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔
مصنف اس بات پر زور دیتا ہے کہ دنیاوی ڈگری اور بظاہر "قابلیت" انسان میں اخلاقی بالیدگی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ بڑا بھائی اور چھوٹا بھائی دنیا کی دوڑ میں کامیاب ہو کر بھی اخلاقی اور خاندانی بنیادوں پر ناکام ثابت ہوئے، جبکہ بچپن سے "نالائق" قرار دیا جانے والا فرحان اپنے کردار، ایثار، اور والدین کی خدمت کے باعث دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب ٹھہرا۔ قاری کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ انسان کی اصل لیاقت اس کے اعلیٰ اخلاق اور رشتوں کو نبھانے کی ظرف میں پنہاں ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: