عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

یادِ ماضی Yaad-e-Maazi

یادِ ماضی - بوڑھے والدین کے احساسات پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

بوڑھے والدین کو دوائی نہیں، وقت چاہیے۔ روٹی نہیں، توجہ چاہیے۔ بوجھ نہیں، یقین چاہیے۔


مرکزی خیال:

بوڑھے والدین کو زندگی کے آخری ایام میں صرف مادی آسائشوں، روٹی یا دوائیوں کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنے بچوں کی توجہ، وقت اور ان کے ساتھ گزارے ہوئے چند لمحوں کے پیاسے ہوتے ہیں۔ کہانی یہ احساس دلاتی ہے کہ جیسے جیسے بچے اپنی مصروفیات میں گم ہو کر والدین سے دور ہوتے جاتے ہیں، والدین خود کو بوجھ سمجھنے لگتے ہیں۔ اصل خدمت یہ ہے کہ انہیں یہ یقین دلایا جائے کہ وہ اب بھی ہمارے لیے اتنے ہی اہم ہیں جتنے بچپن میں تھے، اور ان کا اصل سہارا صرف محبت اور اپنائیت کی گفتگو ہے۔


رات کے بارہ بجے تھے۔ ابو نے چائے مانگی۔

اماں نے کچن سے کہا۔ "ابھی دیتی ہوں۔"

قلم رکا۔ چھ ماہ سے ابو نے کچھ نہیں مانگا تھا۔ کھانا، دوائی، کمرہ، بند دروازہ۔ آج چائے تھی۔

اماں آئیں۔ ٹرے میں دو کپ۔ ایک بڑا، ایک چھوٹا۔ بڑا ابو کے پاس۔ چھوٹا میز پر۔

"سومو، اٹھ۔ ابو کے ساتھ بیٹھ۔"

اٹھا۔ دوپہر کو بھی نہیں تھے۔ شام کو بھی نہیں۔ کمرہ بند۔ پردے کھنچے۔ اندھیرا۔

بیٹھک میں گئے۔ چھوٹی بتی تھی۔ ابو بیٹھے تھے۔ ایک گھونٹ لیا۔

"آفس کیسا رہا؟"  

"ٹھیک تھا۔"

ہاتھ دیکھا۔ بریانی کا کپ تھا۔ دوپہر کا۔ میری پلیٹ میں دو چمچے۔ ابو کی خالی تھی۔

"پلیٹ خالی تھی۔"  

"بھوک نہیں تھی۔"

ڈاکٹر نے کہا تھا۔ کھانا ضروری ہے۔ اماں نے زور دیا تھا۔ ابو نے کھایا تھا۔ چمچ چمچ۔ آہستہ۔ آج نہیں کھایا۔

سگریٹ نکالی۔  

"سگریٹ اچھا نہیں۔"  

روز کہا۔ روز سنا۔ آج میز پر رکھ دی۔

ایک گھنٹہ گزرا۔ چائے ختم ہوئی۔ بیوی نے آواز دی۔ "سومو، آؤ؟"  

ابو نے بازو دبایا۔

"بیٹا، تمہیں پتا ہے…"

کھڑکی دیکھی۔ آنگن تھا۔ نیبو کا درخت بڑھا تھا۔ گلاب نہیں اگے تھے۔

"تمہارے بچپن میں…" بولے، "میں یہاں بیٹھ کر تمہیں دیکھتا تھا۔"  

"یاد ہے۔"  

"چھوٹی گیند سے کھیلتے تھے۔ جھولے کے نیچے گر جاتی۔ دوڑتے تھے۔"  

"ہاں۔"  

"اب جھولا نہیں ہے۔ تم نے ہٹا دیا تھا۔ بیوی کو جگہ چاہیے تھی۔ فلاور پاٹس کے لیے۔"

خاموشی۔

"لگا سکتے ہیں دوبارہ۔"  

ہنسے۔ آواز نہیں تھی۔ آنکھ ہلی۔ ہونٹ ہلے۔ ایک آنسو روکا۔

"تم جانتے ہو، بیٹا، جب تم سوتے ہو تو میں دیکھتا ہوں۔"

چونکا۔

"رات کو اٹھتا ہوں۔ تمہارے کمرے سے گزرتا ہوں۔ روشنی آتی ہے۔ تم سوئے نہیں ہوتے۔ موبائل ہوتا ہے۔ رکتا ہوں۔ اندر نہیں آتا۔ تم بڑے ہو گئے ہو۔"

سانس لی۔

"آج کہا، چلتا ہوں۔ مل لیتا ہوں۔ کیونکہ بچوں سے ملنا بھی اب ان کی مرضی ہے۔"

"ابو، ایسی بات نہیں۔"  

"نہیں۔ ناراض نہیں ہوں۔ اپنے اوپر ہوں۔ جب تم بچے تھے، میں کام سے نہیں ملتا تھا۔ اب تم کام سے نہیں ملتے۔"

چاند کا ٹکڑا تھا۔ دیکھا۔ پھر میری طرف دیکھا۔

"جانے والا ہوں، بیٹا۔ جلد۔ ڈاکٹر نے نہیں بتایا۔ جسم نے بتا دیا۔"

خالی کپ اٹھایا۔ پانی تھا؟ چینی تھی؟ پتہ نہیں۔

"کوئی مسئلہ نہیں ہے۔"  

"تم کہہ سکتے ہو۔ یہ ٹھیک ہے۔ میں تیار ہوں۔ بس ایک بات کہنی تھی۔ آج کہی۔"

"کیا؟"

کھڑکی کے پاس ڈائری تھی۔ دی۔

"یہ تمہارے لیے ہے۔ پڑھو یا نہ پڑھو۔ الفاظ رہیں گے۔"

کمرے میں گیا۔ کھولی۔ پہلے صفحے پر تھا:

"جب پیدا ہوا، اٹھایا تو ہاتھ کانپ رہا تھا۔ آج وہ میرا ہاتھ پکڑتا ہے تو اس کا ہاتھ کانپتا ہے — یہ زندگی ہے۔"

صبح کمرے میں گیا۔ سو رہے تھے۔ سرہانے پانی رکھا۔ دوائی رکھی۔ نوٹ رکھا:

"ابو، میں آپ کے لیے ہوں۔"

کھڑکی جھولے کی طرف تھی۔ شاید رات کو دیکھتے تھے۔ کب آؤں، کب جاؤں۔

آخری صفحہ پڑھا:

"بوڑھے ماں باپ اظہار نہیں مانگتے۔ بات مانگتے ہیں۔ سمجھ مانگتے ہیں۔ یقین مانگتے ہیں کہ وہ اب بھی ماں باپ ہیں۔ بوجھ نہیں۔"

--------------------------------

مشکل الفاظ کے معنی 

اکتفا: گزارا کرنا  

سرہانہ: تکیے کے پاس کی جگہ  

اظہار: ظاہر کرنا  

فلاور پاٹ: پھول کا گملا


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: