![]() |
|
مرکزی خیال:
ہم وقت نہیں، خود کو اسکرول کرتے ہیں۔ "بس ایک منٹ" سب سے لمبی زنجیر بن جاتا ہے۔ اور ہم خود اسے اپنے ہاتھ سے باندھتے ہیں۔
رات کے تین بجے تھے۔ شہر کی آوازیں مر چکی تھیں۔ اس کے کمرے میں موبائل کی نیلی روشنی تھی۔ چہرے پر پڑ رہی تھی۔
اسکرول کر رہا تھا۔
انگلی اوپر گئی۔ تصویریں بدلیں۔ پیغام آئے۔ دل بڑھے، گھٹے۔ کوئی دوست نئی گاڑی لایا تھا۔ کسی کی پروموشن ہوئی تھی۔ کسی اجنبی کی چھٹیاں زیادہ خوبصورت تھیں۔
بیوی نے کروٹ لی۔ "آجا، رات گئی۔"
"بس ایک منٹ۔"
دو بجے گزر گئے تھے۔
صبح اٹھا۔ آنکھوں کے نیچے سیاہی۔ سر میں بوجھ۔ بیوی نے پوچھا، "ٹھیک ہو؟"
"ہوں۔ نیند کم آئی۔"
دفتر میں باس نے کہا، "کل رپورٹ دو۔" سر ہلا دیا۔ کل جمعہ تھا۔ ہفتے کی آخری سانس۔
لنچ میں ساتھی نے پوچھا، "کیا حال؟"
"بس یونہی۔"
سہ پہر کو قسط یاد آئی۔ بینک کا پیغام: "براہِ کرم جمع کروائیں۔" حساب لگایا۔ تنخواہ آدھی قسطوں میں۔ بقیہ بجلی، پانی، اسکول فیس میں۔
گھر آتے ہوئے بیٹے نے موبائل بڑھایا، "ابو، یہ کھیل دو۔" بچہ اسکرین کی طرف جھکا تھا۔ جیسے وہی دنیا ہو۔ کھیل دے دیا۔ خود بھی تھکا تھا۔ بحث کی طاقت نہیں تھی۔
رات کو بیٹھا۔ سوچا — کچھ لکھوں؟ کبھی شوق تھا۔ کہانیاں بناتا تھا۔ سوچتا تھا کوئی دن آئے گا۔ وہ دن تھا۔ وقت نہیں تھا۔
کھڑکی سے باہر دیکھا۔ سامنے عمارت کی ہر کھڑکی میں روشنی تھی۔ ہر کھڑکی کے پیچھے اسکرین چمک رہی تھی۔
مسکرایا۔ ایسی مسکراہٹ جو کسی نے نہ دیکھی۔
موبائل اٹھایا۔ انگلی پھر اسکرول کرنے لگی۔
-----------------------
مشکل الفاظ کے معنی
اسکرول: انگلی سے اسکرین اوپر نیچے کرنا
قسط: ماہانہ ادائیگی، قسطوار رقم
بوجھ: وزن، تھکاوٹ
بقیہ: بچا ہوا حصہ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: