عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سیکھ Seekh

سیکھ - حال میں جینے اور زندگی کی حقیقت پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی
”حال میں جینا“ (Mindfulness) اور زندگی کی حقیقت کو بغیر کسی شرط کے قبول کرنا ہے۔


مرکزی خیال:

انسان اکثر دو انتہاؤں میں زندگی گزارتا ہے؛ یا تو وہ ماضی کے کسی بڑے دکھ کو سینے سے لگائے رکھتا ہے یا پھر مستقبل میں خوشیوں کو قید کرنے کی تگ و دو میں خود کو تھکا دیتا ہے۔ یہ افسانہ ہمیں سکھاتا ہے کہ:

  • حقیقی جینا کیا ہے: زندگی محض تماشائی بن کر ہنسنے یا غموں کا بوجھ اٹھا کر چلنے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ہر لمحے کو اس کی تمام تر سادگی کے ساتھ قبول کرنے کا نام ہے۔

  • بے غرض ہونا: جیسے درخت اپنے گرتے پتے نہیں گنتا بلکہ صرف سانس لیتا ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی ماضی کے پچھتائوں اور مستقبل کے اندیشوں سے آزاد ہو کر موجودہ لمحے میں جینا سیکھنا چاہیے۔

  • توازن کی اہمیت: خوشی اور غم دونوں عارضی ہیں۔ خوشی کو مستقل قید کرنے کی خواہش اور غم کو یاد رکھ کر خود کو سزا دینے کی عادت، دونوں ہی انسان کو بے چین رکھتی ہیں۔ سکون تب ملتا ہے جب انسان ان دونوں سے بالاتر ہو کر جینا سیکھ لیتا ہے۔


لوگوں کے درمیان وہ ہنس رہا تھا۔ ہنسی کے شور میں آنکھیں خالی تھیں۔ کسی نے کہا — ”بہت خوش ہو آجکل؟“ اس نے کندھے ہلا دیے۔

ایک دن کسی دوست نے چائے کی پیالی چھوڑتے ہوئے کہا:

”انسان عجیب ہے… ایک خوشی کو یاد نہیں رکھتا، مگر ایک غم کو عمر بھر سینے سے لگائے رکھتا ہے۔“

وہ خاموش ہو گیا۔

بس اتنا کہ پیالی پر ہاتھ ٹھہرا رہا۔ شام ڈھل گئی، لیکن اس نے نہ چائے پی نہ اٹھا۔ دوست چلا گیا۔ وہ ویسے ہی بیٹھا رہا — جیسے کوئی بھولی ہوئی چیز گن رہا ہو۔

پھر وقت گزرا۔

اس نے دیکھا کہ پتے کیسے زرد ہو کر گرتے ہیں۔ دیکھا کہ پانی بغیر آواز کے ابلتا ہے۔ راتوں کو وہ بجلی گھر کے بلب کی بھنبھناہٹ گنتا، پھر اچانک بجلی چلی جاتی — اور وہ اندھیرے میں آنکھیں بند کیے پڑا رہتا۔

ایک صبح وہ چائے کی دکان پر بیٹھا تھا۔ پچھلی سیٹ پر ایک بوڑھا بےزبانی روٹی توڑ رہا تھا۔ اس نے دیکھا — بوڑھے کے ہاتھ کانپ رہے تھے، لیکن روٹی کا ہر نوالہ ٹھہر ٹھہر کر منہ تک جاتا تھا۔ کوئی جلد بازی نہیں تھی۔

اس رات اس نے سوچا: ”میں نے کم وسائل میں جینا تو سیکھ لیا… لیکن زندگی کو جینا کب سیکھوں گا؟“

پھر وہ بدلا۔

نہ وہ زیادہ ہنسنے لگا، نہ زیادہ رونے لگا۔ وہ بس جینے لگا — جیسے کوئی درخت اپنے پتے نہیں گنتا، بس سانس لیتا ہے۔

ایک دن اسی دوست نے پوچھا:

”تم بدل کیسے گئے؟“

وہ مسکرایا۔ اس بار مسکراہٹ میں کوئی بوجھ نہیں تھا۔

چائے کی پیالی ہاتھ میں لیے بولا:

”میں نے غم کو یاد رکھنا چھوڑ دیا… اور خوشی کو قید کرنا بھی نہیں سیکھا۔“

پھر اٹھا اور چلا گیا۔

اس کے پیچھے صرف اتنا رہ گیا کہ اس دھول بھرے راستے پر اس کے قدموں کی آواز تھوڑی دیر سنائی دیتی رہی — پھر شہر کے شور میں گم ہو گئی۔

-------------------------

مشکل الفاظ کے معنی

افسانے میں استعمال ہونے والے چند اہم اور گہرے الفاظ کے معنی درج ذیل ہیں:

لفظمعنی
بھنبھناہٹدھیمی اور مسلسل گونجنے والی آواز (جیسے بلب یا مکھی کی آواز)
بےزبانیخاموشی، بغیر کچھ بولے، عاجزی
وسائلذرائع، اسباب، جینے کے سامان یا املاک (Resources)
قید کرناقابو میں لانا، اپنے قبضے میں لے لینا
دھول بھرےگرد آلود، مٹی سے اٹے ہوئے
ٹھہر ٹھہر کرآرام سے، بغیر کسی جلد بازی کے، وقفے وقفے سے


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: