مرکزی خیال: عقل صرف جواب دینے کا نام نہیں، خاموشی سے سننے کا فن بھی ہے۔ بوڑھا جوتے کی مرمت کرتے ہوئے دراصل انسان کی بے چینی کو سلائی دیتا ہے۔
شام کا وقت تھا۔ بازار بند ہو رہے تھے۔ ایک بوڑھا خواتین کے جوتوں کی مرمت کرتا تھا۔ اُس کی انگلیاں سُوجی ہوئی تھیں، لیکن وہ سلائی کرتا رہا۔
سامنے ایک نوجوان کھڑا ہو کر اسے دیکھ رہا تھا۔
"ابّا، آپ روز اتنے جوتے ٹھیک کر لیتے ہیں۔ مگر پیسے تو..."
بوڑھے نے آنکھ اٹھائے بغیر کہا، "بیٹا، میں جوتے نہیں ٹھیک کرتا۔"
نوجوان چونکا۔ "پھر کیا کرتے ہیں؟"
"میں لوگوں کو چلنا سکھاتا ہوں۔"
یہ کہہ کر اُس نے ایک جوتے میں سَلائی ڈالی۔ سوئی انگلی میں چبھی، لیکن اُس نے کوئی لفظ نہ کہا۔
نوجوان خاموش ہو گیا۔ اُس نے اپنے نئے جوتوں کی طرف دیکھا۔ پھر بوڑھے کے پھٹے ہوئے جوتوں کی طرف۔
کچھ دیر بعد اُس نے اپنے جوتے اُتارے۔
"ابّا، مجھے بھی... چلنا سکھا دو؟"
بوڑھے نے پہلی بار سر اُٹھایا۔ اُس کی آنکھوں میں بوڑھاپا نہیں، ایک عجیب سی روشنی تھی۔
"بیٹا، تم پہلے ہی چلنا جانتے ہو۔"
"تو پھر؟"
"تمہیں رُکنا سکھانا ہے۔"
نوجوان نے سنا تو لگا جیسے اُس کی جیب میں رکھا موبائل بج اُٹھا ہے۔ لیکن وہ خاموش ہی رہا۔
شام ڈھل گئی۔ بوڑھا آخری جوتے میں سلائی کر رہا تھا۔ اور نوجوان... وہ پہلی بار کسی جواب کا انتظار کر رہا تھا۔
بغیر لفظوں کے۔
بغیر سوالوں کے۔
--------------
الفاظ و معانی
قیمتِ عقل: عقل کی اہمیت، سمجھداری کا مول یا قدر۔
سُوجی ہوئی (انگلیاں): ورم آئی ہوئی، سوجن کی وجہ سے پھولی ہوئی۔
چونکا: حیران ہوا، یکدم چوکنا ہو گیا۔
سلائی ڈالنا: ٹانکا لگانا، سوئی دھاگے سے کپڑا یا چمڑا سینا۔
شام ڈھل گئی: شام کا وقت ختم ہونے لگا، رات کا آغاز ہونے لگا۔
بے چینی: بے قراری، اضطراب، سکون نہ ہونا۔
ایک خاص نکتہ: اس افسانے میں الفاظ بظاہر بہت سادہ ہیں، لیکن ان کا علامتی استعمال (جیسے "چلنا سکھانا" اور "رُکنا سکھانا") تحریر کی اصل خوبصورتی اور گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: