![]() |
| سماجی منافقت، دکھاوے کی رسموں کا بوجھ اور انسانی جان پر جھوٹی عزت کو فوقیت دینے کا المیہ ہے |
مرکزی خیال: یہ کہانی ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ہمارا معاشرہ موت اور غم کے موقع کو بھی کھانے پینے اور نمائش کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ ایک باپ اپنی نام نہاد "عزت" اور "برادری کے ڈر" کی وجہ سے قرض لے کر دیگیں چڑھاتا ہے، جس کا بوجھ اس کے بیٹے کی جان لے لیتا ہے۔ افسانہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ حقیقی عزت برادری کے پیٹ بھرنے یا دیگوں کی تعداد میں نہیں، بلکہ سچائی، انسانی رشتوں کی قدر اور بےجا رسم و رواج سے آزادی میں ہے۔
ابھی میت گھر کے صحن میں پڑی تھی، اور باہر دیگوں کا حساب ہو رہا تھا۔
کشمیری چادر میں لپٹا لاشہ ایک طرف تھا، اس کے پائینتی چارپائی سے ٹنگا ہوا کپڑے کا پھندنا ابھی تک ہل رہا تھا، جیسے کوئی روح اپنے آخری ارتعاش چھوڑ گئی ہو۔ اندر کوئی نہ تھا۔ باپ، جسے سب چودھری صاحب کہتے تھے، باہر برآمدے میں کھڑا ایک کاغذ کے ٹکڑے پر انگلی پھیر رہا تھا۔ انگلی کے پوروں سے چپکے ہوئے چاول کے دانے کاغذ پر چھوٹی چھوٹی لکیریں کھینچ رہے تھے: تین دیگ چاول، دو دیگ گوشت، ایک دیگ دال۔ ہر لکیر کے آخر میں ایک عدد۔ یہ اعداد اس کی آنکھوں کے سامنے رقص کر رہے تھے، ان میں سے ایک ایک عدد نکل کر اس کے سینے میں اتر رہا تھا اور وہاں، اس جگہ جہاں ابھی چند گھنٹے پہلے تک اس کا دل دھڑک رہا تھا، ایک بھاری، بے ڈول پتھر بن کر جم جاتا تھا۔
"چودھری صاحب، اندازہ ہے نا؟ پچھلے جنازے والے حاجی فتح محمد کے ہاں تو پانچ دیگیں چل گئی تھیں۔ ہماری عزت کا سوال ہے۔"
یہ آواز تھی نذیر احمد کی، برادری کے وہ بزرگ جن کی داڑھی میں سفیدی اور آنکھوں میں حساب کتاب کی تیزی یکساں تھی۔ چودھری صاحب نے سر نہیں اٹھایا۔ اس کی نظر کشمیری چادر پر پڑی تھی جو سورج ڈھلنے کے ساتھ ساتھ رنگ بدل رہی تھی، شام کی لالی اس پر پڑ رہی تھی اور وہ گہری سرخ ہوتی جا رہی تھی، جیسے لہو۔ اندر سے ایک کھوکھلی آواز آئی، اس کی بیوی کی، جو ابھی تک بے ہوش پڑی تھی۔ ایک ہچکی کی آواز۔ پھر خاموشی۔
اس خاموشی میں، چودھری صاحب کو وہ آواز دوبارہ سنائی دی جسے وہ پچھلے چوبیس گھنٹے سے اپنے دماغ سے کھرچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ دروازے کی کھٹکھٹاہٹ۔ رات کے دو بجے۔ نیند میں دھنسے ہوئے اس نے دروازہ کھولا تو باہر اس کا بیٹا کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں، جو ہمیشہ شرارت سے چمکتی تھیں، خالی تھیں۔ کپڑے کھدرے۔ اور وہ بولا تھا، بس ایک جملہ: "ابّا، میں نے دیگ چڑھا دی ہے۔"
پھر وہ اندر آیا، اپنے کمرے میں گیا، اور دروازہ بند کر لیا۔ چودھری صاحب سمجھا کہ لڑکا، جو شہر میں ایک ہوٹل میں کام کرتا تھا، تھکا ہوا ہے۔ صبح جب چائے لے کر وہ کمرے میں داخل ہوا تو بیٹا چارپائی سے لٹکا ہوا تھا۔ گردن میں وہی رسی جس سے وہ گاؤں میں بچپن میں آم کے درخت پر جھولا ڈالا کرتا تھا۔ اور کمرے میں، خالی کمرے میں، صرف ایک خوشبو تیر رہی تھی... زرد چاولوں کی۔ وہ خوشبو جو اب باہر آنگن میں لگی بڑی دیگوں سے اٹھ رہی تھی۔
"ابّا؟"
ایک ہلکی سی آواز نے اسے چونکا دیا۔ اس کی چھوٹی بیٹی، عائشہ، دروازے کی اوٹ سے جھانک رہی تھی۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں، مگر ان میں ایک عجیب سی خشکی تھی، جیسے آنسو ختم ہو چکے ہوں۔ "امّی نے ہوش میں آ کر پوچھا ہے... کھانے کا انتظام ٹھیک ہے نا؟"
یہ جملہ، اپنی بیوی کے منہ سے، اس نے کتنی بار سنا تھا۔ شادیوں میں، ختنوں میں، یہاں تک کہ اس کے اپنے باپ کے جنازے میں۔ "کھانے کا انتظام ٹھیک ہے نا؟" یہ سوال ہمیشہ عزت، وقار، اور برادری میں چہرے کے سوال سے جڑا رہا تھا۔ آج، اس سوال میں ایک نئی ہیبت تھی۔
"ہاں بیٹا، ٹھیک ہے۔ جا، امّی کے پاس رہ۔"
عائشہ چلی گئی۔ اس کے جانے کے بعد، چودھری صاحب نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکالی۔ یہ چابی اس الماری کی تھی جو اس کے بیٹے کے کمرے میں تھی، جسے اس نے آج صبح، لوگوں کے آنے سے پہلے، تالا لگا دیا تھا۔ اس نے کسی کو اندر نہیں جانے دیا تھا۔ نہ ہی اس خوشبو کی طرف کسی کا دھیان گیا تھا۔
رات ہوئی۔ لوگ آئے۔ تعزیت کے چند فقرے، پھر نظر کا رخ آنگن میں لگی دیگوں کی طرف۔ دیگیں اب ابل رہی تھیں۔ بھاپ کے بادل اوٹ لگا رہے تھے میت کے چہرے کو۔ نذیر احمد نے آ کر سرگوشی کی: "پچاس کلو گوشت کم پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ چھڑاواں والے رحمت سے کہہ دو؟"
چودھری صاحب نے ہاں میں سر ہلایا۔ اس کا دماغ ایک الگ ہی کیلکولیٹر بن چکا تھا: مزید پچاس کلو گوشت، دو من چاول، تیل، مصالحہ... قرض۔ ہاں، رحمت چھڑاواں سے قرض۔ وہی رحمت جس کے ہاں اس کا بیٹا کام کرتا تھا۔ جس ہوٹل میں۔ جہاں سے وہ کل رات...
"چودھری صاحب، دل جمع رکھیں۔ یہ سب دین و دنیا کا حساب ہے۔"
یہ آواز تھی مولوی صاحب کی، جو نمازِ جنازہ پڑھانے آئے تھے۔ ان کی آنکھیں بھی دیگوں پر ٹھہری تھیں، مگر ان کے چہرے پر ایک مقدس بے حسی تھی۔ چودھری صاحب نے انہیں دیکھا۔ اسے اچانک اپنے بیٹے کا وہ جملہ یاد آیا جو اس نے ایک بار مولوی صاحب کی بات پر کہا تھا: "ابّا، یہ لوگ جنازے کو بھی ہوٹل بنا دیتے ہیں۔ روح سے زیادہ پیٹ کی فکر ہوتی ہے۔"
وہ کمرے کی طرف بڑھا۔ تالا کھولا۔ اندر وہی خوشبو، گہری ہو چکی تھی۔ اس نے الماری کھولی۔ اندر ایک پرانا سفید کپڑا لپٹا ہوا تھا۔ اس نے کپڑا کھولا۔ اس کے اندر ایک ڈائری تھی، اور ڈائری کے درمیان ایک خط۔
خط اس کی اپنی لکھائی میں تھا۔ چھ ماہ پرانا۔
"ابّا، آپ نے کہا تھا نا کہ ہماری عزت ہمارے دسترخوان کی وسعت میں ہے۔ آج رحمت چھڑاواں نے مجھے نکال دیا۔ چھ ماہ سے تنخواہ نہیں دی۔ کہتا ہے، تمہارے ابّا کا قرض ہے اس پر۔ وہ قرض جو آپ نے میرے بہن کی شادی پر اس سے لیا تھا۔ اب میں روز اس کی دکان پر مفت کام کروں گا، قرضے کی جگہ۔ میری عزت؟ وہ تو اس دن مر گئی تھی جب آپ نے میری خواہش کے خلاف، بہن کی شادی میں تیس دیگیں چڑھائی تھیں۔ میں آپ کا بیٹا ہوں۔ آپ کی عزت کا ایک زندہ قرضہ۔ اور اب... میں تھک گیا ہوں۔"
خط کے نیچے کوئی دوسری تحریر نہیں تھی۔ بس ایک نم داغ تھا۔ شاید آنسو کا، شاید پسینے کا۔
چودھری صاحب کا سانس رک گیا۔ اس کے سامنے کی دیوار پھر گئی۔ اس نے ڈائری کے آخری صفحے پر نظر ڈالی۔ کل کی تاریخ۔ صرف ایک لائن: "آج میں نے اپنے لیے دیگ چڑھا دی ہے۔ کوئی جنازہ نہیں، کوئی دعوت نہیں۔ بس ایک حساب ختم۔"
باہر سے آواز آئی: "چودھری صاحب! دیگیں اتر گئی ہیں۔ اب کیا حکم ہے؟"
اس کی آواز میں ایک نئی تیزی تھی۔ لوگ بھوکے تھے۔ رات گہری ہو رہی تھی۔
چودھری صاحب نے خط کو دوبارہ سفید کپڑے میں لپیٹا، اسے اپنے سینے سے لگایا، اور کمرے سے باہر نکلا۔ وہ برآمدے سے ہوتا ہوا سیدھا آنگن میں گیا، جہاں چھ بڑی دیگیں زمین پر رکھی تھیں، ان سے لپٹی ہوئی بھاپ آسمان کی طرف اٹھ رہی تھی۔ میت کے پاس چند عورتیں بین کر رہی تھیں۔
اس نے آواز دی، اس کی آواز میں ایک ایسی طاقت تھی جسے سب نے برسوں سے نہیں سنا تھا۔ "سب سنیں!"
سب خاموش ہو گئے۔ بین بند ہو گئی۔ نذیر احمد، مولوی صاحب، رحمت چھڑاواں... سب کی نظریں اس پر ٹھہر گئیں۔
"میرا بیٹا، میرا حسین..." اس کی آواز پہلی بار کانپ رہی تھی، "اس نے مجھے ایک خط لکھا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ عزت دیگوں میں نہیں ہوتی۔ عزت ہوتی ہے سچ میں۔ اور آج... میں وہ سچ تم سب کے سامنے رکھتا ہوں۔"
اس نے سینے سے لگا ہوا سفید کپڑا تھوڑا سا کھولا۔ خط نہیں دکھایا۔ بس اپنا سینہ دکھایا، جہاں دل ہونا چاہیے تھا۔
"میرے بیٹے نے اپنی جان اس لیے لی کہ میں نے اس کی زندگی کو اپنی عزت کے قرض میں گروی رکھ دیا تھا۔ یہ دیگیں..." اس نے دیگوں کی طرف اشارہ کیا، "...یہ دیگیں آج کھلانی ہیں، مگر کھانے والوں کے حصے میں ایک سوال آئے گا۔ کیا ہم نے کسی کے جنازے کو دعوت بنا دیا ہے؟"
سب کی سانس رک گئی۔ رحمت چھڑاواں کا چہرہ زرد پڑ گیا۔
"لہٰذا، یہ حکم ہے۔" چودھری صاحب نے کہا، "یہ تمام کھانا، ہر ایک دیگ، غریبوں، مسکینوں، یتیموں میں بانٹ دیا جائے گا۔ جو ہمارے مہمان ہیں، وہ صرف فاتحہ پڑھ کر جائیں۔ میرا گھر آج سے عزت کے قرض سے آزاد ہے۔"
ایک لمحے کے لیے ایسی خاموشی چھا گئی جیسے خود موت نے سانس روک لیا ہو۔ پھر نذیر احمد کے منہ سے بڑبڑاہٹ نکلی: "یہ تو... یہ تو بدعت ہے۔ رسم کے خلاف ہے۔"
مولوی صاحب نے آنکھیں جھکا لیں۔
تب ایک غیر متوقع آواز اٹھی۔ عائشہ تھی، جو اب اپنی ماں کا ہاتھ تھامے کھڑی تھی۔ اس کی ماں کا چہرہ ویران تھا، مگر اس کی آنکھوں میں ایک چمک تھی، جیسے کوئی بجھا ہوا چراغ پھر سے جل اٹھا ہو۔
"ابّا کا حکم سب سے بڑا ہے۔" عائشہ نے کہا، اس کی آواز میں اس کے بھائی جیسی ڈھٹائی تھی۔ "ہماری عزت اب ہمارے غم میں ہے، تمہارے پیٹ میں نہیں۔"
چودھری صاحب نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ اس نے ہلکا سا سر ہلایا۔ یہ سر ہلانا اس کے لیے ایک طویل خطبے سے زیادہ تھا۔
لوگ بغیر کھانا کھائے ہی جانے لگے۔ کچھ کے چہروں پر ناراضگی تھی، کچھ پر حیرت، مگر کچھ پر ایک عجیب سی شرم۔ دیگیں اٹھائی گئیں اور قریبی محلے کے فقیروں اور مزدوروں میں بانٹ دی گئیں۔
رات کے آخر میں، جب سب چلے گئے، چودھری صاحب اکیلا صحن میں کھڑا تھا۔ کشمیری چادر میں لپٹا لاشہ ابھی بھی وہیں تھا۔ وہ اس کے قریب گیا۔ اس نے چادر کے نیچے سے اپنے بیٹے کا ٹھنڈا ہاتھ پکڑا۔
"میں نے تیری دیگ اتروا دی، بیٹا،" اس نے کہا، آواز میں ایک عجیب سکون تھا۔ "اب تیرا حساب میرے اور تیرے رب کے درمیان ہے۔ میرا حساب... اب میں خود رکھوں گا۔"
اس نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا۔ ستارے چمک رہے تھے۔ دور کہیں سے ایک ٹھنڈی ہوا آئی، جس میں نہ چاولوں کی خوشبو تھی، نہ گوشت کی۔ بس خالص، بے نام ہوا تھی۔
اور اس ہوا میں، چودھری صاحب کو اپنے بیٹے کی وہ آخری خوشبو محسوس ہوئی، جو اب غم کے بعد آنے والی خالی جگہ کی خوشبو تھی۔ ایک ایسی جگہ جہاں اب کوئی قرض نہیں تھا۔
صرف ایک سچ۔ جو کمرے میں بند تھا، اور جو اب ہوا میں تیر رہا تھا۔
مشکل الفاظ کے معانی
پائینتی: چارپائی کا وہ حصہ جہاں پاؤں رکھے جاتے ہیں
ارتعاش: کپکپاہٹ / تھرتھراہٹ / لرزش
ہیبت: خوف / ڈر / دہشت
وسعت: کشادگی / پھیلاؤ
بدعت: دین یا قائم شدہ طریقہ کار میں نیا طریقہ نکالنا (عامیانہ استعمال میں: رسم کے خلاف کام)
بین کرنا: میت پر رو رو کر دکھ کا اظہار کرنا / وویلا کرنا
موہوم (ضمنی مفہوم): خیالی / جس کا حقیقت سے تعلق نہ ہو
کہانی کا مرکزی کردار "چودھری صاحب" اپنے بیٹے کی قربانی کے بعد اس دردناک سچ کو سمجھ پاتا ہے اور روایت کے بت کو توڑنے کی ہمت کرتا ہے۔ یہ افسانہ ہر قاری کے سامنے ایک سوال چھوڑتا ہے: کیا ہماری عزت اتنی ارزاں ہے کہ وہ کسی کے جنازے کی دیگوں اور لوگوں کے پیٹ بھرنے کی مرہونِ منت ہو؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم رسم و رواج کے اس غیر مرئی قرض کو اتارنا شروع کریں، اس سے پہلے کہ یہ ہماری انے والی نسلوں کو نگل جائے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: