عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

چادر Chadar

چادر - انسانی شناخت اور معاشرتی اقدار کے تحفظ پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی
بعض ڈھالیں پہن لی جائیں تو چہرہ نہیں، شناخت بچتی ہے۔  

مرکزی خیال :

چادر صرف کپڑا نہیں۔ یہ ڈھال ہے، امانت ہے۔ جو عورت کو گرنے سے نہیں، ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔



فاطمہ کی عمر پچاس تھی۔ پچاس سال سے چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ حنا نے کبھی اس کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

ہر صبح وہ آئینے کے سامنے کھڑی ہوتی۔ چادر سنبھالتی۔ کنارہ انگلیوں سے چھوتی۔ جیسے پرانی یاد کا دھاگہ ہو۔

حنا جدید خیالوں والی ہو گئی تھی۔ ایک دن بولی: "اماں، اب کوئی پردہ نہیں کرتا۔ یہ پرانا رواج ہے۔"

فاطمہ مسکرائی۔ مسکراہٹ میں کچھ چھپا تھا۔ جیسے کہانی خود موت لکھ رہی ہو۔

صندوق سے پرانی تصویر نکالی۔ ایک نوجوان لڑکی۔ بغیر چادر کے۔ ساتھ بزرگ۔

"یہ میں ہوں۔" فاطمہ نے کہا۔ "یہ میرے والد ہیں۔"

حنا چونکی۔ "تم پردہ کرتی تھی؟"

فاطمہ نے تصویر الٹ دی۔ پشت پر لکھا تھا: "میری بیٹی کی پہلی اور آخری تصویر بغیر چادر کے۔"

"کیوں؟" حنا نے پوچھا۔

فاطمہ نے چادر اتاری۔ حنا نے پہلی بار ماں کا چہرہ دیکھا۔ خوبصورت تھا۔ دائیں گال پر گہرا، سکڑا نشان۔ جیسے پنجہ کھنچ گیا ہو۔

"اس دن اسکول بغیر چادر گئی۔ والد نے روکا۔ میں نہ مانی۔ راستے میں کتے نے حملہ کر دیا۔ والد نے بچایا۔ یہ نشان رہ گیا۔ اسی دن انہوں نے چادر دی۔ کہا: 'یہ تیری ڈھال ہے، بیٹی۔ کبھی مت اتارنا۔'"

حنا کی آنکھیں نم ہو گئیں۔

فاطمہ نے چادر واپس اوڑھ لی۔ آواز نرم تھی، پختہ تھی: "پردہ میری کمزوری نہیں، بیٹا۔ یہ امانت ہے۔ والد کی۔ میں نے نبھائی۔"

حنا نے ماں کے گرد بازو ڈالے۔ محسوس ہوا، چادر کی تہوں میں چہرہ نہیں، وقار چھپا تھا۔ ایک تاج جو دکھائی نہ دے، چمکے ضرور۔


دھوپ کمرے میں آئی۔ چادر پر پڑی۔ دھاگے چمک گئے۔ جیسے کوئی پرانی قسم تازہ ہو گئی ہو۔


--------------

مشکل الفاظ کے معنی

سُکڑا ہوا: سمٹا ہوا، سکڑن والا نشان  

امانت: سونپی ہوئی چیز، بھروسے کی چیز  

وقار: عزت، مرتبہ، شان  

ڈھال: بچاؤ، سپر


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: