عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سائے کا درخت Saaye Ka Darakht

سائے کا درخت - بزرگوں کی اہمیت اور جذباتی ضرورتوں پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی
 

مرکزی خیال:

 بزرگوں کی خاموش موجودگی، ان کی جذباتی ضرورتیں اور اولاد کی بے توجہی کا درد۔ جسے درخت کی علامت کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔ درخت صرف ایک شے نہیں بلکہ باپ کی یاد، بچپن اور تعلق کی علامت ہے۔


بارش ختم ہوئی تو شام ڈھل چکی تھی۔ نصرت نے پچھلی کھڑکی کھولی تو چھت سے ٹپکتی بوندیں اس کے چہرے کو چھو گئیں۔ اس نے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں۔

پچھواڑے میں آم کا درخت تھا — جسے اس کے والد نے لگایا تھا جب وہ پانچ سال کی تھی۔ درخت اب بہت بڑا ہو چکا تھا، شاخیں باہر کی دیوار تک پھیل گئی تھیں۔

"ابا کچھ کھانا چاہیں گے؟" اس کا بیٹا حمزہ کمرے سے باہر آیا، موبائل آنکھوں میں چپکا ہوا تھا۔

نصرت نے کھڑکی بند کی۔ "دودھ گرم کر رہی ہوں۔"

حمزہ نے بغیر دیکھے سر ہلایا اور واپس چلا گیا۔ اس کا کمرے کا دروازہ بند ہوا تو آواز گونجی۔

نصرت باورچی خانے میں گئی۔ پرانے چولہے پر دودھ چڑھا دیا۔ شیشے کی الماری میں رکھی پیتل کی گھنٹی پر نظر پڑی — جو اس کی والدہ کا تھا۔ ایک دفعہ اس نے یہ گھنٹی بجائی تھی تو پوری گلی میں بچے جمع ہو گئے تھے۔

اس نے گھنٹی کو ہاتھ لگایا۔ ٹھنڈی دھات نے انگلیوں کو جھنجھوڑا۔

رات کا کھانا تیار تھا۔ نصرت نے دسترخوان بچھایا۔ وہی پرانی چٹائی جس پر اس کے والد کھانا کھاتے تھے۔ پلیٹیں سجا دیں۔

"حمزہ کھانا۔"

حمزہ آتا رہا، کھاتا رہا، جاتا رہا۔ اس کی بیوی سارہ آن لائن میٹنگ میں مصروف تھی۔

نصرت نے اکیلی بیٹھ کر کھایا۔ آم کے درخت کی شاخ سے پرندہ اڑا تو اس نے دیکھا۔

رات کو دس بجے تھے۔ وہ کمرے میں گئی تو شوہر کی تصویر دیوار پر ٹنگی تھی — دس سال ہوئے مرے تھے۔ اس نے تصویر کے نیچے رکھے پھولوں کو بدلا۔

پھر اس نے باہر آنگن میں قدم رکھا۔ درخت کی چھاؤں پوری طرح پھیل چکی تھی۔ چاندنی رات تھی۔ اس نے درخت کے نیچے بیٹھ کر پرانے گھر کا نقشہ یاد کیا — جہاں بچپن میں وہ اور اس کے بھائی درخت پر چڑھتے تھے۔ جہاں ان کی والدہ نیچے کھڑی ڈانٹتی تھیں۔

"دودھ ابھی تک رکھا ہے،" اس نے خود سے کہا۔

وہ اندر گئی تو دال کا برتن ابھی تک چولہے پر تھا۔ اس نے اسے اتارا اور الماری میں رکھ دیا۔

رات گہری تھی جب وہ سوی۔ خواب میں درخت تھا — اور درخت کی جڑوں میں ایک چھوٹا لڑکا بیٹھا تھا۔ وہ اسے بلاتی رہی مگر وہ نہیں آیا۔

صبح ہوئی تو نصرت نے دیکھا — حمزہ نے پچھواڑے میں تعمیر کا سامان منگوا لیا تھا۔

"یہ کیا ہے؟"

"مما، ہم درخت کاٹ کر وہاں ایک کمرہ بنا رہے ہیں، سارہ کو اس کی ضرورت ہے—"

نصرت نے درخت کو دیکھا۔ وہ خاموش تھا۔

"تم نے مجھ سے پوچھا؟"

حمزہ نے چونک کر دیکھا۔ "مما، آپ کو تو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ آپ تو ہمیشہ کہتی ہیں یہ درخت بہت پرانا ہو گیا ہے—"

نصرت نے درخت کے نیچے جا کر اس کا تنہ تھاما۔ چھال اس کی ہتھیلی میں بس گئی۔

"یہ میرے باپ کا لگایا ہے،" وہ بولی۔ آواز ٹوٹی مگر آنکھیں خشک تھیں۔

حمزہ نے کہا، "مما، آپ بچوں کی طرح—"

"تم نے کبھی اس درخت کے نیچے بیٹھ کر میری باتیں سنیں؟" نصرت نے پوچھا۔ "جب تم چھوٹے تھے، میں تمہیں یہاں لاتی تھی۔ رات کو چاندنی میں۔ اب تم کہتے ہو پرانا ہو گیا۔"

حمزہ کی آنکھیں جھپکیں۔ اس کی بیوی سارہ باہر آ کر کھڑی ہو گئی۔

"اس درخت کے بغیر یہ گھر ادھورا ہے،" نصرت بولی۔ اس کی آواز اب پرسکون تھی۔ "جس طرح تم میرے بغیر ادھورے نہیں — لیکن میں سوچتی ہوں، شاید تم ہو۔"

وہ اندر چلی گئی۔ باورچی خانے میں جا کر اس نے گھنٹی اٹھائی اور بجائی۔ آواز پورے گھر میں گونجی۔

حمزہ نے درخت کو دیکھا۔ اس کی شاخوں سے ایک پرندہ اڑ کر نیچے آیا — اور اس کی بیٹی، جو ابھی تین سال کی تھی، درخت کی جڑوں میں جا کر بیٹھ گئی۔

حمزہ نے اپنی بیٹی کو دیکھا، پھر درخت کو، پھر اندر کی طرف۔

نصرت گھنٹی رکھ کر کھڑکی کے پاس آئی۔ اس نے دیکھا — اس کا پوتا درخت کے نیچے بیٹھا مٹی سے کھیل رہا تھا۔ حمزہ اس کے قریب گیا اور اس کے بالوں کو سہلایا۔

نصرت کی آنکھوں سے ایک آنسو نکلا۔ اس نے اسے فوراً پونچھا۔

شام کو حمزہ نے تعمیر کا سامان واپس بھیج دیا۔ اس نے باورچی خانے میں جا کر اپنی ماں کو دیکھا — وہ دودھ گرم کر رہی تھی۔

"مما،" اس نے کہا۔ "میں درخت کاٹنے نہیں دوں گا۔"

نصرت نے دودھ ہلاتے ہوئے کہا، "میں تمہارے لیے نہیں، اپنے لیے چاہتی ہوں یہ درخت۔"

حمزہ نے اسے گلے لگا لیا۔ نصرت نے محسوس کیا — اس کا بیٹا ابھی تک وہی چھوٹا بچہ تھا۔ بس اسے یاد نہیں تھا۔

رات کو جب سب سو گئے، نصرت آنگن میں آئی۔ درخت کی چھاؤں چاندنی میں اور گہری تھی۔ اس نے اپنی والدہ کی گھنٹی بجائی، ایک بار، بہت آہستہ۔

پوری گلی میں کسی نے نہ سنا۔ مگر درخت کی شاخیں ہل گئیں۔ اور نصرت کو یقین تھا — یہ اس کے باپ کا جواب تھا۔

-------------

الفاظ و معنی

لفظمعنی
پچھواڑاگھر کا پچھلا حصہ، پچھلا آنگن یا پشت۔
بے اختیاراپنے بس میں نہ ہونا، خود بخود (جیسے جذبات میں آ کر کچھ کرنا)۔
چپکا ہوایہاں مراد ہے بہت زیادہ مصروف یا مگن ہونا (موبائل میں دھیان ہونا)۔
جھنجھوڑاہلا کر رکھ دینا، بیدار کرنا، دل پر گہرا اثر ڈالنا۔
دسترخوانوہ کپڑا یا چٹائی جس پر کھانا چنا جاتا ہے۔
تنہدرخت کا وہ موٹا حصہ جو جڑ سے نکلتا ہے اور جس پر شاخیں قائم ہوتی ہیں۔
چھالدرخت کے تنے کے اوپر کا سخت چھلکا یا کھردری جلد۔
ادھوراناقص، نامکمل، جس میں کسی چیز کی کمی ہو۔
علامتنشانی، وہ چیز جو کسی گہرے یا چھپے ہوئے مفہوم کو ظاہر کرے۔
ادبی طاقتتحریر کا وہ انداز یا جملہ جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑے اور سوچنے پر مجبور کر دے۔

ایک اہم نکتہ: اس افسانے میں "درخت" محض لکڑی کا ایک ڈھانچہ نہیں ہے، بلکہ یہ "باپ کی شفقت اور پرانی یادوں" کی ایک خوبصورت علامت ہے۔ اسی طرح "گھنٹی" بزرگوں کی اس پکار کو ظاہر کرتی ہے جسے اکثر آج کی مصروف نسل سننے سے قاصر رہتی ہے۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: