عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

احترام میں یارانہ

احترام میں یارانہ - خاندانی محبت، احساس جرم سے نجات اور رشتوں کے احترام پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

مرکزی خیال: والدین کی محبت اور عطیات کو کبھی "قرض" یا "معاملہ" نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ رشتے محبت اور تعاون پر قائم ہوتے ہیں نہ کہ لین دین پر۔ اکثر انسان اپنے ماضی کے غیر ضروری احساسِ جرم اور وہم کی وجہ سے اپنے حال اور موجودہ خوبصورت رشتوں سے دور ہو جاتا ہے۔ سچی شفا اور سکون تبھی ملتا ہے جب انسان ماضی کے بوجھ کو چھوڑ کر اپنے زندہ رشتوں کو وقت، محبت اور "یارانہ احترام" دینا شروع کر دے۔


آج صبح بھی وہی ہوا۔ ناصر نے اپنے بیٹے کامران کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے خاموشی۔ وہ اندر گیا تو کامران اپنے فون پر مصروف تھا۔ ناصر نے کہا، "ناشتہ تیار ہے۔" کامران نے بغیر سر اٹھائے ہاں میں سر ہلایا۔ بس۔ یہی معمول تھا۔ باپ اور بیٹے کے درمیان ایک خالی کمرہ، بے معنی الفاظ کی آوازیں، اور بے انتہا خاموشی۔

ناصر اپنے چھوٹے سے ڈرائنگ روم میں بیٹھا پرانی الماری میں رکھی ایک بڑی سی البم نکال رہا تھا۔ اس نے کچھ ڈھونڈنا تھا۔ البم کے پہلے صفحے پر ہی وہ تصویر تھی۔ اکتوبر 2005 کی وہ شام۔ ناصر اپنے والد کے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا، دونوں کے چہروں پر وہی کھلی ہنسی جس میں کوئی دوری نہ تھی۔ باپ کا ہاتھ ناصر کے سر پر تھا۔ تصویر کے پیچھے لکھا تھا: "بابا کے ساتھ چائے خانے میں۔"

ناصر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ یہ تصویر اس راز کی کنجی تھی جسے وہ اٹھارہ سال سے چھپا رہا تھا۔ وہ راز جو اس نے اپنے بیٹے کامران سے، اپنی بیوی سے، بلکہ خود سے بھی چھپا رکھا تھا۔

بارش شروع ہو گئی تھی۔ کھڑکی کے شیشوں پر پانی کے قطرے لڑھک رہے تھے، جیسے آنسو۔ ناصر نے سوچا، بارش ہمیشہ اسے اسی شام کی یاد دلا دیتی تھی۔ 2005 کی وہی بارش۔ وہ اور اس کے والد اسی چائے خانے میں بیٹھے تھے۔ ناصر نے اپنے والد سے کچھ رقم مانگی تھی، کار خریدنے کے لیے۔

"ابا، بس آخری قسط ہے۔" ناصر نے کہا تھا۔

اس کے والد نے خاموشی سے اپنا بٹوہ نکالا، نوٹ گنے، اور ہاتھ میں تھما دیے۔ "لے جا۔ پر یاد رکھنا، گاڑی محض لوہے کا ڈھانچہ نہیں ہوتی۔ اس میں سفر کرنے والوں کا رشتہ بھی سوار ہوتا ہے۔"

ناصر نے کہا، "شکریہ ابا۔"

"شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں، بیٹا۔" والد نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی، "احترام کے اندر یارانہ ہو تو باپ بیٹے کے درمیان فاصلے ختم ہو جاتے ہیں۔"

یہی آخری جملہ تھا جو ناصر کے والد نے اس سے کہا۔ اگلے ہی دن، وہ اچانک دنیا سے چلے گئے۔ دل کا دورہ۔ ناصر کے ہاتھ میں وہی نوٹ تھے جو کار خریدنے کے لیے تھے۔ وہ رقم جو اس نے اپنے والد سے قرض لی تھی۔ اور اب وہ کبھی واپس نہیں کر سکتا تھا۔

یہ احساسِ جرم ایک چپکے زہر کی طرح اس کی رگوں میں اتر گیا۔ اٹھارہ سال سے وہ اس رقم کو واپس کرنے کی کوشش میں تھا۔ ہر ماہ، وہ ایک خاص رقم اپنے والد کے بینک اکاؤنٹ میں ڈالتا رہا۔ وہ اکاؤنٹ جو اب بند ہو چکا تھا، مگر ناصر جانتا تھا کہ وہ رقم کسی نہ کسی طرح اپنے والد تک پہنچانی ہے۔ اس نے ایک علیحدہ بچت کھاتہ کھولا، اور اس میں پیسے جمع کرنے لگا۔ بیوی کو بتایا کہ یہ کامران کی تعلیم کے لیے ہے۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اپنے والد کا قرض اتار رہا تھا۔

"ابا؟"

ناصر چونکا۔ کامران کمرے میں کھڑا تھا، اس کے ہاتھ میں دو چائے کے کپ تھے۔

"چائے لایا ہوں۔"

ناصر حیران رہ گیا۔ کامران خود سے چائے لے کر آیا تھا۔ یہ پہلا موقع تھا۔

"بیٹھو۔" ناصر نے کہا۔

کامران بیٹھ گیا۔ خاموشی پھیل گئی۔ ناصر نے البم بند کرنے کی کوشش کی مگر کامران نے پوچھ ہی لیا۔

"کیا دیکھ رہے تھے؟"

"کچھ نہیں... پرانی تصویریں۔"

کامران نے البم کی طرف دیکھا۔ "یہ دادی جان ہیں؟"

"نہیں۔ تمہارے دادا۔"

کامران نے تصویر اٹھا کر دیکھی۔ "آپ دونوں کتنے قریب ہیں۔"

ناصر کا گلا بند ہو گیا۔ "ہاں۔ قریب تھے۔"

"میرے اور آپ کے درمیان ایسا نہیں ہے۔" کامران نے بے ساختہ کہہ دیا۔

ناصر نے اس کی طرف دیکھا۔ کامران کی آنکھوں میں وہی سوال تھا جو اٹھارہ سال سے اس کے اپنے دل میں تھا۔ کیوں؟

"مجھے معلوم ہے، بیٹا۔" ناصر نے آہستہ سے کہا۔ "شاید میں اچھا باپ نہیں ہوں۔"

"نہیں، ایسا نہیں ہے۔" کامران نے جواب دیا، "آپ اچھے ہیں۔ مگر... دور ہیں۔ جیسے آپ کہیں اور رہتے ہوں، اور ہم یہاں۔"

بارش تیز ہو رہی تھی۔ ناصر نے ایک گہرا سانس لیا۔ وہ راز جو اٹھارہ سال سے اس کے سینے میں دبے پڑے تھا، اب اس کے ہونٹوں تک آ پہنچا تھا۔

"تمہارے دادا... مجھے ایک قرض دے گئے تھے۔" ناصر نے شروع کیا، آواز لرز رہی تھی۔ "اور میں وہ قرض کبھی واپس نہ کر سکا۔"

کامران نے حیرت سے دیکھا۔ "قرض؟"

"ہاں۔ کار خریدنے کے لیے۔ وہ آخری بار تھا جب میں نے ان سے کچھ مانگا۔ اگلے دن وہ چلے گئے۔" ناصر کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ "میں سمجھتا تھا کہ اگر میں وہ رقم واپس کر دوں، تو شاید... شاید میرا احساسِ جرم کم ہو جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ ہر ماہ میں رقم بچاتا رہا، مگر میرا بوجھ ہلکا ہونے کے بجائے اور بڑھتا گیا۔"

کامران خاموش بیٹھا سنتا رہا۔ پھر اس نے آہستہ سے کہا، "آپ جانتے ہیں، ابا... جب میں چھوٹا تھا، تو میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ آپ مجھ سے ناراض ہیں کہ میں نے کوئی غلطی کر دی ہے۔ آپ کبھی میرے ساتھ کھیلتے نہیں تھے، بات نہیں کرتے تھے۔ میں سمجھتا تھا کہ آپ مجھے پسند نہیں کرتے۔"

ناصر کا دل ٹوٹ گیا۔ "نہیں بیٹا... ہرگز نہیں۔"

"پچھلے ہفتے،" کامران نے اپنی بات جاری رکھی، "میں نے آپ کی الماری سے وہ پاسبوک دیکھی۔ جس پر 'والد صاحب' لکھا ہوا تھا۔ میں نے سوچا... شاید آپ اپنے والد کے لیے کوئی تحفہ جمع کر رہے ہیں۔ مگر پھر میں نے سوچا، وہ تو ہیں نہیں۔ پھر یہ رقم کس کے لیے؟"

ناصر نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ "میں ایک بیوقوف ہوں۔ اٹھارہ سال سے ایک مردہ شخص کو قرض واپس کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔"

کامران اٹھا، اور اپنے باپ کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے ناصر کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ یہ وہی انداز تھا جو تصویر میں ناصر کے والد کا تھا۔

"ابا،" کامران نے نرمی سے کہا، "دادا نے آپ کو قرض نہیں دیا تھا۔ وہ تو آپ کو دینا چاہتے تھے۔ والدین قرض نہیں دیتے، وہ دیتے ہیں۔"

یہ جملہ ایسا تھا جیسے کسی نے ناصر کے سینے سے ایک بھاری پتھر ہٹا دیا ہو۔ اس نے اپنے والد کے آخری جملے کو بار بار دہرایا: "احترام کے اندر یارانہ ہو تو باپ بیٹے کے درمیان فاصلے ختم ہو جاتے ہیں۔"

وہ سمجھ گیا۔ اس کے والد نے رقم کو قرض نہیں، ایک رشتے کی علامت سمجھا تھا۔ اور ناصر نے اٹھارہ سال اس رشتے کو ایک قرض سمجھ کر، اپنے بیٹے سے دوری پیدا کر لی تھی۔ اس نے ایک مردہ انسان سے معافی مانگنے کی کوشش میں، ایک زندہ رشتے کو بھلا دیا تھا۔

ناصر نے اپنا سر اٹھایا۔ "تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ میں نے... میں نے تمہیں نظر انداز کیا۔ معاف کرنا، کامران۔"

"کوئی بات نہیں، ابا۔" کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔ "ہم اب شروع کر سکتے ہیں۔"

ناصر نے البم میں سے وہ تصویر نکالی۔ "یہ لو۔ یہ تمہارے دادا ہیں۔ اور یہ میں ہوں۔ تم دیکھو، یہ رشتہ قرض یا ادائیگی کا نہیں تھا۔ یہ صرف... محبت کا تھا۔"

کامران نے تصویر کو غور سے دیکھا۔ "آپ دونوں کی آنکھوں میں وہی بات ہے جو آپ کی آنکھوں میں اب ہے۔"

"کیا؟"

"سکون۔"

بارش رک گئی تھی۔ کھڑکی کے باہر ایک صاف آسمان نظر آنے لگا تھا۔ ناصر نے اٹھ کر وہ پاسبوک اپنے بیڈروم سے نکالی۔ وہی جس میں اٹھارہ سال کی بچت تھی۔

"یہ لو، کامران۔" ناصر نے وہ پاسبوک اپنے بیٹے کے ہاتھ میں تھما دی۔ "اب یہ تمہاری ہے۔ تمہاری تعلیم، تمہارے خوابوں کے لیے۔"

کامران نے پاسبوک کو دیکھا، پھر اپنے والد کو دیکھا۔ "مگر ابا... یہ تو آپ نے دادا کے لیے جمع کی تھی۔"

ناصر نے مسکراتے ہوئے کہا، "اور تم ان کے پوتے ہو۔ یہ رقم اب تمہارے پاس ہی زیادہ بہتر جگہ ہے۔ تم اپنے دادا کا خواب پورا کرنا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی اولاد خوش رہے۔"

کامران کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ "شکریہ، ابا۔"

"نہیں بیٹا، شکریہ کی کوئی ضرورت نہیں۔" ناصر نے اپنے بیٹے کو گلے سے لگا لیا۔ "احترام کے اندر یارانہ ہو تو باپ بیٹے کے درمیان فاصلے ختم ہو جاتے ہیں۔"

اور اس لمحے، ناصر نے محسوس کیا جیسے اس کے والد بھی یہیں کہیں موجود ہیں، ان کی مسکراہٹ کمرے میں پھیل رہی ہے۔ اٹھارہ سال کا بوجھ اتر چکا تھا۔ راز کھل چکا تھا، مگر اس نے تباہی نہیں، تخلیق کی تھی۔ ایک نئے رشتے کی تخلیق۔

کامران نے پاسبوک کو الماری میں رکھتے ہوئے کہا، "ابا، کل صبح چائے خانے چلیں گے؟ صرف آپ اور میں۔"

ناصر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، "ضرور بیٹا۔ ضرور۔"

اور پہلی بار اٹھارہ سال میں، ناصر کو لگا کہ وہ سچ میں آزاد ہو گیا ہے۔ اپنے آپ سے، اپنے ماضی سے، اور اپنے خوف سے۔ اس نے ایک قرض اُتارا تھا جو کبھی تھا ہی نہیں۔ اور اب، وہ اپنے بیٹے کو وہ سب کچھ دے سکتا تھا جو اس کے والد نے اسے دیا تھا: بغیر کسی قید کے، بے حساب محبت۔

بارش کے بعد کی تازہ ہوا کمرے میں داخل ہوئی، اور ناصر نے محسوس کیا کہ زندگی دوبارہ شروع ہو رہی ہے۔ ایک نئی شروعات۔ ایک ایسی شروعات جس میں کوئی راز نہیں تھا، کوئی فاصلہ نہیں تھا—صرف ایک باپ اور ایک بیٹے کے درمیان وہ یارانہ احترام تھا جو تمام خالیوں کو پُر کر دیتا ہے۔

-------------

مشکل الفاظ کے معانی:

معمول : روزمرہ کا طریقہ / عادت

احساسِ جرم : اپنی کسی غلطی یا پچھتاوے کا دل میں بوجھ ہونا

پاسبوک : بینک کی کتاب جس میں رقم کا حساب ہوتا ہے

بے ساختہ : اچانک / بغیر سوچے سمجھے

یارانہ : دوستی / گہرا تعلق

تخلیق : نیا بنانا / وجود میں لانا

مصنف نوٹ: اس افسانے کے ذریعے مصنف یہ سمجھانا چاہتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کو جو کچھ بھی دیتے ہیں وہ کسی سود یا قرض کی نیت سے نہیں، بلکہ بے لوث محبت سے دیتے ہیں۔ ناصر اٹھارہ سال تک ایک ایسے قرض کو چکانے کی کوشش کرتا رہا جو کبھی تھا ہی نہیں۔ اس چکانے کے چکر میں وہ اپنے زندہ بیٹے سے دور ہوتا گیا۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: