عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

اندھیرے کا قرض Andheray Ka Qarz

اندھیرے کا قرض - انسانی رشتوں اور اخلاقی اقدار پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

وہ قرض جو روشنی میں نہیں نپتا ، اندھیرے کی زکوٰۃ کہہ لیجیے۔



مرکزی خیال: 
احسان کا حقیقی وزن اس کی خاموشی میں ہے — جب تم کسی کی مدد کرتے ہو بغیر اسے احساس دلائے، تو وہ مدد قرض بن جاتی ہے جو کبھی بھی، کسی بھی شکل میں، واپس آ سکتی ہے۔ یہاں خالی دیا، جو پانی سے بھر کر آئینہ بن جاتا ہے، کہتا ہے: وہی جو جلتا نہیں، وہی دوسروں کی روشنی دیکھ سکتا ہے۔


وہ چھت پر بیٹھا تھا۔

نیچے شہر کی روشنیاں — تھرتی، بجھتی، پھر جلتی۔

اوپر تارے۔ بےآواز۔

کبھی اونچا دیکھتا، کبھی نیچے۔

درمیان میں صرف خلا تھا — اور ایک بےنام سی خاموشی۔

باہر، راستے پر، ایک بچہ کھڑا تھا۔

اندھیرے میں صرف اس کے جوتے چمک رہے تھے۔ پرانے۔ پالش شدہ۔

اس نے اوپر دیکھا۔

نہ آواز دی، نہ ہاتھ ہلایا۔

بس دیکھتا رہا — جیسے کہہ رہا ہو: میں انتظار نہیں کر رہا، میں پہچان رہا ہوں۔

آدمی نے چھت سے ایک لمبا پائپ نیچے لٹکایا۔

سٹیل کا، کھوکھلا، اندر سے سرد۔

بچے نے اسے پکڑا۔

پکڑا اور ٹھہر گیا — جیسے تول رہا ہو۔

پھر، دھیمی اُنگلیوں سے، پائپ کے اندر کچھ رکھا۔

اور چلا گیا۔

بغیر مڑے۔

آدمی نے پائپ اٹھایا۔

اندر ایک کاغذ کا پرانا نوٹ تھا — چھوٹے ہاتھوں سے مڑا ہوا، کونوں پر نمی۔

نوٹ پر لکھا تھا:

"تم نے مجھے اندھیرا دیا تھا۔ یہ اس کا سود ہے۔"

اس نے نوٹ پلٹا۔

دوسری طرف کچھ نہ تھا۔

خالی۔

مگر خالی اتنا بھاری کہ سانس رک گئی۔

نوٹ سینے سے لگا لیا۔

کوئی آواز نہیں نکلی۔

نہ سسکی، نہ آہ۔

صرف ہاتھ کپکپائے — جیسے کسی ٹوٹے برتن کو جوڑ رہا ہو۔

پھر اس نے اٹھ کر چھت کے ایک کونے سے ایک پرانا مٹی کا دیا اٹھایا — جو کبھی اس کی ماں جلایا کرتی تھی۔

اس میں تیل نہ تھا، نہ بتی۔

دیے کو ہاتھوں میں لے کر وہ تھوڑی دیر کھڑا رہا۔

پھر اسے نیچے رکھ دیا — بالکل اسی جگہ جہاں سے اس نے پائپ لٹکایا تھا۔

خالی دیا۔

منہ آسمان کی طرف۔

بارش شروع ہو گئی۔

پہلے ہلکی — چھت کو چھونے میں شرماتی ہوئی۔

پھر تیز۔ ایسی کہ پتے چیخنے لگے۔

بچہ جا چکا تھا۔ صرف جوتوں کے نشان تھے — اور وہ بھی دھلتے۔

آدمی نے پائپ کو احتیاط سے توڑا۔

آدھا اپنے پاس رکھا — کھوکھلا سٹیل، جیسے یادداشت کا سن۔

آدھا نیچے رکھ دیا — جہاں کبھی کوئی اسے دیکھ لے۔

دیکھے تو جانے: یہاں کوئی اندھیرا بیچ کر گیا ہے۔

شہر کی روشنیاں بجھنے لگیں۔

پہلے دور والی، پھر قریب والی۔

صرف ایک کھڑکی میں چراغ جل رہا تھا۔

اور اس کا سایہ — دیوار پر بیٹھی چڑیا کی مانند — چونچ میں ایک خاموش قرض لیے۔

اس کھڑکی کے نیچے، چھت پر، وہ مٹی کا خالی دیا بارش میں بھیگ رہا تھا۔

اور اس کے اندر — پانی کھڑا ہو گیا تھا۔

اتنا صاف کہ اس میں تارے دکھائی دیتے تھے۔


---


مشکل الفاظ کے معنی

· زکوٰۃ : پاکیزگی، یہاں مراد وہ عطیہ جو دل کی گہرائی سے بغیر کسی مطالبے کے دیا جائے۔

· تھرتی : کانپتی ہوئی، بےثبات

· سسکی : رکتے ہوئے رونے کی آواز

ہمارے ادبی سفر کا حصہ بنیں! اگر آپ کو یہ افسانہ پسند آیا ہے اور آپ آئندہ بھی ایسی تحریریں پڑھنا چاہتے ہیں، تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کر کے ہمارا واٹس ایپ چینل ضرور جوائن کریں: 🔗 واٹس ایپ چینل لنک 📚 

---

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: