عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

چالیس برس کا فاصلہ Chalis Baras Ka Fasla

چالیس برس کا فاصلہ - پچھتاوے کے سفر اور ابدی خاموشی پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

چالیس برس کا ساتھ، اور پچھتاوے کا لامتناہی سفر— جہاں ببول کی سوکھی چھاؤں تلے خاموشی ابدی نیند سو گئی اور بوڑھے کے پاس صرف شبنم کے آنسو اور ہوا میں اڑتی سرگوشیاں رہ گئیں۔



 مرکزی خیال:

ہم اکثر زندگی کی گہما گہمی اور روزمرہ کی مصروفیات میں اپنے پیاروں کی قربانیوں اور ان کی خاموش موجودگی کو یکسر نظرانداز کر دیتے ہیں۔ جب تک ہمیں ان کی قدر و قیمت اور اپنی لغزشوں کا احساس ہوتا ہے، تب تک وقت ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ چالیس سال کا طویل ساتھ بھی بعض اوقات دلوں کے درمیان وہ فاصلہ ختم نہیں کر پاتا جو صرف چند بولے گئے محبت کے الفاظ، ایک گرم کمبل کی گرمائش، یا تھوڑی سی توجہ سے مٹ سکتا تھا۔ یہ کہانی سکھاتی ہے کہ محبت کا اظہار اور اپنوں کی قدر وقت پر کر لینی چاہیے، کیونکہ رخصت ہو جانے والے کبھی واپس نہیں آتے، پیچھے صرف پچھتاوے کی دھند اور خاموش سرگوشیاں رہ جاتی ہیں۔


گاڑی کے پہیے آہستہ تھے۔ بُڈھے نے اپنی بیوی کو کمزور گھوڑے کی کھینچی ہوئی گاڑی میں لٹا دیا تھا، جس طرح کوئی بھوسے کی بوری رکھتا ہے۔ عورت کی سانسیں کٹتی جا رہی تھیں، مگر شہر ابھی پندرہ کوہ تھا۔

بُڈھے نے اسے دائیں شانے سے ٹکائے رکھا۔ ٹھنڈی لگ رہی تھی وہ۔

"سُنی ہو؟"

عورت نے آنکھ نہ کھولی۔

"وہ کھیت جہاں تم روز دوپہر کو کھانا لے کر آتی تھیں — اُس راستے پر وہ ببول کا درخت سوکھ گیا۔"

عورت خاموش رہی۔

"تمہیں یاد ہے نا؟ میں کہتا تھا چھاؤں میں بیٹھو، تم کہتی تھی کام رہ جائے گا۔"

گھوڑا لڑکھڑایا۔ بُڈھے نے اسے ڈانٹا، پھر اس کی مرضی پر چھوڑ دیا۔

"تم نے چالیس برس میں کبھی شکایت نہ کی۔" اس کی آواز ٹوٹی۔ "کبھی۔"

وہ بولتا رہا — جیسے کوئی کتاب کھل گئی ہو جسے پڑھے بغیر چالیس برس گزر گئے ہوں۔ کہتا گیا کہ اب وہ اسے شہر لے جا کر ڈاکٹر کو دکھائے گا، پھر بازار سے وہ سرخ دوپٹہ دلائے گا جس کی بات اس نے کبھی کی تھی، پھر دونوں دریا کے کنارے بیٹھیں گے جیسے نوجوانی میں بیٹھتے تھے۔

عورت کی انگلی بے حرکت پڑی تھی۔ اس نے محسوس نہ کیا۔

"اب میں تمہیں ہاتھ نہ لگنے دوں گا،" وہ گنگنا رہا تھا، "اب کبھی غصہ نہ کروں گا، اب ہر شام تمہارے سرہانے بیٹھوں گا..."

شہر کی پہلی روشنی دکھائی دی۔

اس نے گھوڑا روکا، اترا، پھر بیوی کو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔

وہ سخت تھی۔ پوری طرح۔

بُڈھے نے دوسری مرتبہ ہاتھ بڑھایا — جیسے کوئی اندھا بار بار تاریک کمرے میں ڈھونڈے۔

پھر وہ وہیں بیٹھ گیا۔ گاڑی کے پہیے کے سہارے۔

پہلے آنسو نہ آئے۔ بہت دیر بعد آئے — جب گھوڑے نے موڑ کر دیکھا تو اس کی آنکھوں میں پانی تھا۔

اس رات وہ شہر نہ گیا۔ گاڑی موڑ دی۔ واپس اسی راستے پر، اسی ببول کے سوکھے درخت کے نیچے رُکا۔

عورت کو زمین پر لٹایا۔ بیٹھا رہا۔

صبح اُٹھا تو اس کے چہرے پر شبنم تھی — اور اس کی بیوی کے چہرے پر بھی۔ ایک جیسی۔

اس نے اپنا کمبل نکال کر اسے ڈھانپ دیا۔ تب پہلی بار اسے یاد آیا کہ اس نے کبھی کسی رات اسے کمبل نہ دیا تھا۔ ہمیشہ وہی دے دیتی تھی۔

وہ پھر بولنے لگا۔ یہ بارش نہیں، ہوا نہیں، سرگوشی تھی۔

"جاگ اٹھو۔ اُٹھو۔ میں نے کہنا تھا تم سے کچھ۔"

مگر اب ہوا صرف اس کے الفاظ اُڑا کر لے جاتی تھی — گھوڑے کی طرف، ببول کی سوکھی شاخوں کی طرف، اُس ویران راستے کی طرف جو کسی نہ کسی کو کبھی تو ضرور لے جاتا ہے۔

-------------------

 مشکل الفاظ کے معنی

افسانے میں استعمال ہونے والے چند اہم اور ادبی الفاظ کے معنی درج ذیل ہیں:

لفظمعنی
کوہفاصلے کا پرانا پیمانہ (ایک کوہ تقریباً ڈیڑھ یا دو میل کے برابر ہوتا ہے) / پہاڑ
ببولکیکر کا درخت (جو عام طور پر خشک اور ویران راستوں پر پایا جاتا ہے)
احساسِ زیاںنقصان کا احساس، پچھتاوا
سرہانےبستر پر سر رکھنے کی جگہ، سر کے پاس
شبنماوس کے قطرے جو صبح کے وقت پتوں اور چہروں پر گرتے ہیں
ویراناجاڑ، سنسان، جہاں کوئی بستی نہ ہو
سرگوشیکان میں آہستہ سے بات کرنا، دھیمی آواز


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: