مرکزی خیال: یہ افسانہ بیوروکریسی کی لامتناہی کاغذی کارروائی، ریاستی بے حسی اور انسانی وجود کی بے حرمتی کا نوحہ ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ کس طرح ایک عام فرد کے خواب، امیدیں اور المیے فائلز اور سائن کے نام پر طویل انتظار کی سولی پر لٹکائے جاتے ہیں، یہاں تک کہ زندگی اور موت کا فرق بھی محض دفتری میزوں پر رکھے کاغذات کا محتاج ہو کر رہ جاتا ہے۔
کمرے کی حبس زدہ فضا میں ایک پراسرار بوجھل پن تھا۔ زرد بلب کی مدہم روشنی میں ماں کی کپکپاتی انگلیاں اپنے ہی دوپٹے کے کونے کو بے مقصدی سے مروڑ رہی تھیں۔ ان کی جھریوں سے لدی گردن پر رگیں ابھری ہوئی تھیں اور آنکھوں میں ایک ویران دشت کا سکوت پھیلا تھا۔
”وہ تمہیں کب بلائیں گے؟“ ماں نے گرد آلود کھڑکی سے باہر پھیلی تاریکی کو گھورتے ہوئے پوچھا۔ ان کے لہجے میں ممتا کا روایتی لمس نہیں، بلکہ اک سخت، نوکیلی سردی تھی جو ہوا میں جم گئی۔
”امی! کچھ روز تک بلا ہی لیں گے……“ طیب نے چارپائی کے کونے پر بیٹھے ہوئے، پرانے جوتے کے تسمے کھولتے ہوئے بیزاری سے جواب دیا۔ اس کی آواز میں تھکن اور ناامیدی کی گہری پرچھائیاں تھیں۔
”مگر کب؟“ اب کے ماں کا لہجہ قدرے ترش اور بے صبر تھا۔ ان کی آنکھوں کے دیدے سوکھی ہوئی ندی کے پتھروں کی طرح جم چکے تھے۔
”فائنل پراسس کے بعد…… جب میرے کاغذات اور انٹرویو کی فائل پر سارا پینل دستخط کر دے گا، مجھے بلا لیں گے۔“ طیب نے الفاظ کو تول تول کر یوں دہرایا جیسے وہ اپنے آپ کو تسلی دے رہا ہو۔ اس نے تمام تفصیلات ماں کے گوش گزار کیں۔
”کب آخر کب……؟“ ماں نے ذرا خفگی اور ایک نادیدہ خوف کے ساتھ اپنا سوال دہرایا۔ ان کے لرزتے ہونٹوں پر حسرت کی ایک زرد مسکراہٹ ابھری اور غائب ہو گئی۔
ماں کے کانپتے ہاتھوں، لرزتے ہونٹوں اور چہرے پر عیاں غصہ دیکھ کر طیب نے خاموشی میں ہی عافیت سمجھی۔ وہ خاموشی جو اب اس گھر کی مستقل مقیم بن چکی تھی۔
طیب کی ماں کافی عرصے سے گھریلو ذمہ داریاں اپنے ناتواں اور جھکے ہوئے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھی اور اس نے اپنے خون پسینے کی کمائی سے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔ ماں کا غصہ دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ وہی ماں ہے جس نے اپنی بھرپور جوانی کے دنوں میں خاوند کی ناگہانی وفات کے بعد اپنے اکلوتے بیٹے کی خاطر بہت سے رشتے ٹھکرا دیے تھے۔ اس نے دن رات لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھے، کپڑے دھوئے اور اپنے بیٹے کے تعلیمی اخراجات پورے کرتی رہی۔ وہ ہر صبح اپنے بیٹے کو اسکول جاتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتی، اپنے متورم ہاتھوں سے اس کا ماتھا چومتی، دعائیں دے کر رخصت کرتی اور دوپہر ڈھلے بیٹے کی راہ تکتی رہتی۔ ذرا سی دیر ہو جانے پر وہ باوضو ہو کر صحن کی چیختی ہوئی خاموشی میں بیٹے کی سلامتی کے لیے نوافل پڑھنے کی منتیں مانتی۔ لیکن آج وہی ماں انتظار کے ایک ایسے بنجر جزیرے پر کھڑی تھی جہاں امید کا کوئی درخت نہیں اگتا تھا۔
اخبار میں بھرتی کا بڑا اور بارعوب اشتہار سارے ڈگری ہولڈرز بڑے انہماک سے پڑھ رہے تھے۔ اشتہار کی چمکدار روشنائی میں بے روزگار نوجوانوں کو اپنی تیرہ و تاریک تقدیر کا ستارہ چمکتا ہوا محسوس ہو رہا تھا۔ لیکن درخواست دینے والوں کے لیے درخواست کے ساتھ دو ہزار روپے کا چالان بھی جمع کروانا لازمی تھا۔ طیب نے بھی اپنی ماں کے زیور کا اخری تنکا بیچ کر وہ رقم جمع کروائی اور درخواست بھیجی تھی۔
درخواستیں ارسال کرنے والے ہزاروں نوجوان اپنے ذہنوں میں تتلیوں جیسے رنگین خواب بننے لگے۔ سب اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے بے چین تھے۔ امتحان کے دن، امیدواروں کے چہرے خوشی سے کھلے جا رہے تھے۔ سارے امیدوار نہائے دھوئے، اجلے، استری شدہ کپڑے پہنے ہاتھوں میں اپنی ڈگریوں اور سرٹیفکیٹس کی فائلیں اٹھائے اک طویل قطار میں کھڑے تھے۔ لیکن ان کے چہروں کی چمک کے برعکس، صدر دروازے پر کاغذات کی پڑتال کی جا رہی تھی جہاں اک عجیب سی اجنبی اور خوفناک فضا تھی۔
کچھ فاصلے پر سیکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں میں پکڑے کالے، سفید اور بھورے رنگ کے قدآور کتے اپنی لمبی سرخ زبانیں باہر نکالے، چمکتے دانتوں اور تیز، خونخوار آنکھوں سے امیدواروں کا جائزہ لے رہے تھے۔ ان کتوں کے غرانے کی آوازیں اور تیز سانسیں قطار میں کھڑے نوجوانوں کے جسموں میں کپکپی دوڑا دیتی تھیں۔ کچھ نوجوان انہیں دیکھ کر شدید گھبراہٹ کا شکار بھی تھے، جیسے وہ ملازمت کے امتحان میں نہیں بلکہ کسی مذبح خانے میں داخل ہو رہے ہوں۔
جونہی کوئی درخواست گزار چیکنگ سے فارغ ہوتا تو اُسے سامنے بڑے ہال میں بھیج دیا جاتا۔ ہال کی شان و شوکت دیدنی تھی؛ خوبصورت ٹائلیں، اطراف میں ماربل کی چمکتی ہوئی دیواریں، چھت پہ جدید نقش و نگار، اور ایک جانب خوبصورت شیشے کی بڑی بڑی کھڑکیاں آنے والوں کو خوش آمدید کہہ رہی تھیں۔ شیشوں سے منعکس سورج کی طلائی کرنیں پورے ہال کو روشن کیے ہوئے تھیں، مگر اس چمک دمک میں انسانی احساس کی کوئی گرمی نہ تھی۔
ایک جانب بڑے سلیقے سے کرسیاں ترتیب دی گئی تھیں۔ ہر کرسی پر آنے والے کا نام اور رول نمبر آویزاں تھا۔ سامنے کھڑا ایک سخت گیر شخص امیدوار کا نام اور نمبر پکارتا، تو امیدوار ہال سے ملحقہ ایئرکنڈیشنڈ کمرے میں انٹرویو کے لیے تعینات افسران کے پاس چلا جاتا۔ انٹرویو میں ملکی حالات، موجودہ صورتِ حال، اسمبلی کی نشستوں کی تعداد، وزراء کے نام، خارجہ پالیسی اور پڑھائے گئے مضامین کے بارے میں پیچیدہ اور تفصیلی سوالات پوچھے جاتے۔ کچھ ہلکی پھلکی خشک مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوتا اور امیدوار انٹرویو سے فارغ کر دیا جاتا۔
انٹرویو دینے والوں کی اکثریت دل میں نوکری مل جانے کی ایک سنہری امید بسائے ہال سے باہر نکل رہی تھی۔ شام کے ملگجائے اندھیرے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ انٹرویو کے بعد کاغذات کی چھان بین اور دیگر مراحل کے مکمل ہونے اور نتائج مرتب کرنے کے لیے تین ماہ کی مدت کا باضابطہ اعلان بھی کیا گیا۔لیکن جب انٹرویو دینے کے بعد سال بھر کسی بھی امیدوار کو کوئی اطلاع نہ دی گئی، تو شہر کی گلیوں اور چائے کے ڈھابوں پر یہ افواہ بھی گردش کرنے لگی کہ تمام ملازمتوں پر تعیناتی انٹرویو کے دن سے ایک دن قبل ہی من پسند اور سفارشی افراد کی ہوچکی تھی۔ بعد کا پورا ڈرامہ اور کتوں کی موجودگی تو محض عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اور دو دو ہزار روپے بٹورنے کے لیے رچایا گیا تھا۔
”اِس ملک میں ہر شخص معیار اور پراسس کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے…… دیکھو نا! آج بھی میری فائل پہ دستخط نہیں ہوئے……“ ایک سرکاری دفتر کے تاریک اور بدبودار راہداری میں، نچلے درجے کے ایک ادھیڑ عمر ملازم نے اپنی پرانی فائل کو بغل میں دبائے اپنے ساتھی سے شکوہ کیا۔
”بھائی جان! میں نے تو دو دن قبل آپ کی فائل مکمل کرکے صاحب کی میز پہ رکھ دی تھی۔ وہ فائل چیک کرکے دستخط کر دیں گے……“ ساتھی نے چائے کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
”کب آخر کب……؟“ وہ روہانسی آواز میں، اپنی تھکی ہوئی آنکھوں کو سمیٹتے ہوئے کہنے لگا۔
”جب ان کا جی چاہے گا…… پھر جلدی بھی کیا ہے؟ فائل پراسس کے تحت ہی تو چلے گی!“ ساتھی نے ایک الم ناک طنز کے ساتھ زیرِلب مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”یہ ملک بھلا کیسے ترقی کرے گا……“ پہلا ملازم گہری سانس بھر کر قدرے مایوس اور شکست خوردہ لہجے میں بولا۔
دوسرے نے اُسے رسمی تسلی دی اور سامنے لکڑی کے بوسیدہ اسٹول پہ بیٹھے ہوئے نائب قاصد کو ہاک لگا کر چائے لانے کے لیے بھیج دیا۔ فائلیں اسی طرح میزوں پر گرد چاٹتی رہیں اور وقت سرکتا رہا۔
پورے ملک میں آئے روز پے در پے بم دھماکے ہو رہے تھے۔ کبھی کسی مصروف چوک میں تو کبھی چمکتے ہوئے شاپنگ پلازے میں…… کبھی گلی کے موڑ پر تو کبھی بس اسٹینڈ پر…… ہر شخص خوفزدہ تھا اور ایک بے یقینی کی زہریلی فضا اور بے اطمینانی کی کیفیت نے ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ اس دوران عقل و خرد سے عاری اور حقائق سے ناعلم افواہیں پھیلانے والے بھی متحرک تھے۔ اپنے تئیں یہ لوگ ”خدمتِ خلق“ کیے جا رہے تھے؛ بنا تصدیق باتوں کو آگے پہنچانا اور ہراس پھیلانا انہوں نے اپنی اخلاقی ذمہ داری بنا رکھا تھا۔
حکومتی عہدیدار ٹی وی اسکرینوں پر میک اپ زدہ چہروں کے ساتھ صبر کی تلقین کرتے دکھائی دے رہے تھے۔ بار بار یہی سسپنس بھرپور پیغام نشر ہو رہا تھا کہ ”صبر کریں اور قوم ظالموں کا مل کر مقابلہ کرے“۔ لیکن دوسری طرف، گلیوں میں بدحواس والدین اپنے گمشدہ بچوں کو ڈھونڈنے نکلے ہوئے تھے۔
دھماکے کی جگہ کا منظر قیامتِ خیز تھا۔ سامنے کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں جل کر نیست و نابود ہوچکی تھیں، ان میں بیٹھے اور اردگرد کھڑے لوگ لمحوں میں کوئلہ بن چکے تھے۔ کسی کی شناخت ممکن نہ رہی تھی۔ ٹی وی پر بار بار سنسنی خیز خبریں چلائی جا رہی تھیں، کیمروں کے زوم ہوتے لینس بکھرے ہوئے گوشت کے لوتھڑے اور کٹے ہوئے اعضاء دکھا کر ریٹنگ بڑھا رہے تھے۔ خون میں لت پت لوگ سڑکوں کی دھول میں کراہ رہے تھے، ہر جانب کہرام مچا ہوا تھا۔ کئی لوگ اپنے پیاروں کے غم میں نڈھال تھے اور شہر کے ہر دوسرے گھر میں صفِ ماتم بچھی ہوئی تھی۔
حکومتِ وقت کے اہلکاروں اور گاڑیوں کے سائرنوں کی دوڑیں لگی ہوئی تھیں۔ حکومت زخمیوں کی امداد اور مر جانے والوں کے لواحقین کو بڑی رقمیں دینے کے شاندار وعدے کر رہی تھی۔ گویا انسانی زندگی کی ایک قیمت مقرر کر دی گئی تھی—کتنے لاکھ روپے فی لاش! لوگ سماجی اداروں اور فلاحی مراکز کے باہر شور مچا رہے تھے، وہ اپنے پیاروں کی دھندلی تصاویر اٹھائے، روتے بلکتے جواب مانگ رہے تھے۔ ایک سرکاری افسر اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر بلند آواز میں قرآنی آیات اور احادیث سنائے جا رہا تھا جس کا مفہوم تھا: ”صبر کرو، اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے……“
سامنے کھڑے ہجوم میں سے ایک شخص نے پھٹی ہوئی آواز میں چلاتے ہوئے کہا: ”جناب! ہمیں ہمارے بچوں سے ملایا جائے……؟“
ساتھ کھڑے دیگر لوگ بھی غصے اور بے بسی سے چلانے لگے: ”ہاں ہاں! ہمیں ان کے بارے میں بتایا جائے…… وہ کہاں ہیں؟“
مگر دوسری جانب، المئے کا دوسرا رخ بھی قائم تھا۔ ایک شخص اپنے دوست کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہہ رہا تھا: ”شکر ہے یار! آپ بچ گئے اور آپ کی نئی کار بھی سلامت رہی!“ دونوں خوشی اور اطمینان سے گلے مل رہے تھے، ان کی بتیسیاں باہر نکلتی نظر آرہی تھیں۔ پھر وہ تیز قدموں سے ایک جانب چل دیے۔
دھماکے کی جگہ سے قدرے دور، گرد و غبار میں اٹی عورتیں چھاتیاں پیٹ پیٹ کر بین کر رہی تھیں، اپنے سر کے بال نوچ رہی تھیں، جبکہ مرد ایک جانب خاموش کھڑے زار و قطار رو رہے تھے۔ کسے دلاسہ دیا جائے، کس سے تعزیت کی جائے…… کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ادھر کئی لوگ اپنے گھروں میں آرام دہ ڈرائنگ رومز میں بیٹھے ٹی وی کے چینل بدل رہے تھے؛ ایسے چینل کا انتخاب کیا جا رہا تھا جو لاشوں، تباہ شدہ کاروں، خون میں لت پت زخمیوں اور ان کے چیختے عزیز و اقارب کو زیادہ واضح اور ڈرامائی انداز میں دکھائے۔ گھر میں جو بھی داخل ہوتا، گھر والے اسے دھماکے کی لمحہ بہ لمحہ تفصیلات سے برابر آگاہ کرتے اور اپنا حتمی تبصرہ بھی پیش کر دیتے جیسے یہ کوئی کرکٹ میچ کا آنکھوں دیکھا حال ہو۔
شہر کے تین بڑے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی تھی۔ دھماکے کے زخمیوں کو چیختی ہوئی ایمبولینسوں کے ذریعے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ کسی کی انگلیاں اڑ چکی تھیں تو کسی کا بازو غائب تھا؛ کوئی شخص صبح اپنے کام پہ تیز قدموں سے مسکراتا ہوا گیا تھا مگر اب اپنی دونوں ٹانگیں گنوا چکا تھا۔ کئی بچے اور بچیاں، جن کے چہرے پھولوں کی سی لطافت اور معصومیت سے بھرے تھے، خوف سے سہمے ہوئے، زردی مائل اور بے جان ہوچکے تھے۔ سامنے ایک خوبصورت ننھا بچہ اپنا ایک بازو گنوا بیٹھا تھا؛ اس کی معصوم چیخیں کانوں میں پڑتے ہی جگر چھلنی ہو جاتا تھا۔ ساتھ لیٹی روتی ہوئی بچی کی سسکیاں برداشت کے تمام پیمانے توڑ رہی تھیں۔لیکن اسی محشر میں کچھ ایسے درندے بھی تھے جنہوں نے اس دھماکے سے خاصی رقم اکٹھی کی۔ وہ بے حس لوگ لاشوں کی جیبیں ٹٹولتے رہے، ٹھنڈی پڑتی کلائیوں سے قیمتی گھڑیاں اتارتے اور خون سے لت پت بٹوے خالی کرکے اپنی روز کی ”دیہاڑی“ لگانے میں مصروف تھے۔ انہی کے کئی ساتھی تباہ شدہ دُکانوں سے قیمتی سامان اٹھا اٹھا کر بھاگ رہے تھے۔
وہ قیامت کا دن بھی گزر گیا۔ چند دنوں کے بعد ہسپتال کے عملے نے بھی مریضوں سے جان خلاصی شروع کر دی تھی۔ اب مریضوں اور لواحقین سے قدرے ترش اور بدتمیز لہجے میں باتیں کی جانے لگیں۔ ادویات ختم ہونے کا بہانا بنا کر کئی مریضوں کو بازار سے مہنگی ادویات لانے پہ مجبور کیا گیا۔ جن کے پاس پیسے تھے، وہ اپنے مریضوں کو نجی پرائیویٹ ہسپتالوں میں لے گئے تھے—آخر اسی سرکاری ہسپتال کے سینئر ڈاکٹرز شام کے وقت اپنے شاندار پرائیویٹ کلینک بھی تو چلاتے تھے!
پہلے پہل وزیر، مشیر اور ممبرانِ اسمبلی کیمروں اور میڈیا ٹیموں کے ہمراہ ہسپتالوں میں آتے۔ واقعے کی بھرپور مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ہمدردی اور مالی مدد کی یقین دہانی دلاتے؛ پھر آہستہ آہستہ ان کا آنا بھی بالکل ختم ہوگیا۔ حکومت کی طرف سے امدادی رقوم اور وعدے پورے کرنے کی ایک چھوٹی سی خبر اخبار کے کسی گمنام کونے میں نظر آتی، مگر یہ سلسلہ بھی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا…… وہ باتیں جو پہلے دن بڑے طمطراق سے کی جارہی تھیں، اکثریت بھول چکی تھی۔ اپنی چھاتیاں پیٹنے والیاں، بال نوچنے والیاں اور بین کرنے والیاں حکومت کے اعلان اور وقت کے مرہم کے مطابق ”صبر“ کرچکی تھیں۔ ایک افسردہ شخص نے ہسپتال کے باہر سگریٹ کا دھواں چھوڑتے ہوئے کہا: ”جو چلے گئے، انہیں اب واپس نہیں آنا…… بس دعائے خیر فرمائیں!“
اسی دھماکے کی ایک پراسیس فائل میرے ہاتھ میں تھی اور میری آنکھوں کے سامنے مسلسل گل فضا کا چہرہ گھوم رہا تھا…… وہ واقعی گل فضا تھی— جیسے ہوا میں پھولوں کی مہک گھلی ہو…… مگر آج اس گل فضا کے سامنے گل کی کیا حیثیت تھی؟ میں نے جب گل فضا کو دیکھا، تو اس میں پہلے جیسی کوئی بات نہ رہی تھی۔ اس کی شادابی کو غم کی دیمک چاٹ چکی تھی۔ اس کا خاوند بھی اسی اندوہناک دھماکے کی نذر ہوگیا تھا۔ خاوند کے اچانک چلے جانے سے وہ بے شمار معاشی اور معاشرتی مسائل سے دوچار تھی۔
اس کی چھوٹی اکلوتی بیٹی، ماں کا دامن پکڑ کر بار بار اس سے پوچھ رہی تھی: ”امی جی…… امی جی…… پاپا کب واپس آئیں گے……؟؟ بتائیں ناں……!!“
بچی کے اس بے گناہ اور معصوم سوال کا جواب ماں کے پاس آنسوؤں کی لڑی اور خاموشی کے سوا کچھ نہ تھا……پھر وہ بچی، ماں کی آنکھوں سے گرتے گرم آنسو دیکھ کر، اپنے ننھے اور نرم ہاتھوں میں ماں کا چہرہ لیتے ہوئے بڑی دانشمندی سے کہتی: ”امی جی…… آپ رو کیوں رہی ہو…… خاموش ہوجائیں ناں…… آپ نا روئیں…… میں اب آپ سے پاپا کا کبھی نہیں پوچھوں گی…… کبھی بھی نہیں!“
حکومت کی جانب سے متاثرین کے لیے کچھ مالی امداد کا اعلان ضرور کیا گیا تھا، جو ایک طویل اور پیچیدہ ”دفتری پراسس“ کے تحت ملنی تھی۔ سرکاری دفتر کے گرد آلود کوریڈور میں، معاوضے کی فائلیں لیے قطار میں کھڑی طیب کی ماں، اپنے ساتھ والی لاچار عورت سے پوچھنے لگی……
”ارے بہن! کیا ہماری فائلوں پہ دستخط ہوچکے ہیں……؟“
”کیا بتاؤں بہن! افسر کم کم ہی دفتر میں آتے ہیں، اور اگر آ بھی جائیں تو دستخط نہیں کرتے…… کہتے ہیں پڑتال ہو رہی ہے،“ عورت نے نہایت مایوسی اور تھکن سے جواب دیا۔
”کیا وہ دستخط کریں گے……؟“ طیب کی ماں نے ایک آخری آس کے ساتھ استفسار کیا۔
”ہاں ہاں…… ضرور کریں گے……“ عورت نے بوجھل دل سے، محض خود کو دلاسا دینے والے امید بھرے لہجے میں کہا۔
”مگر کب……؟“ طیب کی ماں نے اپنے کانپتے ہاتھوں، لرزتے ہونٹوں، اور عمر بھر کی تھکاوٹ سے بھرے لہجے میں سوال دہرایا۔ وہی سوال جو انہوں نے کبھی اپنے زندہ بیٹے سے پوچھا تھا، اور آج اس کی موت کے معاوضے کی فائل پر پوچھا جا رہا تھا۔
”……جب اُن کا جی چاہے!“ عورت نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے، بے زاری اور حتمی بے بسی سے جواب دیا۔ اور وہ طویل قطار، فائلوں کا ڈھیر، اور دستخط کا انتظار یونہی قائم رہا…… جیسے وقت جم گیا ہو۔
----------------------
مشکل الفاظ کے معنی:
• حبس : ہوا کا بند ہونا، گھٹن
• سکوت : خاموشی، سکون
• تیرہ و تاریک : بہت اندھیرا، تاریک
• مذبح خانہ : جانور ذبح کرنے کی جگہ، قصاب خانہ
• منعکس : عکاسی شدہ، عکس ڈالنے والا (Reflected)
• صفِ ماتم : سوگ منانے کا بستر یا مجلس
• استفسار : پوچھ گچھ، سوال کرنا
• ناگہانی : اچانک پیش آنے والی (مصیبت یا موت)
• لواحقین : پس ماندگان، مرحوم کے رشتہ دار
مصنف کا نوٹ : اس افسانے کے ذریعے بنیادی اخلاقی اور فلسفیانہ مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ معاشرتی اور دفتری نظام (System) میں انسان کا وجود، اس کے جذبات اور اس کا کرب کس طرح محض "کاغذی کارروائی" اور "پراسس" کی قربان گاہ پر بھیٹ چڑھ جاتے ہیں۔ جب ریاست اور ادارے کسی انسان کے دکھ کا مداوا کرنے کے بجائے اسے فائلوں کے طویل انتظار اور سفاک بے حسی کے سپرد کر دیتے ہیں، تو فرد اندر سے ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ یہ کہانی قاری کو اس تلخ حقیقت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہے کہ تاخیر سے ملنے والا انصاف یا امداد خود ناانصافی کی ایک ہولناک شکل ہے، اور جب تک نظام میں انسانیت کی رمق اور احساسِ ذمہ داری بیدار نہیں ہوتا، تب تک "کب آخر کب؟" کا سوال یوں ہی ہر معصوم اور مظلوم کے لبوں پر گونجتارہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: