عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

آخری دھاگہ Aakhri Dhagah

بعض سلائیاں سوئی سے نہیں، انتظار سے لگتی ہیں۔  
 

مرکزی خیال

جو کپڑا نظر نہیں آتا وہ ماں بیس سال سلتی ہے۔ جب آخری ٹانکا لگ جائے تو وہ خود کپڑا بن کر رہ جاتی ہے۔

 

کمرے میں چار دیواریں تھیں۔ ایک کھڑکی۔ کھڑکی سے اندھیرا اندر آتا تھا۔ روشنی نہیں۔

زینت نے آخری دھاگے کو سوئی میں پرویا۔ مگن ہو گئی۔ ہاتھ کانپتے تھے۔ انگلیوں کو یہ کام برسوں سے آتا تھا۔ کبھی گھنٹوں بیٹھی رہتی۔ سوئی اٹھائے، دھاگے کو دیکھتی، پھر کچھ نہیں۔

عالیہ نے دروازے پر دستک دی۔ اندھیرے نے اسے نگل لیا۔

"امّاں جی، کھانا۔"

زینت نے بغیر سر اٹھائے کہا، "رکھ دو جہاں سے آئی ہو۔"

عالیہ نے تھالی کونے میں رکھی۔ وہیں کھڑی رہ گئی۔ دروازے اور دیوار کے بیچ۔ جہاں روشنی ختم ہوتی تھی، سایہ شروع ہوتا تھا۔

"آج بھی وہی کپڑا سل رہی ہو؟"

زینت خاموش رہی۔ ہاتھ میں پرانا سفید کپڑا تھا۔ کبھی پھول تھے، اب دھبے۔

عالیہ قریب آئی۔ کپڑے پر سوئی کا نشان نہ تھا۔ زینت ہوا میں سلائی کر رہی تھی۔

"کچھ ہے نہیں امّاں جی وہاں۔"

زینت نے آہستہ کہا، "جو نظر نہیں آتا، وہ ہوتا نہیں کیا؟"

عالیہ کچھ نہ سمجھی۔ دروازے کی طرف بڑھی۔ قدموں کی چاپ سنائی دی۔ اکیلے، بھاری۔ جیسے اندھے کنویں میں پتھر پھینک رہا ہو۔

مڑ کر دیکھا۔

زینت کھڑکی سے لگ کر بیٹھی تھی۔ روشنی کہیں نہ تھی۔ چہرے پر اجالا تھا۔ جیسے دور کا چراغ جل رہا ہو۔ دیکھ سکتے ہو، پہنچ نہیں سکتے۔

دروازہ بند ہوا۔ زینت نے سر اٹھایا۔ گود میں وہ کپڑا تھا۔ بیس سال پہلے بیٹے کی شادی کے لیے سلنا چھوڑا تھا۔ آخری دھاگہ ادھورا تھا۔

سوئی اٹھائی۔ اس بار ہاتھ نہ کانپے۔

کھڑکی سے پرندہ اڑا۔

"اب بس ایک ٹانکا باقی ہے۔" زینت نے کہا۔

ہاتھ میں سوئی نہ تھی۔ کمرے میں اندھیرے کے سوا کچھ نہ تھا۔

صبح عالیہ نے دروازہ کھولا۔ کپڑا تہ کر کے رکھا تھا۔ ہر سلائی درست۔ ہر دھاگہ جڑا ہوا۔ کونے میں سوئی پڑی تھی۔ دھاگہ نہ تھا۔

زینت کہیں نہ تھی۔

کھڑکی کھلی تھی۔ پرندے نے گھونسلا چھوڑ دیا تھا۔

-------------------

مشکل الفاظ کے معنی

سلائی: سیون، ٹانکا  

دھبہ: نشان، داغ  

ٹانکا: سوئی کا ایک پھیرا  

گھونسلا: پرندے کا گھر


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: