مرکزی خیالتنہائی کی وہ انتہا جہاں انسان اپنا وجود بجھا کر دوسروں کے لیے روشنی چھوڑ جاتا ہے، مگر خود اندھیرا بن جاتا ہے۔
ٹوٹے صحن میں چراغ جل رہا تھا۔ ہوا نہیں تھی مگر لَو کانپ رہی تھی، جیسے کوئی بھولا ہوا لفظ ادا ہو کر رہ جائے۔
بوڑھا چوکھٹ پر بیٹھا تھا۔ آنکھوں کے گرد وقت نے دائرے کھینچ دیے تھے، بچے کی لکیر کی طرح، بار، بے مقصد، ضد سے۔
بیٹا کبھی نہ آیا۔ بیٹی وہاں نہ تھی۔ بہو نئے گھر کی دیواروں کے پیچھے، نئے نام کے ساتھ کھیتوں میں جا چکی تھی۔
صحن میں صرف چراغ تھا۔ کٹورے میں تین روٹیاں، دو باسی، ایک تازہ۔ اس نے تازہ روٹی کو چھوا، پھر ہاتھ کھینچ لیا۔ آج بیٹی کی سالگرہ تھی۔ آخری بار اس نے گھٹنے سے لگا کر کہا تھا، ابا آپ بہت دور رہتے ہیں۔
وہ ہنسا۔ اس ہنسی میں دس سال کی خاموشی تھی، اور ایک خط جس پر مہر نہ لگی تھی۔
رات گہری ہوئی تو اس نے چراغ کے آگے دوسرا دیا رکھ دیا۔ پھر سوچا، یہ دوسرا کس کے لیے؟ جواب نہ دیا۔ پہلا چراغ بجھا دیا۔
جب دوسرا بھی بجھا تو صحن اندھیرا ہو گیا۔ اس نے چھت کو دیکھا، کوئی ستارہ نہ تھا۔ مٹھی میں باسی روٹی تھی، چوکھٹ ٹوٹی تھی، اور یاد اب آواز نہیں بوجھ بن چکی تھی۔
صبح لوگوں نے دیکھا، دروازہ کھلا تھا۔ چوکھٹ پر باسی روٹی پڑی تھی۔ مٹی پر دو لکیریں تھیں، جیسے کوئی گھٹنے ٹیک کر اٹھ گیا ہو۔
کوئی نہ جان سکا وہ کہاں گیا۔ چراغ کے پاس تیسرا دیا پڑا تھا، بغیر باتی کے، بغیر تیل کے، صرف ایک نام کے ساتھ جو کبھی کاغذ پر نہ لکھا گیا۔
--------------
مشکل الفاظ کے معنی
چوکھٹ: دروازے کا چوکھٹا، دہلیز
لَو: شعلے کی روشنی
دیا: مٹی کا چراغ
باتی: چراغ کی بتی
مہر: موم کی مہر، تصدیق کی علامت

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: