عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

پردہ Pardah

پردہ - خاندانی دباؤ، خوف کے مقابلے اور سچی محبت پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

مرکزی خیال: یہ افسانہ خاندانی توقعات، بے جا تنقید اور شوہر کی عدمِ توجہ سے پیدا ہونے والے روایتی اور نفسیاتی دباؤ کو اجاگر کرتا ہے، نیز یہ بتاتا ہے کہ انسان جب تک اپنے خوف کا مقابلہ کرنے اور سچی محبت کی حفاظت کے لیے عملی قدم نہیں اٹھاتا، تب تک تاخیر اور پچھتاوا ہی اس کا مقدر بنتا ہے۔


(1)

اس نے آئینے میں دیکھا تو سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا۔ وہی چہرہ، وہی آنکھیں، مگر اندر سے سب کچھ کھوکھلا ہو چکا تھا۔ لالٹین کی مدھم روشنی میں اس کے چہرے کے سائے بھی گہرے تھے، جیسے کوئی راز چھپانے کی کوشش میں ہر لمحہ مزید ڈوبتا جا رہا ہو۔

باہر بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکرا رہی تھیں، ہر ٹکراؤ کے ساتھ وقت کی گھڑی کی ٹک ٹک جیسا شور پیدا ہوتا۔ گھر میں سناٹا تھا۔ وہ سناٹا جو بظاہر امن دکھائی دیتا ہے مگر اندر کانپتی ہوئی خاموشی چھپائے ہوئے ہوتا ہے۔ کمرے کے ایک کونے میں، اس کے سامنے پڑی میز پر، ایک چمڑے کا پرانا بٹوا رکھا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا، پھر رک گیا۔ ہاتھ کانپ رہا تھا۔

چھ سال پہلے، یہی گھر رنگین پتنگوں سے سجے کانچ کے محل کی مانند تھا۔ رابعہ جب پہلی بار اس گھر میں آئی تھی، تو سارے رشتے دار اس کے حسن اور خوش اخلاقی کی تعریف میں رطب اللسان تھے۔ امی جان نے کہا تھا، "میرے بیٹے کی قسمت کھل گئی۔" چچا نے کہا تھا، "ہمارے گھر میں چاند اتر آیا ہے۔" وہ خود، عمار، فخر سے پھولا نہ سماتا تھا۔ رابعہ کی مسکراہٹ اس کے لیے پورے عالم کی دولت تھی۔

(2)

پھر وقت کے پہیے نے رخ پلٹا۔ رنگین پتنگوں کے تار باریک ہوتے چلے گئے۔ رابعہ کی وہی مسکراہٹ، جو پہلے حسن سمجھی جاتی تھی، اب "بے تکلفی" بن گئی۔ اس کی خاموشی، جو پہلے ادب تھی، اب "بے زاری" کا ثبوت ٹھہری۔ گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں وہی ہاتھ بٹانا، جو پہلے قابلِ تعریف تھا، اب اس کی "نااہلی" پر تنقید کا سبب بننے لگا۔ ہر بات پر تبصرہ، ہر حرکت پر نظر۔ امی کی "نرم نصیحتیں" چھوٹی چھوٹی شکایات میں بدل گئیں۔ بہنوں کی "شوخی" طعن و تشنیع کی نوک دار زبانیں بن گئیں۔

عمار درمیان میں کھڑا تھا۔ دونوں طرف۔ ایک طرف وہ محبت جس نے اس کی آنکھیں کھولی تھیں، دوسری طرف وہ توقعات اور رسمیں جو اس کی رگوں میں اس کی پیدائش سے پہلے ہی دوڑ رہی تھیں۔ وہ چپ رہتا۔ بس چپ رہتا۔ یہ سمجھا کر کہ خاموشی طوفان تھمائے رکھتی ہے۔ مگر وہ نہیں جانتا تھا کہ خاموشی بھی ایک طرفہ ہتھیار ہوتی ہے، جو صرف کمزور کو چیرتی ہے۔

راتوں کو جب رابعہ روتی، تو وہ اس کی پیٹھ تھپتھپاتا، کچھ کہنے کی کوشش کرتا، مگر زبان گویا مفلوج ہو جاتی۔ اس کے الفاظ ہوا میں تحلیل ہو جاتے۔ اس کا ضمیر جانتا تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے چنے ہوئے ساتھی کو اس کھڈ میں اکیلے پھینک آیا ہے۔ ایک ایسا کھڈ جس کی اینٹوں میں اس کے اپنے ہاتھوں کا گارا تھا۔

(3)

بارش تیز ہو گئی۔ عمار نے آنکھیں بند کر لیں۔ اس کے سامنے وہ صبح گھوم گئی جب رابعہ نے ناشتے کی میز پر چائے کا کپ تھامتے ہوئے کہا تھا، "عمار، مجھ سے نہیں ہو پا رہا۔"

اس کی آواز میں کوئی شکایت نہیں، کوئی غصہ نہیں، بس ایک تھکا ہوا سچ تھا۔ جیسے کوئی لمبے سفر کے بعد راستہ بھول گیا ہو۔

"کیا بات ہے؟" عمار نے اخبار کے پیچھے سے بے یقینی سے پوچھا تھا۔

"سب کچھ۔" رابعہ نے کہا تھا۔ "میں وہ رابعہ نہیں رہی جو تم نے چنی تھی۔ نہیں رہی۔ یہ گھر، یہ فضا… یہ مجھے کھا رہی ہے عمار۔"

اور پھر وہ لفظ جو اس نے کبھی سنا نہ تھا۔ رابعہ نے ہلکی، ٹوٹی ہوئی آواز میں کہا تھا، "مجھے ڈر لگتا ہے۔"

ڈر؟ اپنے ہی گھر میں؟ عمار کے منہ سے کوئی جواب نہ نکلا۔ بس اخبار کے صفحات کی سرسراہٹ اور باہر سے آتی چڑیوں کی چہچہاہٹ نے سناٹے کو اور گہرا کر دییا تھا۔

اس دن کے بعد رابعہ کی آنکھوں میں وہی ڈر جم گیا۔ ایک خاموش، مسلسل خوف۔ وہ گھر کے کام تو کرتی رہی، مگر جیسے کوئی مشین، بغیر جذبات کے، بغیر وجود کے۔ اس کی آنکھوں کی چمک ماند پڑ گئی۔ وہ جسم جو پہلے زندگی سے لبریز تھا، اب صرف ایک بوجھ لگنے لگا۔

پھر وہ دن آیا جب ڈاکٹر نے بتایا کہ رابعہ حاملہ ہے۔ گھر میں جشن کا سماں تھا۔ امی نے دعائیں دیں، بہنوں نے مبارکباد دی۔ سب کی نظریں رابعہ کے پیٹ پر تھیں، اس کی آنکھوں پر نہیں۔ عمار نے خوشی سے اسے گلے لگایا، مگر اس کے جسم میں کوئی جوابی حرکت نہیں ہوئی۔ وہ تو ایک مجسمہ تھی، ٹھنڈی، بے حس۔

حمل کے مہینے گزرتے گئے۔ رابعہ کی آنکھوں کا ڈر بڑھتا گیا۔ ایک دن اس نے عمار سے کہا، "مجھے یقین ہے، یہ بچہ ہمیں جوڑے گا۔ یہ سب کچھ بدل دے گا۔" اس نے پہلی بار کچھ امید کے ساتھ بات کی تھی۔ عمار نے اس کی بات کو حمل کے جذباتی اتار چڑھاؤ سمجھا۔

(4)

میز پر پڑا پرانا بٹوا عمار کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس نے آخر ہمت کر کے اسے کھولا۔ اندر ایک پرانی، پلٹی ہوئی تصویر تھی۔ منگنی کے دن کی۔ تصویر میں رابعہ اس کی بانہوں میں تھی، دونوں کی آنکھیں مستقبل کے خوابوں سے چمک رہی تھیں۔ تصویر کے پیچھے، رابعہ کے ہاتھ کی لکھی ہوئی وہ سطر تھی جو اس نے شادی کی پہلی سالگرہ پر لکھی تھی: "تم میرے ساتھ رہو، بس۔"

یہ بٹوا وہ چیخ تھی جو رابعہ کی خاموشی کے پیچھے دب گئی تھی۔ یہ وہ التجا تھی جو اس کی آنکھوں کے ڈر میں چھپی تھی۔ "بس تم میرے ساتھ رہو۔"

مگر وہ نہیں رہا تھا۔ وہ تو درمیان میں کھڑا ہو کر بھی دوسری طرف جھک گیا تھا۔ اس نے اپنی محبت کو اپنے ہی گھر کی رسمی دیواروں کے نیچے دفن کر دیا تھا۔

(5)

بارش تھم گئی تھی۔ گھر میں خاموشی نے ایک نیا، بھاری پن اختیار کر لیا تھا۔ عمار نے تصویر کو بٹوے میں واپس رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کا رخ بیڈروم کی طرف تھا۔ آج چھ ہفتے ہو گئے تھے۔

چھ ہفتے پہلے وہ صبح جب اس کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اور سب سے بڑا سانحہ ایک ساتھ واقع ہوا تھا۔ اسپتال کے کمرے میں رابعہ بے ہوش پڑی تھی۔ ڈاکٹر نے ایک صحت مند بیٹی اس کے ہاتھوں میں تھمائی تھی۔ سب خوش تھے۔ مگر رابعہ کی آنکھیں نہیں کھلی تھیں۔

"زیادہ دیر لیبر میں رہنے کے بعد کمزوری ہے۔ ابھی ہوش میں آ جائے گی،" ڈاکٹر نے کہا تھا۔ مگر وہ نہیں آئی۔ رابعہ کوما میں چلی گئی۔ ڈاکٹروں نے کہا، "یہ نفسیاتی ہو سکتا ہے۔ جسمانی طور پر تو سب ٹھیک ہے۔"

(6)

عمار نے بیڈروم کا دروازہ کھولا۔ بے حرکت بستر پر رابعہ پڑی تھی۔ اس کے پاس ایک چھوٹی سی سی آئی یو میں انکیوبیٹر تھا، جس میں ان کی بیٹی سورہی تھی۔ وہ روز آتا، رابعہ کے ہاتھ کو تھامتا، اس سے باتیں کرتا، اسے ان سب خوابوں کے بارے میں بتاتا جو انہوں نے اکٹھے دیکھے تھے۔ مگر آج کچھ اور تھا۔

وہ بستر کے کنارے بیٹھ گیا۔ اس نے رابعہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ اس کی انگلیاں بالکل بے جان تھیں۔

"رابعہ،" اس نے کہا۔ آواز پھٹی ہوئی تھی۔ "مجھے معلوم ہے تو سن رہی ہے۔ میں جانتا ہوں۔"

اس نے سانس لیا، جیسے پہاڑ کو ہٹانے کی ہمت جمع کر رہا ہو۔

"میں نے تجھے تنہا چھوڑ دیا۔ میں نے اپنی محبت کو اپنی ہی کمزوری کے آگے جھکا دیا۔ میں نے دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ میں نے سنا اور بہرہ ہو گیا۔ میں وہ شخص تھا جو تیرے اور تیرے ڈر کے درمیان کھڑا تھا، مگر میں نے تیرے ڈر کا ساتھ نہیں دیا۔ میں نے اس گھر کا ساتھ دیا جس نے تجھے کھایا۔"

اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکے، رابعہ کے ہاتھ پر گرے۔ "تو نے کہا تھا بچہ سب بدل دے گا۔ مگر رابعہ، تبدیلی اس بچے سے نہیں، میرے اندر سے آنی چاہیے تھی۔ اور وہ آئی نہیں… جب تک تو…" وہ رک گیا۔ کمرے میں صرف انکیوبیٹر کی مدھم، ریگولیٹڈ آواز سنائی دے رہی تھی۔

"آج ڈاکٹر نے مجھے بلایا تھا۔ اس نے کہا کہ کوما میں بھی، جب مریض کو کوئی جذباتی جھٹکا لگتا ہے، تو دماغی لہروں میں تبدیلی آتی ہے۔ آج، جب میں نے اپنی ماں سے کہا… کہ اب یہ میرا گھر ہے، رابعہ کا گھر، ہماری بیٹی کا گھر… اور اب سب کچھ وہی ہو گا جو رابعہ چاہے گی… اس وقت، تیرے دماغ کی سرگرمی میں ایک اتار چڑھاؤ آیا تھا۔"

عمار نے اس کا ہاتھ اپنے گال سے لگا لیا۔ "تونے سنا۔ مجھے یقین ہے تونے سنا۔ میں نے وہ حفاظتی حصار توڑ دیا ہے رابعہ۔ میں نے اپنی طرف سے وہ دیوار گرائی ہے جو تجھے تکلیف دیتی تھی۔ اب واپس آ جا۔ ہماری بیٹی کو اپنی ماں کی ضرورت ہے۔ مجھے… میرے اندر کے اس مرد کو، جو محبت کا دعویدار تھا مگر محافظ نہ بن سکا، اب اپنی عورت کی ضرورت ہے۔"

وہ خاموش ہو گیا۔ اس نے رابعہ کی بند پلکوں کی طرف دیکھا۔ لمحے گزرتے رہے۔ پھر، ایک معجزہ ہوا۔

رابعہ کی انگلی، جو سالوں سے بے حرکت پڑی تھی، ہلکی سی کانپتی ہوئی، عمار کے ہاتھ میں دب گئی۔

اتنا ہی۔ بس اتنا ہی۔

مگر عمار کے لیے، یہ ایک زلزلہ تھا۔ یہ ایک آغاز تھا۔ یہ وہ جواب تھا جو اسے زندگی بھر کی خاموشی کے بعد ملا تھا۔ اس نے اپنی بیٹی کو انکیوبیٹر میں دیکھا، جو معصومیت سے سورہی تھی۔ اس نے رابعہ کا چہرہ دیکھا، جس پر ایک ننھی سی، بالکل ہلکی سی، لکیر ابھر آئی تھی۔

عمار جان گیا۔ راز یہ نہیں تھا کہ رابعہ کیوں کوما میں چلی گئی۔ راز یہ تھا کہ وہ خود اپنے اندر کے خوف اور مجبوری کے کوما میں کب سے تھا۔ اور نجات کا راستہ، اس کے ہاتھ میں تھما دیا گیا تھا۔ ایک ننھی سی زندگی کی صورت میں، جو اب اس کی انگلی تھامے ہوئے تھی۔

باہر، بارش تھم چکی تھی اور صبح کی پہلی کرن کھڑکی کے پردے سے جھانک رہی تھی۔ گھر اب بھی وہی تھا۔ مگر عمار کے اندر، ایک نئی دیوار کی بنیاد پڑ چکی تھی۔ ایسی دیوار جو کسی کو باہر رکھنے کے لیے نہیں، بلکہ اندر کی محبت کو سہارا دینے کے لیے تھی۔

اس نے رابعہ کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں مضبوطی سے تھام لیا۔ اس بار، وہ ہاتھ نہیں چھوڑے گا۔

---------------------------

مشکل الفاظ کے معنی:

رطب اللسان: تعریف و توصیف میں رطب ہونا / ہر وقت تعریف کرتے رہنا

طوفان تھمائے رکھنا: تباہی یا جھگڑے کو روک کر رکھنا

طعن و تشنیع: طعنے دینا / بگاڑ کر بات کرنا اور تنقید کرنا

تحلیل ہونا: گھل جانا / غائب ہو جانا

مفلوج: بے حس و حرکت / سن ہو جانا

ماند پڑنا: پھیکا پڑ جانا / روشنی یا چمک ختم ہونا

مجسّمہ: پتھر یا مٹی کا بت

تھکا ہوا سچ: ایسی حقیقت جس میں لڑنے یا بحث کرنے کی ہمت نہ رہے

سانحہ: ناگہانی مصیبت / دردناک واقعہ

حفاظتی حصار: حفاظت کی دیوار یا دائرہ


مصنف نوٹ: خاموشی بعض اوقات طوفان کو ٹالتی نہیں بلکہ مظلوم کی روح کو اندر سے دبا کر ختم کر دیتی ہے۔ اپنے پیاروں کا تحفظ صرف زبانی محبت سے نہیں، بلکہ وقت پر ان کے لیے مضبوطی سے کھڑے ہونے اور ان کی آواز بننے سے حاصل ہوتا ہے۔

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: