عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سکے کی دعا Sikkay Ki Dua

بعض سکے دکان پر نہیں چلتے، نسلوں کی ہتھیلی میں چمکتے ہیں۔

مرکزی خیال:

محبت کا سرمایہ قیمت میں نہیں، قربانی اور دعا میں ہے۔ جو بزرگ آخری جمع پونجی بھی دے جاتے ہیں۔ سکے اس منتقلی کی علامت ہیں جو نسل در نسل چمکتی ہے۔


کمرے میں گرد کے ذرات دھوپ کی کرن میں رقص کر رہے تھے۔ سلیم نے پرانے ڈبے کا ڈھکن اٹھایا۔ سکوں کی خاموش گونج اٹھی۔ جیسے بھولی آواز پیتل اور تانبے میں قید ہو گئی ہو۔

اس نے ایک سکہ نکالا۔ روشنی میں گھمایا۔ ایک رخ چمک رہا تھا۔ دوسرا سیاہی مائل۔ جیسے وقت نے انگلیاں رکھ دی ہوں۔

"ابا، یہ کیا ہے؟" حسان دروازے پر تھا۔ قمیض پر مٹی کے دھبے۔ ہاتھ میں پتھر۔

سلیم نے بغیر دیکھے کہا: "تمہارے دادا کا ڈبہ۔"

حسان قریب آیا۔ جھانکا۔ "سکے ہیں؟"

"سکے ہیں۔"

"کیا کریں گے؟"

سلیم نے دو آنے کا سکہ اٹھایا۔ تاریخ مٹ چکی تھی۔ حسان کی طرف بڑھایا۔ "یہ تمہارا۔ رکھ لو۔"

حسان نے ہتھیلی پر دیکھا۔ جیب میں ڈالا۔ بغیر سوال کے باہر بھاگ گیا۔ قدموں کی آواز گلی میں گونجی۔ پھر خاموشی۔

سلیم ڈبہ گود میں لے کر دیوار کے سہارے بیٹھ گیا۔ دھوپ اب سکوں کو چھو کر دیوار پر بکھر رہی تھی۔ ٹوٹا دائرہ بن رہی تھی۔ آنکھیں بند کیں۔ بچپن اُبھرا۔ بغیر انتباہ کے۔ جیسے کھلی کھڑکی سے دھند آتی ہے۔

وہ سات سال کا تھا۔ دادا روز ایک سکہ دیتے۔ دو آنے کا۔ کبھی چار آنے کا، جب فصل اچھی ہوتی۔ سکہ جیب میں گرم ہو جاتا۔ وہ بھاگ کر حلوائی سے لڈو لاتا۔ دادا چبوترے پر بیٹھے ہوتے۔ چائے کا پیالہ ہاتھ میں۔ لڈو دیکھ کر آنکھیں مسکرا اٹھتیں۔ کبھی ایک ٹکڑا لیتے۔ کبھی کہتے: "تم کھاؤ، بیٹا۔ میرا پیٹ بھرا ہے۔" سلیم کو بعد میں پتہ چلا، دادا کے پاس چائے کے سوا کچھ نہ تھا۔

ایک دن سکہ گم ہو گیا۔ جیبیں الٹیں۔ بستہ چیک کیا۔ کھلونے ہلائے۔ سکہ نہ ملا۔ وہ رو پڑا۔ دادا نے گود میں اٹھایا۔ بالوں پر ہاتھ پھیرا۔ "کل کا سکہ پہلے دے دوں؟" سلیم کو کل کا نہ چاہیے تھا۔ وہی چاہیے تھا جو آج دیا تھا۔

رات کو سو گیا۔ آنسو بھری پلکوں کے ساتھ۔ صبح اٹھا تو سکہ جیب میں تھا۔ وہی دو آنے کا۔ اسی پرانی تاریخ کے ساتھ۔ دوڑ کر بتایا۔ دادا نے آنکھیں موندیں۔ ہلکی مسکراہٹ۔ "میں نے کہا تھا نہ، محبت کبھی گم نہیں ہوتی۔"

سلیم نے ڈبے کے نیچے ہاتھ ڈالا۔ پھٹا ہوا لفافہ ملا۔ چھوتے ہی کاغذ کے ریشے انگلیوں پر چپک گئے۔ اندر چٹھی تھی۔ دادا کے لرزتے حروف۔ سیاہی پھیکی پڑ چکی تھی:

"میرے سلیم،  

یہ سکے تمہارے ہیں۔ وہ سب جو تم نے لیے، یا کھوئے، یا دکھائے۔ میں نے ایک کو ڈھونڈ کر جمع کر لیا۔ جو سکہ تم نے گنوایا تھا، وہ میرے پاس نہیں تھا۔ میں نے رات کو بازار سے نیا خریدا اور جیب میں رکھا۔ میرے پاس اس کے سوا کچھ نہ تھا۔ اب یہ سارے سکے تمہارے ہیں۔ ان میں میری دعائیں ہیں۔ انہیں شمار مت کرنا، بس رکھنا۔ جب کوئی تم سے محبت کرے اور کچھ دے، تو اس کی ہتھیلی پر نہیں، اس کی طرف دیکھنا۔"

سلیم نے چٹھی سینے سے لگائی۔ ڈبہ بند کیا۔ حسان کی تلاش میں نکلا۔

حسان گلی کے نلکے پر بیٹھا تھا۔ سکہ پانی سے دھو لیا تھا۔ تپتی دھوپ میں پکڑ کر چمک دیکھ رہا تھا۔ سلیم نے ہاتھ پکڑا۔

"یہ سکہ کہاں سے ملا، ابا؟" حسان نے پوچھا۔

سلیم نے سکہ ہتھیلی پر رکھا۔ وہی دو آنے کا۔ روشنی مدھم ہو چکی تھی۔ "یہ تمہارے دادا کا ہے۔"

"آپ نے کہا تھا پرانا ہے۔ چلتا نہیں۔"

"چلتا نہیں، بیٹا۔" سلیم رک گیا۔ "لیکن چمکتا ہے۔ دھوپ میں اب بھی چمکتا ہے۔"

حسان نے سکہ دیکھا۔ پھر باپ کی نم آنکھوں میں۔ سکہ واپس بڑھایا: "پھر یہ رکھ لو۔"

سلیم نے نہ لیا۔ ڈبہ کھولا۔ سارے سکے سامنے رکھ دیے۔ "یہ تمہارے ہیں۔ میں نے کبھی شمار نہیں کیے۔ تم بھی نہ کرنا۔ بس رکھنا۔ جب بڑے ہو جاؤ، کسی اور کو دینا۔ جسے سب سے زیادہ چاہو۔"

حسان نے سر ہلایا۔ ڈبہ احتیاط سے اٹھایا۔ گھر کی طرف چل پڑا۔ قمیض کی جیب سے ایک سکہ جھانک رہا تھا۔ شاید وہی، شاید کوئی اور۔ سلیم نلکے کے پاس کھڑا رہا۔ پانی کی ٹپ ٹپ دیکھتا رہا۔ یقین ہو گیا، دادا کی محبت اب بھی بیٹے کی جیب میں ہے۔ دکان پر نہ چلے، چمک کبھی نہ جھکے۔

---------------------

مشکل الفاظ کے معنی

سیاہی مائل: سیاہی کی طرف مائل، سیاہ جھلک والا  

جھنکار: چھن چھن کی آواز  

توقف: رکنا، وقفہ  

جمع پونجی: کل جمع شدہ سرمایہ

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: