عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

ماں کا بوجھ Maa Ka Bojh

ماں کا بوجھ - معاشرتی رویوں اور مکافاتِ عمل پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی
زینب بی مر گئی۔ مگر اب وہ تینوں بیٹے ساری عمر اس چارپائی کے گرد گھومتے رہیں گے۔



افسانے کا مرکزی خیال:

ایک ماں اپنی بساط سے بڑھ کر، ہر دکھ جھیل کر اپنی پوری زندگی اولاد کو پالنے اور انہیں ایک کامیاب انسان بنانے میں سرف کر دیتی ہے۔ لیکن وہی اولاد جب کامیاب ہو جاتی ہے، تو اپنی مصروفیات اور خود غرضی کی وجہ سے اسی ماں کو اپنے لیے ایک "بوجھ" اور "ذمہ داری" سمجھنے لگتی ہے۔ ماں کو پیسوں یا الگ کمرے کی نہیں، بلکہ اپنوں کے خلوص اور ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اولاد کو اس بات کا احساس تب ہوتا ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے اور ماں کا سایہ ہمیشہ کے لیے اٹھ جاتا ہے، جس کے بعد صرف پچھتاوا اور عمر بھر کا ملال ہی باقی رہ جاتا ہے۔



گاؤں کی کچی گلی میں ایک بوسیدہ گھر۔ دیواروں پر تھکن لکھی تھی۔  

اس گھر میں زینب بی رہتی تھی۔

شوہر کے بعد اس کے حصے میں تین بچے آئے… اور ایک لمبا امتحان۔

دن بھر لوگوں کے گھروں میں کام، شام کو کھیت، رات کو چراغ کے نیچے سلائی۔  

ہاتھ زخمی، آنکھیں دھندلی، مگر حوصلہ پتھر کی طرح۔  

وہ خود بھوکی رہتی، بچوں کا منہ دیکھ کر سیر ہو جاتی۔

وقت گزرا۔  

بچے بڑے ہوئے، پڑھے، نوکریاں پائیں۔  

ایک دن زینب بی نے سانس لیا — "اب محنت رنگ لائی۔"

پھر بہوئیں آئیں۔ اور دروازے بدلنے لگے۔

"اماں، کچھ دن بھائی کے پاس رہ لیں۔"  

"اماں، گھر چھوٹا ہے۔"  

"اماں، وہ اکیلا رہنا چاہتی ہے۔"

وہ چپ رہتی۔  

اپنا بستر اٹھاتی — اور اگلے دروازے کی طرف چل پڑتی۔

ماں اب "ذمہ داری" بن چکی تھی — باری باری نبھائی جانے والی۔

آخر فیصلہ ہوا:  

"اماں کو الگ کر دیتے ہیں۔ ہر کوئی خرچہ دے گا۔"

یہ سن کر زینب بی بی کے اندر کچھ ٹوٹا۔  

بس اتنا کہا:  

"میں نے تمہیں کبھی بانٹ کر نہیں پالا تھا۔"

کمرے میں خاموشی۔

اس رات اس نے لمبی دعا مانگی۔ شکوہ نہیں، بس تھکن تھی۔

اگلی صبح — دروازے کے باہر چارپائی پر، وہ خاموش لیٹی تھی۔  

چہرے پر ایسا سکون، جیسے کسی نے صدیوں کا بوجھ اتار دیا ہو۔

گاؤں والے جمع تھے۔ آنکھیں نم۔  

اور تینوں بیٹے… سر جھکائے کھڑے تھے۔

آج پہلی بار سمجھے تھے:  

ماں بوجھ نہیں ہوتی — ماں وہ زمین ہوتی ہے، جس پر کھڑے ہو کر بیٹے آسمان کو چھونا سیکھتے ہیں۔  

اور جب وہ زمین کھسکتی ہے تو عرش بھی لڑکھڑا جاتا ہے۔

----------------

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
بوسیدہپرانا، ٹوٹا پھوٹا، خستہ حال
سیر ہو جاناپیٹ بھر جانا، تسلی ہو جانا (یہاں مراد بچوں کو کھاتا دیکھ کر خوش ہونا ہے)
نبھائی جانے والیپورا کی جانے والی، گزارا کی جانے والی (فرض کی طرح ادا کرنا)
شکوہگلہ، شکایت
صدیوں کا بوجھبہت پرانی تھکن، زندگی بھر کی سختیاں اور تکالیف
نمگیلی، آنسوؤں سے بھری ہوئی (آنکھیں نم ہونا)
عرش لڑکھڑانابہت بڑا نقصان ہونا، خدا کا غضب یا آسمان کا ہل جانا (شدید صدمے کی علامت)
ملال / عمر بھر گھومناپچھتاوا، ضمیر کا ملامت کرنا اور کبھی سکون نہ پانا


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: