عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

آخری کتاب کا ورق Akhri Kitaab Ka Waraq

بعض سوال صرف اُس وقت کھلتے ہیں جب کتاب بند ہو چکی ہو۔


مرکزی خیال: 

کچھ محبتیں سن لی جاتی ہیں، پڑھی نہیں جاتیں۔ جب بولنے والا چلا جائے تو آخری ورق سوال بن کر کھلتا ہے۔ اور جواب خاموشی ہوتی ہے۔


موسم برسنے کو تھا۔ برسا نہیں۔ دسمبر کی دوپہر تھی۔ آنکھوں میں آنسو تھے۔ پپوٹے پتھر کے ہو گئے تھے۔ شہر کے پرانے کتب خانے کا دروازہ گھنٹی کے ساتھ کھلا۔

اندھیرا تھا۔ پرانی کتابوں کی بو تھی۔

ایک ہاتھ نے شال کا پلّو پیشانی تک کھینچا۔ موجودگی سکیڑنے کے لیے۔

"بی بی، کتابیں واپس لیتے ہیں؟"  

آواز میں کپکپاہٹ نہیں تھی۔ الفاظ میں تھی۔

دکاندار کی عمر گرد بھری کتابوں جیسی تھی۔ اس نے دیکھا۔ پہلے جِلد پر نظر پڑی۔ پھر سوجی آنکھوں پر۔  

"بیچتے ہیں، بی۔ خریدتے وہ ہیں جنہیں قدر کا پتا ہو۔"

عورت نے کتاب رکھی۔ جیسے مچھلی پانی میں چھوڑ رہی ہو۔  

کاغذ وقت کھا گیا تھا۔ جلد میں شال کی نرمی تھی۔ اوراق کناروں سے چکنے تھے۔

"یہ میرے خاوند کی تھی۔" بایاں ہاتھ بے اختیار کلائی پر گیا۔ مہندی کا دھندلا داغ تھا۔

دکاندار نے کتاب کھولی۔ اندر سوکھے گلاب کی پنکھڑی تھی۔ سُرخ۔ یہ کتاب نہیں تھی۔ گلاب تھا۔  

"بہت پرانی ہے بی۔ بیسویں صدی کا دوسرا عشرہ۔ بیچ کیوں رہی ہیں؟"

عورت نے الماریاں دیکھیں۔ کتابیں فوج کی طرح کھڑی تھیں۔ خاموشی ان کی زبان تھی۔  

"وہ مر گئے۔"  

جیسے کہہ رہی ہو، "آج پانی نہیں لائے۔"

دکاندار نے کتاب بند کی۔ "اور آپ نے پڑھ لی؟"

"پڑھ نہیں سکی۔ ضرورت نہ پڑی۔" ٹھنڈی سانس لی۔ "وہ جب آتے، پڑھ کر سناتے تھے۔ ہر رات ایک باب۔ صوفیوں والی لے تھی۔ باب ختم کر کے ورق چھوڑ جاتے۔ صبح کے انتظار میں۔"

دکاندار خاموش تھا۔ پہلا باب کھلا: "وعدہ"۔ پنسل سے لکیر تھی۔  

"محبت وہ نہیں جو سنائی دے، بلکہ وہ ہے جو لمس کی صورت خاموشی میں منتقل ہو۔"

"اور آخری باب؟" آہستہ پوچھا۔

عورت نے جواب نہ دیا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا۔ آسمان ابھی نہ برسا تھا۔  

"آخری رات کتاب رکھ گئے۔ کہا، اس باب میں ایک سوال ہے۔ خود پڑھ لینا۔ جب میری موت ہو جائے۔"

آخری صفحہ چپکا تھا۔ دکاندار نے چاقو سے اوراق جدا کیے۔ اندر ایک سطر تھی۔ روشنائی دھندلا گئی تھی:

"کیا تم نے مجھے اس لیے یاد کیا کہ میں پاس نہیں تھا، یا اس لیے بھولنا چاہا کہ تم نے خود کو میرے لائق نہیں سمجھا؟"

عورت نے دیکھا۔ پڑھا نہیں۔ پتھرائے پپوٹے ٹوٹ گئے۔ باہر بارش نہیں تھی۔ کتب خانے کی دھول میں دو قطرے گرے۔ جذب ہو گئے۔

کتاب سینے سے لگائی۔ گھنٹی بجاتے ہوئے نکل گئی۔ دکاندار نے آواز نہ دی۔ دام نہ مانگے۔

--------------------

مشکل الفاظ کے معنی

پوٹا: پلک کا اندر والا کنارہ  

عشرہ: دس سال کا عرصہ  

سرِ ورق: کتاب کا پہلا صفحہ  

روشنائی: سیاہی

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: