![]() |
| بعض نام صرف نام نہیں ہوتے، نقشے ہوتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:
عورت کے جسم اور اس کی فطری پیچیدگیوں کو معاشرتی طور پر "پاگل پن" قرار دے کر دبانے کی کوشش، اور اس کے برعکس اپنے جسمانی ادراک کو قبول کرنے کی آزادی — یہ ایک داخلی بغاوت ہے جو علم و وراثت کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔
بس اتنا کہا تھا: حَیَل۔
قلم ہاتھ سے گر گیا۔ سیاہی پھیل گئی۔
کاغذ پر نام نہیں تھا۔ ایک نقش تھا۔ دھندلا۔ مگر کشش تھی۔
کاغذ پھینکنا چاہا۔ ہاتھ رک گیا۔
ہوا میں سرد لہر۔
الماری کے پیچھے کھڑکھڑاہٹ۔
کتابیں ہٹائیں۔ ایک پرانا ورق ملا۔
"وہ سمجھتی تھی میں پاگل ہوں۔
میں تو صرف اپنے جسم کی آواز سن رہی تھی۔"
دادی کا ورق تھا۔ جسے "ذہنی مریض" کہا جاتا تھا۔
نیچے دوسرا ورق۔ نیا۔
"حَیَل، تمہارا وقت قریب ہے۔ سچائی کا دروازہ کھل رہا ہے۔"
اگلے دن عمران کو بتایا۔
"ہمارے گھر میں کوئی راز ہے۔"
مسکرایا: "تخیلاتی دنیا۔ تمہیں آرام چاہیے۔"
یہی جملہ پچھلے مہینے بھی کہا تھا۔
جب جسم کی تبدیلیوں کے بارے میں بتایا تھا۔
ڈاکٹروں کے لیے بھی پہیلی تھیں۔
"یہ اوراق دیکھو۔"
"پرانی ڈائری ہے۔ ان چیزوں سے دور رہو۔"
شام کو اکیلی تھی۔
آواز آئی۔ مدھم۔ "حَیَل..."
دروازہ کھلا۔ باہر کوئی نہیں۔
ہینڈل پر کاغذ لٹکا تھا:
"تمہارا جسم ہی راستہ بتائے گا۔ اس کی آواز سنو۔"
کلائی پر نظر گئی۔ نشان تھا۔
قدیم علامت۔ دادی کی تصویر میں بھی یہی تھا۔
اگلے ہفتے لائبریری گئی۔
قدیم نسوانی راز۔ ہارمون۔ نفسیاتی کشمکش۔
ایک کتاب میں وہی علامت۔
نیچے لکھا تھا: "یہ 'حَیَل' کی ہے۔ جو نسلوں سے جسم کے راز سمجھتی آئی ہیں۔"
نام کا مطلب صرف نام نہیں تھا۔ ورثہ تھا۔
اسی رات دادی کا آئینہ دیکھا۔
عکس بدلا۔ کبھی جوان۔ کبھی بوڑھی۔
چھاپ پڑی۔ آئینے کے پیچھے دروازہ کھلا۔
سیڑھیاں نیچے گئیں۔
کمرہ تھا۔ کتابیں۔ ڈائریاں۔ عجیب آلے۔
میز پر خط:
"میری پیاری حَیَل۔
اگر یہ پڑھ رہی ہو تو سچائی مل گئی۔
ہماری نسل کی ہر عورت جسم کے راز جانتی ہے۔
ان سے دوسروں کی مدد کرتی ہے۔
دادی کو پاگل کہا گیا۔ مجھے بھی۔
اب تم جان گئی ہو حقیقت کیا ہے۔"
خط ماں کا تھا۔ پیدائش پر فوت ہو گئی تھیں۔
پیچھے آواز: "تمہیں یہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔"
عمران تھا۔ آنکھوں میں غصہ۔
"بتایا تھا ان باتوں میں مت پڑو۔ آرام کرو۔"
"آرام نہیں۔ سچائی چاہیے۔ مل گئی۔"
کلائی اٹھائی۔ نشان چمک رہا تھا۔
عمران پیچھے ہٹا۔
"یہ کیا ہے؟"
"وراثت۔ جسم کے رازوں کی طاقت۔
تم جیسے لوگ ہمیں پاگل کہتے ہیں۔
کیونکہ تمہیں کبھی سمجھ نہیں آئی کہ عورت کا جسم کیا رکھتا ہے۔"
ہوا چلی۔ کتابیں کھلیں۔
ہر کتاب میں وہی نشان۔
عمران ڈرا۔ "معاف کر۔ سمجھنا چاہتا ہوں مگر..."
"مگر کوشش نہیں کی۔ ہمیشہ بیمار کہا۔
اب جا سکتے ہو۔"
وہ چلا گیا۔
اب میں اس کمرے میں اکیلی ہوں۔
وراثت سمجھ رہی ہوں۔
"حَیَل" نام نہیں۔ طاقت ہے۔
ہر اس عورت کی طاقت جو اپنے جسم کی آواز سنتی ہے۔
چاہے دنیا کچھ بھی کہے۔
آج نیا ورق لکھا:
"عورت کا جسم راز ہے۔
اسے سمجھنے والا ہی طاقت پاتا ہے۔
ورنہ صرف اندازے رہ جاتے ہیں۔"
----------------------------
مشکل الفاظ کے معنی
طلسم: جادو
ہارمون: جسم کا کیمیکل
ورثہ: نسلوں سے چلی آنے والی چیز
کشمکش: اندر کی جنگ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: