عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

برف کا چہرہ Barf Ka Chehra

برف کا چہرہ - والد کے ابدی احساس پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

 برف، خون اور روشنی کا وہ استعارہ جو والد کے چہرے کو تاریخ سے نکال کر ابدی احساس بنا دیتا ہے۔


مرکزی خیال:

والدین اور بچوں کے درمیان وہ خاموش رشتہ جو موت کے بعد بھی قائم رہتا ہے — اور پہاڑوں کی تنہائی انسان کو اپنے آباء کے سائے سے کیسے ملاتی ہے۔


شام ڈھل رہی تھی۔

پہاڑ کی چوٹی پر موجود چوکی برف میں آدھی دبی تھی۔ درخت نہیں تھے، صرف پتھر تھے اور سفیدی۔ ہوا کا رخ بدلتے ہی درجہ حرارت اور گر گیا۔

سیپائی بخت عالم نے چولہے میں آخری لکڑی ڈالی۔ آگ نے کراہت سے انگارے چھوڑے۔ دیوار پر ایک تصویر لگی تھی — مٹی کے رنگ کا چہرہ، گہری آنکھیں، ہونٹوں پر وہ مسکراہٹ جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

"ابا جان،" اس نے آہستہ کہا۔

تصویر خاموش رہی۔

باہر برف گر رہی تھی۔ ایسی برف جو آواز نہیں دیتی، صرف دبائے چلی جاتی ہے۔ بخت عالم نے کمبل اوڑھ لیا۔ سانس ہوا میں نظر آ رہی تھی۔

یاد آیا: بارہ سال پہلے، اسی پہاڑ پر، اس کے والد بھی تعینات تھے۔ اسی چوکی پر۔ وہ پانچ سال کا تھا جب والد گھر آئے تھے — داڑھی میں برف کے قطرے جمے ہوئے، ہاتھوں میں دراڑیں، آنکھوں میں کچھ اور۔

ماں نے کہا تھا، "بخت کو لے کر چلو شہر۔"  

والد نے کہا تھا، "پہاڑ چھوڑنا سیکھنا نہیں، بھولنا ہے۔"

وہ نہیں گئے تھے۔

رات ڈھائی بجے بخت عالم اچانک جاگا۔

کچھ تھا۔ کوئی آواز نہیں، کوئی حرکت نہیں، لیکن کمرے میں تبدیلی تھی۔ اس نے روشنی جلائی۔

دیوار پر لگی تصویر زمین پر گری ہوئی تھی۔ شیشہ ٹوٹا ہوا تھا، اور باپ کے چہرے پر دراڑ پڑ گئی تھی — دائیں آنکھ سے ہونٹ تک۔

بخت عالم نے تصویر اٹھائی۔ انگلی شیشے سے کٹ گئی۔ خون کی ایک بوند باپ کے ماتھے پر گری۔

اسی لمحے باہر برفانی تودے کی گرج سنائی دی۔ پوری چوکی لرز اٹھی۔

وہ بھاگ کر باہر نکلا۔ سفیدی میں کچھ نہیں دکھائی دے رہا تھا۔ صرف ہوا تھی، اور سردی تھی، اور اندھیرا تھا۔

پیچھے مڑ کر دیکھا۔ چوکی کا دروازہ کھلا تھا۔ اندر سے روشنی پھیل رہی تھی — اور اس روشنی کے بیچ اس نے دیکھا:

ایک سایہ۔

سایہ آہستہ آہستہ حقیقت بن رہا تھا۔ داڑھی، وردی، وہی آنکھیں۔

"ابا جان؟"

سائے نے بات نہیں کی۔ صرف ہاتھ بڑھایا۔ اس ہاتھ میں برف تھی — صاف، سفید برف۔

بخت عالم نے برف لی۔

سایہ مٹ گیا۔

صبح ہوئی تو ریسکیو ٹیم نے چوکی کے باہر بخت عالم کو جمے ہوئے پایا۔ ہاتھ میں برف کا ایک ٹکڑا تھا — اتنا شفاف کہ اس میں سے سورج کی روشنی گزر رہی تھی۔ اور برف کے اس ٹکڑے کے اندر، بالکل گہرائی میں، ایک چہرہ تھا۔

کسی کی آنکھیں نہیں پہچان سکیں۔  مگر سب نے محسوس کیا: وہ چہرہ مسکرا رہا تھا۔

-----------------

الفاظ و معانی

تعینات ہونا: مقرر ہونا، ڈیوٹی پر مامور ہونا (کسی خاص جگہ پر کام کے لیے لگایا جانا)۔

کراہت: ناگواری، ناپسندیدگی (کہانی میں اس سے مراد آگ کا بجھتے ہوئے آخری سانسیں لینا ہے)۔

برفانی تودہ: برف کا بہت بڑا حصہ یا چٹان جو پہاڑ سے ٹوٹ کر نیچے گرے (Avalanche)۔

شفاف: بالکل صاف، آئینے کی طرح چمکدار جس کے آر پار دیکھا جا سکے۔

عکس: پرچھائیں، تصویر، یا جھلک۔

آباء: ابوجان کی جمع، یعنی باپ دادا یا بزرگ (Ancestors)۔

استعارہ: کسی چیز کو ہوبہو دوسری چیز کی طرح قرار دینا (ادبی اصطلاح میں چھپی ہوئی تشبیہ)۔

ابدی: ہمیشہ رہنے والا، جو کبھی ختم نہ ہو۔

تجزیہ: کسی تحریر یا بات کو گہرائی سے سمجھنے کے لیے اس کے حصوں پر غور کرنا (Analysis)۔

سیپائی: سپاہی  (سرکاری اہلکار)


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: