عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

بازیافت Bazyaft

بازیافت - پردیس کی زندگی، خاندانی محبت اور گھر کی بازیافت پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی
مرکزی خیال: انسان محض پیسے کمانے والی مشین یا "اے ٹی ایم" نہیں ہے، بلکہ اس کی اصل قیمت اس کے اپنوں کے ساتھ جڑے جذباتی تعلق، لمس اور موجودگی میں ہے۔ بے حس مادیت اور پردیس کی کمائی کے مقابلے میں اپنوں کے پاس رہ کر تھوڑے میں گزر بسر کرنا اور باوقار زندگی جینا کہیں زیادہ قیمتی ہے۔

(1)

دیوار پر لگی پرانی کیلنڈر کی تصویر میں ایک لڑکا اپنے باپ کے کندھوں پر سوار تھا۔ دونوں کے چہرے پر وہ کھِلّی ہنسی تھی جو صرف بچپن میں ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ سلمان نے اپنی انگلیوں کے پوروں سے، جو مشین کی تیل میں کالی اور کٹی پھٹی ہو چکی تھیں، اس تصویر کو چھوا۔ اتنے میں اس کا فون بجا۔ سکرین پر ’اماں‘ لکھا تھا۔ اس نے اپنا گلا صاف کیا، تھکن کے تمام نشان چہرے سے ہٹانے کی کوشش کی، اور مسکراتی ہوئی آواز میں بولا:

"السلام علیکم اماں۔"

ادھر سے آواز آئی، بغیر کسی تمہید کے: "سلمان، اس مہینے پیسے جلدی بھیجنا۔ حمیدہ کی شادی ہے، کپڑے بنوانے ہیں۔ تمہارے بھائی کا پہلا سیمسٹر فیس دینا ہے۔ اور یہاں مہنگائی…"

آواز ایک لمبی فہرست بنتی چلی گئی۔ سلمان کی نظریں واپس اس تصویر پر ٹِک گئیں جہاں وہ لڑکا اپنے باپ کے کندھوں پر تھا۔ اس کے اپنے کندھوں پر، اس وقت، فیکٹری کے مالک کی مار پیٹ کی گالیاں اور ماں کی یہ فہرست کا بوجھ تھا۔ اس نے کہا:

"جی اماں، بھیج دوں گا۔"

بات ختم ہو گئی۔ نہ پوچھا: ’بیٹا، کھانا کھایا؟‘ نہ پوچھا: ’تم کیسے ہو؟‘ سلمان نے فون رکھا، اور اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ یہ وہی ہاتھ تھے جو دو سال پہلے عائشہ کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر ’قبول ہے‘ کہہ رہے تھے۔ اب وہ مشین کے ایسے پرزوں کو تھامتے تھے جن کی تیز دھار نے انہیں چھلنی کر دیا تھا۔

(2)

پاکستان میں، عائشہ کا ایک ہی معمول تھا: فون کی گھنٹی سننا، اور سلمان کی آواز سن کر خود کو تسلی دینا کہ سب ٹھیک ہے۔ مگر حمزہ، ان کا آٹھ سالہ بیٹا، تسلیوں سے باہر تھا۔ ایک دن اسکول سے واپس آ کر اس نے کہا: "امی، آج ٹیچر نے پوچھا تھا کہ تمہارے ابا کیا کرتے ہیں؟"

عائشہ نے حوصلہ باندھتے ہوئے کہا: "تم نے کیا کہا؟" 

"میں نے کہا، میرے ابا باہر ملک میں کام کرتے ہیں۔"

"پھر؟"

"پھر میرے دوست زید نے کہا…" حمزہ نے بات ادھوری چھوڑ دی۔

"کیا کہا؟" عائشہ کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔

"اس نے کہا، ’تمہارے ابا تو ویسے ہی نہیں ہیں۔ میری اماں کہتی ہیں تمہاری اماں اکیلی رہتی ہیں۔"

عائشہ کے منہ سے کوئی آواز نہ نکلی۔ اس نے حمزہ کو اپنے پاس بٹھا لیا، مگر اس کی آنکھیں اس خالی کرسی پر ٹِک گئیں جو ہمیشہ دسترخوان کے سر پر خالی رہتی تھی۔

(3)

خلیج کی فیکٹری میں، سلمان ایک زنگ آلود مشین کا پرزہ بدل رہا تھا۔ اچانک، ایک تیز سیٹی کی آواز، پھر دھماکا۔ وہ جلدی سے پیچھے ہٹا۔ ایک ورکر، جو اس کے قریب کھڑا تھا، چیخا۔ اس کا ہاتھ مشین میں پِس گیا تھا۔ چیخوں اور ہاہاکار میں، سلمان نے دیکھا کہ مالک آیا، اور زخمی ورکر کو گالیاں دیتے ہوئے ایمبولنس بلانے کا حکم دیا۔ اس کی نظریں بے حس تھیں۔ سلمان کے جسم میں ایک لرزہ دوڑ گیا۔ یہ حادثہ میرے ساتھ بھی تو ہو سکتا تھا۔ میرا ہاتھ بھی وہاں پِس سکتا تھا۔ میری چیخ بھی اس ہوا میں گم ہو سکتی تھی۔ اور کون پوچھتا؟ صرف ایک فون آتا: ’اس مہینے پیسے کم آئے ہیں۔‘

اسی رات، جب وہ اپنے تنگ کوارٹر میں لیٹا تھا، اس کا فون بجا۔ ویڈیو کال تھی۔ عائشہ اور حمزہ سامنے تھے۔ عائشہ نے معمول کے مطابق پوچھا: "کھانا کھایا؟ تھے تو نہیں؟"

سلمان نے جواب دیا۔ پھر اس نے حمزہ سے پوچھا: "کیا ہو رہا ہے بیٹے؟"

حمزہ نے کیمرے کو گھور کر دیکھا، پھر اچانک پوچھا: "ابو… آپ کب آ رہے ہیں؟"

سلمان کا گلا بند ہو گیا۔ اس نے کہا: "جلدی… جب پیسے جمع ہو جائیں گے۔"

"کتنی جلدی؟" حمزہ کا سیدھا سوال تھا۔

"حمزہ!" عائشہ نے ڈانٹا۔

"نہیں اماں،" حمزہ نے اپنی ماں کی طرف دیکھے بغیر کہا، "میرے دوست کے ابا ہر ہفتے کرکٹ کھیلتے ہیں۔ آپ ایک بار بھی نہیں آئے۔"

سلمان کی سانسیں رک گئیں۔ اس کی آنکھوں کے سامنے وہ تصویر گھوم گئی—اپنے باپ کے کندھوں والا لڑکا۔ اس نے دیکھا، حمزہ کی آنکھوں میں وہی سوال تھا جو کبھی اس کی اپنی آنکھوں میں ہوا کرتا تھا۔ میں نے اپنے باپ کو کبھی نہیں دیکھا۔ کیا حمزہ بھی اپنے باپ کو ایک تصویر ہی سمجھے گا؟

(4)

اگلے دن فیکٹری میں، مالک نے ایک نئی مشین لگانے کا حکم دیا جو بہت خطرناک تھی۔ کسی نے ہمت نہ کی۔ مالک نے سلمان کی طرف دیکھا: "تم کر سکتے ہو۔ اضافی تنخواہ ملے گی۔"

اضافی تنخواہ۔ یہ لفظ اس کے کانوں میں گونجا۔ ماں کی فہرست، عائشہ کے پرانے ہو رہے کپڑے، حمزہ کا نیا سکول بیگ… اس نے ہاں میں سر ہلایا۔

مشین کے قریب جاتے ہوئے، اس کی نظر اپنے ہاتھوں پر پڑی۔ چھالوں سے بھرے ہاتھ۔ یہ وہی ہاتھ ہیں جو رات کے اندھیرے میں گھر مونگ پھلی لے کر جاتے تھے۔ جو بیوی کے ہاتھ میں ہاتھ ڈالتے تھے۔ جو بیٹے کو کندھے پر اٹھاتے تھے۔ اب یہ ہاتھ صرف مشین کا حصہ ہیں۔ کیا میں اپنے ہاتھوں سے اپنی ہی موت کو دعوت دے رہا ہوں؟

اسی لمحے، اس کے کان میں حمزہ کی آواز گونجی: "آپ کب آ رہے ہیں؟"

سلمان رک گیا۔ اس نے مالک کی طرف مڑ کر دیکھا۔ مالک کی آنکھوں میں کوئی جذبہ نہ تھا، صرف ایک حساب کتاب تھا۔ سلمان نے اپنی زندگی میں پہلی بار ایک ایسا جملہ کہا جس پر اس نے کبھی غور نہیں کیا تھا:

"نہیں۔"

"کیا؟" مالک حیران تھا۔

"میں یہ کام نہیں کر سکتا،‘‘ سلمان نے کہا، اور اپنے ہاتھ اٹھا کر دکھائے، "یہ ہاتھ… یہ ہاتھ میری بیٹی کو گود میں اٹھانے کے لیے ہیں۔ میری بیوی کا ہاتھ تھامنے کے لیے ہیں۔ انہیں اس مشین کی بھینٹ نہیں چڑھنے دینا۔"

مالک کا چہرہ غصے سے لال ہو گیا۔ گالیاں شروع ہو گئیں۔ مگر سلمان سن نہیں رہا تھا۔ وہ اپنے اندر ایک عجیب سا اطمینان محسوس کر رہا تھا، جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔

(5)

وہ واپس اپنے کمرے میں آیا۔ اس نے اپنا سامان باندھنا شروع کیا— دو پرانی سوٹ کیس، کچھ کپڑے، اور ایک چھوٹا سا شاپر جس میں وہ ہمیشہ حمزہ کے لیے کھلونے اور عائشہ کے لیے ایک چادر رکھتا تھا (جو کبھی بھیج نہیں پاتا تھا کیونکہ پیسے ’ضروری‘ چیزوں میں ختم ہو جاتے)۔ فون بجا۔ اس نے ماں سے کہا:

"اماں، میں واپس آ رہا ہوں۔"

ادھر سے خاموشی تھی، پھر ایک للکار: "پاگل ہو گئے ہو؟ اتنی اچھی نوکری چھوڑ کر؟ ہماری ذمہ داریاں؟ تمہارا بھائی؟ بیٹی کی شادی؟"

سلمان نے پہلی بار ٹوک کر کہا: "اماں، میری بھی ایک ذمہ داری ہے۔ اپنے آپ کی۔ اپنے بیٹے کی۔ اپنی بیوی کی۔ میں انہیں پیسے نہیں، اپنے آپ کو دینا چاہتا ہوں۔"

"تو آ کر کیا کرو گے؟" ماں کی آواز میں طعنہ تھا۔

"جئیں گے، اماں۔ بس جئیں گے۔"

(6)

لاہور کے ایک چھوٹے سے گھر کا دروازہ کھلا۔ سلمان اندر داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں وہی شاپر تھا۔ عائشہ دروازے پر کھڑی تھی، اس کی آنکھیں حیرت اور خوف سے پھیلی ہوئیں۔ حمزہ اس کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔

سلمان نے شاپر نیچے رکھا، اور حمزہ کی طرف بڑھا۔ وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا۔

سلمان رک گیا۔ اس نے اپنے ہاتھ، وہ کٹے پھٹے ہاتھ، حمزہ کے سامنے پھیلائے۔

"دیکھو،" اس نے آواز میں ایک نرمی بھرتے ہوئے کہا، "یہ ہاتھ تمہیں گود میں اٹھاتے تھے۔ اب یہ تمہیں دوبارہ اٹھا سکتے ہیں؟"

حمزہ نے جھجھکتے ہوئے دیکھا، پھر آہستہ سے اپنا ہاتھ بڑھایا، اور اپنے باپ کے ہاتھ کو چھوا۔ یہ چھُو ایک کرنٹ کی طرح دونوں کے بدن سے گزر گئی۔

عائشہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے، مگر یہ وہ آنسو نہیں تھے جو وہ تنہائی کی راتوں میں بہاتی تھی۔

کچھ مہینے بعد۔ سلمان نے اپنے محلے میں ایک چھوٹی سی موبائل فون ریپئر کی دکان کھول لی تھی۔ پیسے پہلے سے بہت کم تھے۔ کبھی کبھار ماں کا فون آتا، شکایتوں بھرا۔ مگر رات کے کھانے پر، جب چار ہاتھ ایک ساتھ ایک ہی پلیٹ سے روٹی توڑتے، جب حمزہ اپنے اسکول کے قصے سناتا اور سلمان اس کے ساتھ قہقہہ لگاتا، تو عائشہ کے چہرے پر وہ سکون ہوتا جس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔

ایک دن، دکان کی الماری پر سلمان نے وہ پرانی تصویر لگا دی تھی— باپ کے کندھوں پر سوار لڑکے کی۔ حمزہ نے پوچھا: "ابو، یہ کون ہے؟"

سلمان نے اسے اٹھا کر اپنے کندھوں پر بٹھایا، اور کہا: "یہ میں ہوں۔ اور یہ میرا باپ۔"

"آپ کے ابا؟"

"ہاں۔ مگر میں نے انہیں کبھی نہیں دیکھا۔ وہ بھی مجھے چھوڑ کر کہیں دور چلے گئے تھے۔"

"کیوں؟"

سلمان نے اپنے بیٹے کو کندھے سے اتارا، اسے سامنے بٹھایا۔

"شاید انہیں لگا تھا کہ وہ ہمارے لیے پیسے لا رہے ہیں۔ مگر وہ یہ بھول گئے تھے کہ ہمیں پیسے نہیں، ان کی ضرورت تھی۔"

اس نے حمزہ کا ہاتھ تھاما۔

"میں وہ غلطی دہرانا نہیں چاہتا۔"

باہر شام ہو رہی تھی۔ دکان کی کھڑکی سے وہ تینوں دیکھ رہے تھے۔ سلمان نے سوچا: میں اے ٹی ایم نہیں ہوں۔ میں ایک باپ ہوں۔ ایک شوہر ہوں۔ ایک بیٹا ہوں۔ یہی میری پہچان ہے۔ باقی سب، بس باقی سب ہے۔ اور اس رات، جب حمزہ سونے لگا، تو اس نے اپنے باپ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا۔ اسے ڈر نہیں لگا کہ صبح اٹھوں گا اور باپ غائب ہو گا۔ یہ یقین، ان تمام مالی پریشانیوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھا۔

(7)

زندگی ایک مشین نہیں ہے جس سے صرف نوٹ نکلتے ہوں۔ زندگی وہ ہاتھ ہیں جو چھالوں کے باوجود گرم مونگ پھلی تھامتے ہیں۔ وہ کندھا ہے جس پر بچہ سوار ہوتا ہے۔ وہ خاموشی ہے جو دو ہاتھوں کے ملنے سے ٹوٹتی ہے۔

سلمان نے پایا تھا کہ قربانی وہ نہیں جو انسان کو ختم کر دے۔ اصل قربانی وہ ہے جو انسان کو پورا کر دے۔ اور بعض اوقات، وطن واپسی کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے۔

-----------------

مشکل الفاظ کے معنی

تمہید: تمہید کے معنی ابتدائی گفتگو یا کردار سازی کے ہیں۔

پرزے: پرزے کے معنی مشین کے اجزاء یا ٹکڑوں کے ہیں۔

دستخط/دسترخوان: دسترخوان کے معنی کھانے کے کپڑے یا میزبانی کے ہیں۔

لرزہ: لرزہ کے معنی کاپنپنے یا کپکپی طاری ہونے کے ہیں۔

بھینٹ: بھینٹ کے معنی قربانی یا نذر کرنے کے ہیں۔

طنز/طعنہ: طعنہ کے معنی طنز یا ملامت کے ہیں۔

بازیافت: بازیافت کے معنی کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ حاصل کرنے کے ہیں۔


مصنف کا نوٹ: یہ افسانہ موجودہ دور کے ان بے شمار محنت کشوں کا مرثیہ اور داستانِ امید ہے جو اپنوں کی مالی ضروریات پوری کرتے کرتے خود ایک مشین بن جاتے ہیں۔ اس تحریر کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اولاد اور خاندان کو آپ کے بھیجے ہوئے نوٹوں سے زیادہ آپ کے ساتھ، آپ کی موجودگی اور آپ کے لمس کی ضرورت ہوتی ہے۔ قربانی وہ نہیں جو انسان کی اپنی ذات کو مٹا دے، بلکہ اصل قربانی اور کامیابی وہ ہے جو انسان کو اس کے اپنوں کے قریب کر کے مکمل بنا دے۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: