مرکزی خیال:انسانی شخصیت کی تراش خراش بعض اوقات خاموش مشاہدے، ان کہی تربیت اور پوشیدہ محبت سے ہوتی ہے۔ سچا استاد الفاظ کے بجائے عمل اور خاموشی سے سبق دیتا ہے۔
ورکشاپ کی ہوا میں اب بھی وہی جانا پہچانا لمس تھا — لکڑی کی سوندھی بو، پالش کی تیز مہک اور فرش پر بکھرے برادے کی نمی۔ مگر کمرے کے وسط میں رکھی وہ پرانی، وزنی کرسی خالی تھی۔
اس نے زندگی کے پندرہ قیمتی سال اسی کرسی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کرتے ہوئے لکڑی تراشی میں گزارے تھے۔ ان تمام سالوں میں استاد کے لبوں سے کبھی اس کے کام کے لیے "شاباش" کا ایک لفظ نہیں نکلا تھا۔ نہ کوئی تحسین، نہ تھپکی، نہ کوئی آشکار سرپرستی۔ بس ایک باریک بین نگاہ جو ہمیشہ خاموشی سے نقص تلاش کرتی — کسی کونے میں نامحسوس کھرچن، جوڑ میں زرہ برابر میل، یا پالش میں معمولی سی دھند۔
آخردم وہ اس ضبط اور نقطہ چینی سے باغبانہ بغاوت کر بیٹھا۔ ورکشاپ چھوڑی، بڑا شہر بسایا اور اپنا الگ کارخانہ قائم کر لیا۔ چند ہی سالوں میں اس کے بنائے ہوئے فرنیچر کی دھوم مچ گئی۔ وقیع ادبی و تجارتی مجلوں نے اسے "نئی نسل کا فنکار شہسوار" قرار دیا۔ سیم و زر کی ریل پیل ہوئی، شہرت نے قدم چومے، مگر اندر کہیں ایک خلا برقرار رہا — وہ سخت گیر نگاہ جو اسے کبھی کامل نہیں مانتی تھی، اب تنہائی میں شدت سے یاد آنے لگی تھی۔ پھر اچانک استاد کے انتقال کی خبر آئی۔
ترکے کی وصیت میں لکھا تھا: "میرا پرانا ڈبہ میرے شاگرد کو سونپ دیا جائے۔"
اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ زنگ آلود ڈبہ کھولا۔ اندر اس کے بچپن اور ابتدا کے وہ تمام شاہکار ترتیب سے رکھے تھے جنہیں وہ خود ناکام اور ناقص سمجھ کر کباڑ میں پھینک چکا تھا — ایک ٹیڑھی میز، بے ڈھنگی کرسی، اور ایک پائے کی ادھوری الماری۔ ہر نمونے کے نیچے استاد کے خط میں تاریخ کے ساتھ تحریر درج تھی:
"پہلا قدم۔"
"پہلے سے بہتر۔"
"اب ہاتھ میں صفائی آ رہی ہے۔"
"تقریباً کامل۔"
اس کی آنکھوں کے سامنے ایک لمحے کو اندھیرا چھا گیا۔ ماضی کی پرتیں کھلنے لگی۔ اسے یاد آیا کہ استاد راتوں کو دیر تک ورکشاپ میں جاگتے رہتے تھے۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ اپنا کام کر رہے ہیں، لیکن درحقیقت وہ اس کے پھینکے ہوئے متروک ٹکڑے چنتے تھے، انہیں محبت سے سنوارتے تھے اور اپنی الماری میں محفوظ کر لیتے تھے۔
ڈبے کے سب سے نچلے خانے میں ایک چھوٹا سا کاغذ کا ٹکڑا تھا، جس پر استاد کی آخری تحریر تھی: "شاگرد کو کبھی خبر نہ ہو، مگر وہ میری زندگی کی سب سے بڑی اور کامل تخلیق ہے۔"
اس نے خط کو سینے سے لگایا۔ شمع کی دھیمی روشنی میں وہ دیر تک استاد کی خالی کرسی کے سامنے بیٹھا رہا۔ پھر اس نے لکڑی کا ایک نیا ٹکڑا اٹھایا، اس پر تیشہ چلایا، اور پہلی بار اپنے وجود کے اندر سے خود کو "شاباش" کہا۔
-------------
مشکل الفاظ کے معنی:
• زانوئے تلمذ طے کرنا: شاگردی اختیار کرنا، سیکھنا۔
• تحسین: تعریف، داد۔
• باریک بین: باریکی سے دیکھنے والا، پرکھنے والا۔
• سیم و زر: روپیہ پیسہ، دولت۔
• متروک: چھوڑا ہوا، پھینکا ہوا۔
مصنف کا مقصد: مصنف اس افسانے کے ذریعے یہ بتانا چاہتا ہے کہ حقیقی اساتذہ یا محسنین کا مقصد خود نمائی یا ظاہری تعریف نہیں ہوتا، بلکہ وہ خاموشی سے اپنے شاگرد کی شخصیت کو تراشتے ہیں۔ تربیت کا سب سے مؤثر ذریعہ الفاظ نہیں بلکہ استاد کا عمل اور اس کا غیر متزلزل ایثار ہوتا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: