![]() |
| بعض گھروں میں آگ قربانی سے جلتی ہے۔ |
مرکزی خیال
کچھ گھروں میں تپش لوہے سے نہیں آتی۔ قربانی سے آتی ہے۔
سردی اس سال زیادہ تھی۔
شاید مجھے، عدنان کو، پہلے یوں محسوس نہیں ہوئی تھی۔
سعودیہ میں پسینہ بہتا ہے۔ یہاں ضمیر۔
گھر پہنچا۔ کواڑ کھلا۔ گرم سانس لگی۔
بیٹھک میں ہیٹر دہک رہا تھا۔ اماں، زبیدہ بیگم، بہنیں، چھوٹا بھائی۔ سب اس کے گرد۔ جیسے ساری تپش اسی لوہے میں بند ہو۔
جوتے اتارے۔ سلام کیا۔ قالین پر بیٹھ گیا۔
چائے کا پیالہ آیا۔ بھاپ اٹھی۔
ہاتھ پھر بھی ٹھنڈے تھے۔
باورچی خانے سے آواز آئی۔
چھپ… چھپ…
جیسے کوئی اپنا قرض خود چکا رہا ہو۔
وہ تھی۔ ہانیہ۔
ہاتھ نلکے کے نیچے۔ پانی برفاب۔ پوریں نیلی۔
برتن مانجھ رہی تھی۔ پلیٹ۔ چمچ۔ پتیلی۔
تکتا رہا۔ پھر نگاہ چرا لی۔
دیکھنا گناہ لگ رہا تھا۔
"اماں، ہانیہ اکیلی کیوں کر رہی ہے؟"
زبیدہ بیگم چونکیں۔ نگاہ چرائی۔ ہیٹر کی لو کو تکنے لگیں۔
جیسے گستاخی کر دی ہو۔
پیالہ نیچے رکھ دیا۔ بھاپ دم توڑ رہی تھی۔
اماں کی خاموشی میں سب پڑھ لیا۔ سوچا: یہ بھی کسی باورچی خانے کا ایندھن رہی ہوں گی۔
رات خواب آیا۔
میں ہیٹر کے سامنے۔ ہانیہ باورچی خانے میں۔
یکایک ہیٹر گل ہو گیا۔ یخ بستگی گھس آئی۔
بھاگا۔ باورچی خانہ خالی۔ صرف نلکا کھلا۔ پانی بہہ رہا۔
ہڑبڑا کر جاگا۔ پیشانی پر پسینہ۔ دسمبر کی رات میں۔
صبح چھن کی آواز۔
دوڑا۔ وہ فرش پر گری تھی۔ پانی۔ کرچیں۔ سٹیل۔
اماں آئیں۔ سہارا نہیں دیا۔ بس کہا: "دھیان سے، بیٹا۔"
اس "دھیان سے" میں سنکھیا تھا۔ سینے میں اتر گیا۔
برف کی سل دل پر رکھ دی۔
ہاتھ تھاما۔ یخ۔ ہڈیوں تک یخ۔
"چلو، بیٹھک میں۔"
لرز رہی تھی۔ بولی: "اماں کیا کہیں گی۔ کام ادھورا ہے۔"
دہلیز کی طرف دیکھ رہی تھی۔
زبردستی ہیٹر کے پاس بٹھایا۔
اماں آئیں۔ "عدنان، گھروں کے دستور ہوتے ہیں۔ تم نئے ہو۔"
"یہ دستور نہیں کہ کوئی انسان..."
"کیا انسان؟" آنکھ میں نمی نہیں تھی۔ سختی تھی۔ جو عورت خود سلگ کر کماتی ہے۔
"ہم نے بھی نبھائے ہیں۔"
چپ ہو گیا۔ یہ چپ پھانس کی طرح چبھی۔
دو پہر بعد۔ ہیٹر کے سامنے حلقہ۔ اماں، بہنیں، بھائی۔
باورچی خانے سے برتن کھڑکنے کی آواز۔ اکیلی۔
آدھی رات کو اٹھا۔
"تمہیں سردی نہیں لگتی؟"
دیر تک خاموش رہی۔ پھر بولی:
"تمہیں کیا معلوم… یہاں کچھ عورتیں سردی سہ کر ہی سانس لیتی ہیں۔"
جمعے کو کہا: "ہم الگ ہو رہے ہیں، اماں۔"
زبیدہ بیگم نے دیر تک دیکھا۔ بل نہیں آیا۔
"جاؤ، بیٹا۔ تمہارا گھر ہے۔"
آشیرباد تھی یا پھٹکار۔ آج تک نہیں سمجھا۔
نئے گھر میں ہیٹر چھوٹا تھا۔
پہلی رات دونوں اس کے سامنے۔
وہ لو کو تک رہی تھی۔ جیسے کرامت ہو۔
"یہ میرے لیے جل رہا ہے؟"
"اس لیے کہ تمہیں اب خود جلنا نہ پڑے۔"
پلک سے ایک آنسو ڈھلکا۔ صرف ایک۔
جیسے اندر جمی برف میں پہلا شگاف پڑا ہو۔
اماں سے ملنے جاتا رہا۔
بیٹھک وہی۔ ہیٹر وہی۔ چہرے وہی۔
میں اس حلقے کا حصہ نہیں تھا۔
ایک دن بلاوا آیا: "بہو کو لے کر آؤ۔"
گئے۔ وہی کمرہ۔ وہی تپش۔
قالین پر میرے لیے جگہ سمٹ چکی تھی۔
اماں نے ہانیہ کو پہلو میں بٹھایا۔ چائے بنائی۔
"بیٹا، سردی تو نہیں لگتی؟"
"اب نہیں، اماں۔"
اماں کے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔ بڑھاپے سے یا سردی سے۔
پیالہ ان کی طرف بڑھایا۔ تھام لیا۔ لبوں سے نہیں لگایا۔
"ٹھنڈی ہو گئی ہے۔"
ہانیہ اٹھی: "میں گرم کیے دیتی ہوں۔"
اماں نے ہاتھ تھام لیا۔ انگلیاں دبائیں۔ چھوڑ دیں۔
لوٹے۔ راستہ وہی تھا۔ ہم وہ نہیں رہے تھے۔
ہیٹر کے سامنے بیٹھے۔ اب سردی نہیں لگتی تھی۔
-------------------
مشکل الفاظ کے معنی
یخ بستگی: سخت سردی
سنکھیا: زہر
ایندھن: جلانے کی چیز
شگاف: دراڑ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: