![]() |
| بعض دراز تالا نہیں مانگتے، وقت مانگتے ہیں۔ |
مرکزی خیال
باپ اپنے خواب ایک بند دراز میں چھوڑ جاتا ہے۔ بیٹا اسے بہت دیر سے کھولتا ہے۔
سردی تھی۔ دھند کھڑکی سے اندر آ رہی تھی۔
بیٹے نے باپ کی الماری کھولی۔
بو آئی۔ نہ عطر کی۔ نہ کپڑوں کی۔
وقت کی۔ بند جگہ میں پڑی خاموشی کی۔
اندر ایک بنیان تھی۔ کہنیاں گھنی تھیں۔
ایک گھڑی تھی۔ سوئی بند تھی۔
ایک فوٹو تھی۔ ماں کی۔ جوانی میں۔
اور ایک دراز تھا۔ تالا نہیں تھا۔ بیٹے نے کبھی نہیں کھولا تھا۔
آج کھولا۔
کاغذ تھے۔ رسیدیں۔ تنخواہ کے سلپ۔ ڈاکٹر کے بل۔
نیچے لفافہ تھا۔
"میرے بیٹے کے لیے۔"
انگلیاں کپکپائیں۔ لفافہ کھولا۔
خط تھا۔ اور ایک چابی۔
خط میں لکھا تھا:
"آج تیری فیس جمع کرائی۔ میری گھڑی بیچ دی۔ بتانا تھا۔ تو سوتا تھا۔ پھر سوچا کیوں بتاؤں؟ تیری نیند قیمتی ہے۔"
تاریخ پندرہ سال پرانی تھی۔
بیٹے کو یاد آیا۔ دسویں کا امتحان۔ رات بھر سویا تھا۔
باپ سرہانے بیٹھا تھا۔ پیشانی چھوتا تھا۔ خبر نہ تھی۔
نیچے ایک اور کاغذ۔
نقشہ۔ چھوٹا گھر۔ باغ۔ ایک کمرہ: "بیٹے کا کمرہ"۔
پچیس سال بچائے تھے۔
بیٹے نے شہر کی نوکری لے لی۔ باپ نے بچت دے دی۔
آخری سطر: "اب یہ گھر کبھی نہ بنے گا۔ مگر شاید میرا بیٹا کسی اور گھر میں خوش ہو۔"
دراز بند کیا۔ الماری بند کی۔
دیوار کو تکیہ دیا۔
کمرے میں دھند تھی۔ آنکھوں میں بھی۔
بنیان اٹھائی۔ پہنی۔
موٹی تھی۔ سوراخوں سے ہوا آتی تھی۔ پھر بھی گرم تھی۔
یاد آیا۔ بچپن میں کہا تھا: "ابو، نئی بنیان لے لیں۔"
باپ مسکرایا تھا: "یہ ٹھیک ہے، بیٹا۔ مجھے سردی نہیں لگتی۔"
اب بیٹے کو سردی لگ رہی تھی۔
کالر میں منہ چھپایا۔ گھنٹوں بیٹھا رہا۔
اٹھا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا۔ دھند چھٹ گئی تھی۔
اندر کی دھند نہیں چھٹی۔
چابی اٹھائی۔ جیب میں رکھی۔
کس دروازے کی تھی؟ پتا نہیں۔
شاید کسی صندوق کی۔ جو باپ نے بند کیا تھا۔
شاید اس گھر کی۔ جو کبھی بنا نہیں۔
گھڑی اٹھائی۔ کان سے لگائی۔
سوئی بند تھی۔ مگر اندر ٹک ٹک تھی۔
مر نہیں تھی۔ رک گئی تھی۔ جیسے باپ کا وقت۔
گھڑی چلائی۔ سوئی چلی۔
اور سمجھ آیا۔
اب وقت اس کا تھا۔
باپ کا نہیں۔
----------------
مشکل الفاظ کے معنی
گھنی: موٹی، گھسا ہوا
سلپ: تنخواہ کا کاغذ
نقشہ: گھر کا خاکہ
ترجمان: بولنے والا

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: