![]() |
| ہڈیوں میں اترتی سردی پر رشتوں کی تپش بھاری پڑ گئی۔ بیس روپے کا سودا اور محبت کا انمول احساس |
مرکزی خیال:
حقیقی امیری جیب کے پیسے سے نہیں، بلکہ دل کی وسعت اور رشتوں کے خلوص سے ناپی جاتی ہے۔ بارہ تیرہ سال کا وہ بچہ، جو خود انتہائی کسمپرسی اور سردی کی حالت میں انڈے بیچ رہا ہے، وہ لالچ یا ذخیرہ اندوزی کے بجائے اپنی بہن کی ایک چھوٹی سی خواہش (چاکلیٹ) پوری کرنے کے لیے اپنے حصے کے منافع کا سودا کر لیتا ہے۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ رشتوں کا مان رکھنا اور ان کے لیے اپنی ضرورت کو قربان کر دینا ہی زندگی کا اصل حاصل اور سب سے بڑی دولت ہے۔
سخت سردی تھی۔
کریانہ شاپ کے باہر لکڑی کا بینچ۔ میں بیٹھا تھا۔ ہاتھوں پر سانس مارتا ہوا۔ گلی خالی تھی۔
آواز آئی:
"آنڈے—گرم آنڈے!"
بارہ تیرہ سال کا لڑکا۔ پاؤں میں پلاسٹک کی چپل۔ جسم پر پھٹا سویٹر۔ ناک بہتی تھی۔ مگر آنکھ میں عجیب سی ضد تھی۔
وہ میرے سامنے رکا۔
"چاچا، دو آنڈے بچے ہیں۔ لے لیں۔"
"کتنے کے؟"
"بیس کے۔"
میں نے جیب سے پچاس کا نوٹ نکالا اور اس کی طرف بڑھا دیا۔
وہ نوٹ کو دیکھتا رہا۔ جیسے حساب کر رہا ہو۔ پھر جیب ٹٹولی۔ خالی۔
اس نے نوٹ مجھے واپس دینے کے بجائے، انگلی سے بیچ میں ایک فرضی لکیر کھینچی۔
"چاچا… یہ بیس آپ کے انڈوں کے۔"
پھر اسی نوٹ پر دوسری طرف انگلی رکھ دی۔
"اور یہ بیس میری بہن کے۔"
میں نے چونک کر دیکھا۔
"بہن کے؟"
وہ ہلکا سا مسکرایا۔ سردی میں جمی ہوئی مسکراہٹ۔
"دو دن سے کہہ رہی ہے… چاکلیٹ لے آ۔"
ایک لمحہ رکا، پھر بولا:
"میں ہر بار ٹال دیتا ہوں… آج نہیں ٹالوں گا۔"
میں نے کہا، "باقی دس؟"
اس نے کندھے اچکائے۔
"وہ رہنے دیں۔ کبھی اور سہی۔"
اس نے انڈے میرے ہاتھ میں دیے اور نوٹ مٹھی میں دبا لیا۔
پھر تیز قدموں سے گلی میں گم ہو گیا۔
میں بینچ پر بیٹھا رہا۔
سردی اب بھی ویسی ہی تھی… مگر کہیں اندر کچھ اور ٹوٹ رہا تھا۔
میں نے خالی گلی کو دیکھا۔
اور بے اختیار منہ سے نکلا:
"کاش… میری بھی کوئی بہن ہوتی…"
کوئی جواب نہیں آیا۔
صرف سردی تھی—
جو اب ہڈیوں سے آگے، کہیں اور اتر رہی تھی۔
-------------------
مشکل الفاظ کے معنی
| لفظ | معنی |
| کریانہ شاپ | پرچون یا روزمرہ کے گھریلو سودا سلف کی دکان۔ |
| ضد | اصرار، ہٹ (یہاں کہانی میں یہ عزم، خودداری اور ہمت کے معنوں میں استعمال ہوا ہے)۔ |
| ٹٹولی | تلاش کی، ہاتھ مار کر ڈھونڈنے کی کوشش کی (جیسے جیب ٹٹولنا)۔ |
| فرضی لکیر | خیالی لائن، جو حقیقت میں موجود نہ ہو بلکہ ذہن میں بنائی گئی ہو۔ |
| کندھے اچکانا | لاپروائی، بے نیازی یا کسی بات سے فرق نہ پڑنے کا جسمانی اظہار۔ |
| بے اختیار | اپنے قابو سے باہر ہو کر، خود بخود، بنا سوچے سمجھے۔ |

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: