عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

خاموش دیواریں

خاموش دیواریں - خاندانی تعلقات، وراثت کا تنازع اور درگزر پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

مرکزی خیال:"خاندانی تعلقات، محبت اور درگزر کی اہمیت" ہے۔ یہ داستان اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ والدین کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد مال و اسباب اور وراثت کی تقسیم انسانی رشتوں میں خاموشی کی دیواریں کھڑی کر دیتی ہے۔ تاہم، والدین کی محبت اور دعا کی اثر انگیزی اولاد کے درمیان دوریوں کو مٹا کر انہیں دوبارہ ایک ہی دھاگے میں پرو سکتی ہے۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ حقیقی دیواریں اینٹوں کی نہیں بلکہ دلوں کی خاموشی اور غلط فہمیوں کی ہوتی ہیں۔


(1)

وہ تصویر فریم میں قید تھی مگر اس کی آنکھیں اب بھی زندہ تھیں۔

صحن میں آم کے درخت کے نیچے کھڑے پانچ افراد—

ماں، باپ، اور ان کے تین بچے۔

سب کے چہروں پر وہ بے ساختہ مسکراہٹ تھی جو صرف ایک دوسرے کی موجودگی میں پیدا ہوتی ہے۔

اب وہی فریم میز پر رکھا تھا، اس کے سامنے تنہا بیٹھا وہ تیسرا بچہ، آفتاب۔

اور اس کے کان میں صرف ایک آواز گونج رہی تھی—"کیا تم ہی نے یہ دیوار اٹھائی ہے؟"

(2)

بارش کی پہلی بو آئی تو آفتاب نے کھڑکی بند کرنے کی کوشش کی۔

ہاتھ نے ساتھ نہ دیا۔

وہیں کھڑا رہا، آنکھیں باہر اُس صحن پر جمی رہیں جہاں ماں کی کھچڑی کی مہک اور باپ کے اخبار کی سرسراہٹ کب کی خاموشی میں دفن ہو چکی تھی۔

تین کمرے۔

ایک ہال۔

ایک صحن۔

اور تین اجنبی۔

جو ایک ہی خون کے تھے۔

ماں کے انتقال کے تیسرے دن بہن رابعہ کراچی واپس چلی گئی تھی۔

"بھائی، میرے پاس چُھٹی نہیں ہے۔"

باپ کے جانے کے بعد بڑے بھائی عامر نے گھر میں تالے لگوانے شروع کر دیے تھے۔

"وراثت کا معاملہ ہے، احتیاط ضروری ہے۔"

آفتاب کو اپنے ہی گھر میں مہمان بننے میں چھ ماہ لگ گئے تھے۔

(3)

رابعہ کا فون آیا۔

"امی کی یاد میں چراغاں کرنا ہے۔ آٹھویں ہے۔ تم دونوں گھر پر رہنا۔ میں آ رہی ہوں۔"

آواز میں وہی پرانی حکم تھی، مگر اب اس کے پیچھے کوئی ماں نہ تھی جو ناراضگی کو ڈھانپ لے۔

آفتاب نے عامر کو بتایا۔

"ٹھیک ہے۔ لیکن میرا کمرہ بند رہے گا۔ میں اپنے سامان کی ذمہ داری نہیں لے سکتا۔"

یہ جملہ اس نے دو مختلف موقعوں پر دو بار دہرایا تھا—پہلی بار جب ماں کی زیورات کی الماری کی چابیاں تقسیم ہوئیں، دوسری بار جب باپ کی لائبریری کی کتابیں بٹی تھیں۔

(4)

رابعہ پہنچی تو اس کے ہاتھ میں ماں کی پرانی سلائی مشین پر لگا ہوا کپڑے کا ٹکڑا تھا، جس پر گہرے نیلے رنگ سے کچھ لکیروں کے نشان تھے۔

"یہ کیا ہے؟" عامر نے پوچھا، اپنا موبائل فون چیک کرتے ہوئے۔

"پتا نہیں۔ مشین کے نیچے سے ملا۔"

آفتاب نے اس ٹکڑے کو پلٹا۔

اس پر ایک نقشہ تھا۔

گھر کا۔

لیکن اس پر تینوں کمرے الگ الگ رنگوں سے نشان زد تھے، اور ہر کمرے کے درمیان موٹی موٹی، ٹیڑھی لکیریں کھینچی گئی تھیں۔

نیچے ہلکے سے لفظ تھے: "میرے بچوں کے لیے۔"

(5)

رات کو بارش تیز ہو گئی۔

چھت سے پانی ٹپکنے لگا، وہی جگہ جہاں باپ ہر سال خود سیمنٹ لے کر چڑھتے تھے۔

تینوں بہن بھائی بالائی منزل پر کھڑے اس قطرے کو دیکھ رہے تھے جو بار بار ایک ہی جگہ گر کر فرش پر دھبہ بنا رہا تھا۔

"بند کرو اسے۔ کون سا ابّا ہیں جو آ کر مرمت کر دیں گے،" عامر نے کہا، مگر اس کی آواز میں تلخی نہیں، خالی پن تھا۔

رابعہ نے بالٹی رکھ دی۔

ٹپ۔ ٹپ۔ ٹپ۔

آواز نے خاموشی کو اور کاٹنا شروع کر دیا۔

آفتاب اچانک بولا، "اس نقشے کا کیا مطلب ہے؟"

عامر نے کندھے کھنچائے، "وراثت کی تقسیم کا پلان ہو گا۔"

"لیکن یہ لکیریں دیواریں نہیں ہیں۔ یہ تو… یہ تو دریا ہیں۔"

سب نے غور سے دیکھا۔

سچ تھا۔ وہ لکیریں اینٹوں کی سیدھی دیواریں نہیں تھیں۔ وہ گھومتی، بل کھاتی، ایک دوسرے میں ملتی ہوئی لہریں تھیں، جو تینوں کمروں کو الگ کرتی ہوئی بھی، ایک ہی سمندر سے نکلتی محسوس ہوتی تھیں۔

نیچے لکھے لفظ پوری طرح صاف نہیں تھے۔

رابعہ نے ٹارچ کی روشنی اس پر ڈالی۔

مکمل جملہ سامنے آیا: "میرے بچوں کے لیے۔ دریا بننے سے پہلے، ایک ہو جاؤ۔"

(6)

خاموشی کا دباؤ ٹوٹا۔

ٹپکنے والا قطرہ اب بالٹی میں گرتا، تو ایک گہرا، خالی سا شور پیدا کرتا۔

عامر پہلی بار اپنے کمرے سے باہر آیا اور چائے بنانے بیٹھ گیا۔

رابعہ نے سلائی مشین سے پرانے کپڑے نکالنا شروع کیے۔

آفتاب نے وہ نقشہ والا کپڑا حیرت سے دیکھا—یہ ماں کی وہ آخری سلائی تھی، جو وہ کینسر کے آخری دور میں بیٹھی کرتی رہتی تھیں۔

یہ کوئی نقشہ نہیں تھا۔

یہ ایک دعا تھی۔

خاموش۔

بے آواز۔

مگر ہر ٹانکے میں دھڑکتی ہوئی۔

"ہم نے ان کی آخری خواہش بھی نہ پڑھی،"

آفتاب کی آواز لرزی۔

"ہم نے تو بس وہ دیکھا جو ہم ڈھونڈ رہے تھے—حصے، ملکیت، حق۔"

(7)

صبح ہوئی تو بارش رک چکی تھی۔

صحن کا فرش دھلا ہوا تھا، اور آم کے درخت کے نیچے کی مٹی سے ایک ننھا پودا نکل آیا تھا، شاید کسی بھولے ہوئے بیج کا۔

تینوں بہن بھائی صحن میں کھڑے تھے۔

عامر نے اپنے کمرے کی چابی آفتاب کے ہاتھ پر رکھی۔

"آج چھت ٹھیک کرواتے ہیں۔"

رابعہ نے سلائی مشین کھول دی۔

"امی کا یہ کپڑا، اسے میں اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔"

یہ فیصلے نہیں تھے۔

یہ اعلان تھے۔

خاموش دیواروں کے اینٹیں ہلنے کا آغاز۔

(8)

آفتاب نے وہ پرانی تصویر دوبارہ اٹھائی۔

اب اس میں وہ پنجا نہیں تھا جو کل تک تھا۔

اب اس میں وہ مستقبل نظر آیا جو ماضی میں ہی درج تھا—ایک خاندان، ایک درخت کے نیچے، ایک ہی زمین پر کھڑا۔

دیواریں اینٹوں کی نہیں ہوتیں۔

وہ خاموشی سے بنتی ہیں، جب ہم بولنا چھوڑ دیتے ہیں۔

اور وہی خاموشی، جب ٹوٹتی ہے تو دریا بن جاتی ہے۔

بہنے والا۔

جوڑنے والا۔

اس نے تصویر فریم میں واپس رکھی، مگر اس کی آنکھوں سے جو پانی ٹپکا، وہ بالٹی میں نہیں، اپنے ہی ہاتھ پر گرتا رہا۔

گرم۔

زندہ۔

جیسے ماں کی چھوئی ہوئی کھچڑی۔

جیسے باپ کے شال کا کوئی کونہ۔

--------------------------

مشکل الفاظ کے معانی:

بے ساختہ: بلا جھجک / قدرتی انداز میں

تخلیق/وراثت: ترکہ / والدین کا چھوڑا ہوا مال و اسباب

چراغاں: روشنی کرنا / دیے جلانا

سرسراہٹ: ہلکی سی آواز (جیسے کاغذ یا کپڑے کی)

بل کھاتی: گھومتی ہوئی / موڑ لیتی ہوئی

تلخی: کڑواہٹ / سخت رویہ

لرزی: کانپی / تھرتھرائی

 مصنف نوٹ: انسان کا اصل اثاثہ اینٹ اور پتھر کے مکان یا وراثت کے حصے نہیں بلکہ وہ رشتے ہیں جو خون اور محبت سے جڑے ہوتے ہیں۔ اگر بول چال اور احساس برقرار رہے تو بڑی سے بڑی دیواریں بھی دریا بن کر محبت کے ساتھ بہہ نکلتی ہیں۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: