عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

چھٹی روٹی Chhatti Roti

چھٹی روٹی - خاندانی اقدار، نفسیات اور باپ بیٹے کے رشتے پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی
باپ نے سمجھا: سب سے بڑی دولت وہ ہے جو تم کھا نہ سکو


مرکزی خیال:یہ کہانی ایک غریب مزدور باپ کی سچی ممتا، مفلسی کی مجبوریاں اور اس کے اندر چھپی اعلیٰ انسانی اقدار کو انتہائی پُرآثر انداز میں اجاگر کرتی ہے۔ باپ کے پاس محدود رقم (سولہ روپے) ہے، جس سے وہ یا تو اپنے بچے کی ضرورت اور خوشی (اسکول بیگ) خرید سکتا ہے یا پھر پورے خاندان کا پیٹ بھرنے کے لیے کھانا (روٹیاں)؛ اور وہ مجبوری میں پیٹ بھرنے کو ہی ترجیح دیتا ہے۔



وہ تھکا ہوا تھا۔ دن بھر کی مزدوری کے بعد جب گھر لوٹا تو پتہ نہیں کیوں، نظر بازار کی اس دُکان پر ٹھہر گئی جہاں پرانے فرنیچر کی نیلامی ہو رہی تھی۔ بچے کا اسکول بیگ پھٹ گیا تھا۔ چھ مہینے سے اسی پر ٹیپ لگا کر استعمال کر رہا تھا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔ سولہ روپے تھے۔ پندرہ روٹی کے لیے تھے، ایک میچ بکس کے لیے۔

دکان پر ایک بیگ پڑا تھا — دھندلے نیلے رنگ کا، زپ ٹوٹی ہوئی، لیکن پھر بھی بچے کے موجودہ بیگ سے بہتر۔ پوچھا: "یہ کتنے کا؟"  

"بارہ روپے۔"

اس نے بیگ اٹھایا۔ اندر سے کچھ گرا۔ کاغذ کا ٹکڑا تھا، پرانا، مڑا ہوا۔

اس نے پڑھا۔

ہاتھ کانپنے لگے۔

کاغذ پر لکھا تھا: "اس بیگ میں میری آخری روٹی رکھی تھی۔ جسے یہ ملے، وہ کسی کو بھوکا نہ رکھے۔ — ایک مزدور"

اس نے بیگ نیچے رکھ دیا۔

دکاندار بولا: "لے لے بھائی، سات میں دے رہا ہوں۔"  

اس نے سر ہلایا۔ جیب سے پندرہ روپے نکالے، روٹی خریدی، اور بیگ چھوڑ آیا۔

رات کو بچے نے پوچھا: "ابا، میرا بیگ ٹھیک ہو گیا کیا؟"  

اس نے بیٹے کے سر پر ہاتھ رکھا۔  

"کل، بیٹا۔ کل سب ٹھیک ہو جائے گا۔"

روشنی بجھی۔ بچہ سویا۔ اور وہ باپ رات بھر اس کاغذ کے ٹکڑے کو سوچتا رہا جو اس نے نہیں خریدا تھا۔

-----------------

مشکل الفاظ کے معنی 

نیلامی: کسی سامان کو سرِعام سب سے زیادہ قیمت دینے والے کے ہاتھ بیچنے کا عمل۔

دھندلے: جو صاف دکھائی نہ دے، مدہم، پرانا یا مٹیالا۔

مُڑا ہوا: تہہ کیا ہوا، مروڑا ہوا (کاغذ)۔

میچ باکس: ماچس کی ڈبیہ

سیاہی پھیلنا: پنسل یا قلم کی روشنائی کا کاغذ پر بکھر جانا (جو پرانے کاغذ کی علامت ہے)۔

اقدار: قدر کی جمع، اچھے اصول یا اخلاقی باتیں (جیسے انسانی اقدار)۔

شدت: سختی، تیزی، یا کسی چیز کا بہت زیادہ ہونا (جیسے بھوک کی شدت)۔

----------------------

مصنف نوٹ: افسانے میں مرکزی چیز وہ پرانا کاغذ ہے جس پر لکھا ہے: "جسے یہ ملے، وہ کسی کو بھوکا نہ رکھے"۔ یہ جملہ مزدور کے دل پر گہرا اثر کر جاتا ہے۔ وہ خود غریب اور وسائل سے محروم ہونے کے باوجود دوسرے انسان کی بھوک کا درد شدت سے محسوس کرتا ہے، اور بیگ کی حسرت چھوڑ کر روٹی خرید لیتا ہے؛ کیونکہ وہ خود محنت کش ہونے کے ناطے بھوک کی اذیت اور اس کی سچی شدت سے بخوبی واقف ہے۔

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: