عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

ابا کی محبوبہ Abba Ki Mehbooba

والد کی خاموش قربانی، بے لوث محبت اور نسلوں کے درمیان غلط فہمیوں پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی


مرکزی خیال : افسانے کا مرکزی خیال والد کی خاموش قربانی، بے لوث محبت اور نسلوں کے درمیان چھپی غلط فہمیوں کا ازالہ ہے۔ کہانی یہ سکھاتی ہے کہ والدین کی محبت مادی چیزوں کی محتاج نہیں ہوتی، بلکہ وہ اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے اپنی سب سے عزیز چیز بھی ہنس کر قربان کر دیتے ہیں۔ اکثر اولاد ظاہر کو دیکھ کر شکوے پال لیتی ہے، لیکن جب حقیقت کا دروازہ کھلتا ہے تو شکوے کی جگہ پچھتاوا اور گہری سمجھ لے لیتی ہے۔


ابا سائیکل کسی کو نہیں دیتے تھے۔  ہر جمعہ اسے دھوتے، جیسے کوئی امانت ہو۔  پھر ایک پرانا گانا چلا دیتے—

بابو جی دھیرے چلنا…  

ہم ہنستے، کہتے—یہ سائیکل نہیں، ابا کی محبوبہ ہے۔

میں چپکے سے لے جاتا۔  

راستہ مجھے قبول نہیں کرتا تھا۔  

میں گرتا، گھٹنے چھلتے، چین اترتی —  اور گھر لوٹ کر اماں کی ڈانٹ سنتا۔

ایک دن سائیکل نہ تھی۔

کہا گیا، عزیز چچا لے گئے۔

میں نے سوال دل میں رکھا، زبان پر نہیں لایا۔  

کچھ فاصلے ایسے ہوتے ہیں جو بولنے سے نہیں،  چپ رہنے سے بڑھتے ہیں۔

وقت گزرتا رہا۔  

میں بڑا ہو گیا۔  

دل کے اندر ایک ننھا سا شکوہ بھی ساتھ بڑا ہو گیا۔ پھر میں ڈاکٹر بن گیا۔  

اور ابا…  دو دن بعد رخصت ہو گئے۔

تعزیت میں عزیز چچا آئے۔  میرا ہاتھ دیر تک اپنے ہاتھ میں رکھے رہے، جیسے کچھ منتقل کرنا ہو۔

پھر آہستہ بولے:  "فیس بھرنے کے لیے انہوں نے سائیکل بیچ دی تھی۔  کہتے تھے، رزق ادھار سے نہیں لیتا۔"

میں نے پہلی بار اپنے اندر ایک دروازہ کھلتا سنا۔

چچا مسکرائے—  "میں نے کہا، اپنی محبوبہ کے بغیر کیسے رہو گے؟  

کہنے لگے…  محبت چیزوں میں نہیں رہتی، بیٹے میں رہتی ہے۔"

بابو جی دھیرے چلنا…  

اس بار گانا کہیں باہر نہیں تھا۔  اندر ایک راستہ بن رہا تھا—  جہاں شکوہ ختم ہوتا ہے  اور سمجھ شروع ہوتی ہے۔

----

مشکل الفاظ کے معنی

امانت : وہ چیز جو کسی کے پاس حفاظت کے لیے رکھی جائے، پاسداری

محبوبہ : پیاری، وہ چیز یا شخصیت جس سے شدید محبت ہو

قبول کرنا : یہاں مراد ہے "راس آنا" یا ساتھ دینا

فاصلے : دوریاں، دلی جدائی

شکوہ : گلہ، شکایت، ناراضگی

تعزیت : افسوس کرنا، دلاسا دینا، کسی کی وفات پر ہمدردی کا اظہار

منتقل کرنا : ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا، سپرد کرنا

رزق : روزی، یہاں مراد زندگی کی ضرورت یا فیس کے پیسے ہیں


مصنف نوٹ:"ابا کی محبوبہ" محض ایک سائیکل اور ایک بیٹے کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ ہر اس باپ کی داستان ہے جو اپنے جذبات کا اظہار لفظوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے کرتا ہے۔

"سائیکل" صرف ایک سواری نہیں بلکہ باپ کی خودداری، ان کی یادوں اور ان کی نجی خوشی کی علامت ہے۔ جب وہ اپنی اس 'محبوبہ' کو بیچ دیتے ہیں، تو دراصل وہ اپنے وجود کا ایک حصہ بیٹے کی تعلیم (ڈاکٹر بننے) کے لیے قربان کر دیتے ہیں۔

"محبت چیزوں میں نہیں رہتی، بیٹے میں رہتی ہے۔" یہ جملہ انسان کو مادی چیزوں کی قید سے آزاد کر کے رشتوں کی حقیقی روح تک لے جاتا ہے۔ گانا "بابو جی دھیرے چلنا" پہلے ایک عام تفریح تھا، مگر آخر میں وہ زندگی کی حقیقتوں کو دھیرے دھیرے سمجھنے اور اندر کے شکووں کو مٹانے کا ایک صوفیانہ راگ بن جاتا ہے۔ 

--------------

 

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: