![]() |
| بعض گولیاں غیرت نہیں چلاتی، حساب چلاتا ہے۔ |
مرکزی خیال:
غیرت وہ ہے جو لوگ کہتے ہیں۔ حساب وہ ہے جو عورت خود لیتی ہے۔
لاہور۔ شاہدرہ۔ رات گئے گلیاں قبرستان بن جاتیں۔
ایک ہوٹل تھا۔ کمروں کی قطار۔ پیلی روشنی۔ دیواروں پر داغ۔
کمرہ نمبر ۴ سے چیخ نہیں آئی۔
صرف ایک گولی۔ پھر دوسری۔
مینجر بھاگا۔ دروازے پیٹے۔ "آواز کدھر سے؟"
جواب نہیں۔
تالا ٹوٹا ملا۔
اندر لاش۔ منہ کے بل۔
دو گولیاں۔ ایک سینے میں۔ ایک پیشانی میں۔
قاتل نہیں تھا۔
اسی وقت علینہ سیڑھیاں اتر رہی تھی۔
چہرے پر خوف نہیں تھا۔ تھکن تھی۔
ریسپشن سے گزری۔ باہر نکل گئی۔
کیمرے نے آنا جانا دیکھا۔ بیچ میں کیا ہوا، کسی کو نہیں بتانا تھا۔
تین دن بعد پولیس دروازے پر تھی۔
خود کنڈی کھولی۔
"میں جانتی تھی تم آؤ گے۔ میں نے کیا ہے۔"
"کیا کیا ہے؟"
"قتل۔"
"کس کا؟"
"اس کا جو میرے نام پر کیچڑ تھا۔"
تھانے میں کہہ دیا:
"ایک سال پہلے ملا۔ شکل سے شریف۔ بات دوستی کی۔ نظر شکاری کی۔
ویڈیوز بنائیں۔ تصویریں کھینچیں۔ اجازت کے بغیر۔
منع کیا تو بولا: 'دنیا دیکھے گی۔ پھر تم جینے کے قابل نہیں رہو گی۔'
میں نے کہا: 'جان لے لے۔ یہ گند مٹا دے۔'
اس نے کہا: 'تم آتی رہو۔ ویڈیوز رہیں گی۔'
اس رات والد کی الماری سے پستول اٹھایا۔ چلانا نہیں آتا تھا۔ فیصلہ آتا تھا۔
یا وہ، یا میں۔
کمرے میں گئی۔ وہ ہنسا: 'آخر مان گئی۔'
'سب ختم کر دو۔'
'میں بلیک میلر ہوں۔ فرشتہ نہیں۔'
پہلی گولی سینے میں۔ وہ ہانپا۔
دوسری پیشانی پر۔ وہ گرا۔
میں بیٹھی رہی۔ جب تک آنکھ کا پانی مر نہ گیا۔
پھر اٹھی۔ پستول بیگ میں۔ باہر آ گئی۔
مینجر نے کھٹکھٹایا۔ کہا: 'آواز اوپر سے آئی ہے۔' وہ بھاگے۔ میں نکل آئی۔"
انسپکٹر نے قلم رکھا۔ "اب؟"
"انصاف دیر سے ملا۔ میرے ہاتھ سے ملا۔"
عدالت میں وکیل چلایا: "دفاعِ عصمت تھا۔ غیرت کا معاملہ تھا۔"
جج نے فائل بند کی:
"غیرت طیش میں مارتی ہے۔
گھر سے اسلحہ لانا۔ دو گولیاں ناپ کر مارنا۔ لاش کے سرہانے بیٹھنا۔
یہ غیرت نہیں۔ یہ حساب تھا۔ ارادتاً قتل۔ دفعہ 302۔"
عمر قید ہوئی۔
جیل میں صحافی آیا۔ "پچھتاوا ہے؟"
"نہیں۔"
"دنیا تمہیں قاتل کہتی ہے۔"
آنکھ میں آنکھ ڈالی:
"دنیا نے اسے شریف کہا تھا۔ جب میں شکار تھی۔
میں نے صرف پردہ ہٹایا۔
عورت جب پیٹھ پر گولی کھاتی ہے تو یا قبر میں جاتی ہے، یا گولی چلانا سیکھ لیتی ہے۔"
"قانون نے تمہیں بند کر دیا۔"
مسکرائی۔ قبر سے اٹھی مسکراہٹ۔
"قانون نے مجھے بند کیا۔
اسے تب تک کھلا چھوڑا جب تک میں سانس لے رہی تھی۔
آج میں سلاخوں کے پیچھے ہوں۔ وہ مٹی کے نیچے۔
جس نے اس کی آنکھیں کھا لیں۔
اب بتاؤ۔ اصلی قید کسے ملی؟ حساب کس سے لیا گیا؟"
صحافی کی قلم مر گئی۔
اٹھا۔ بغیر لفظ لکھے چلا گیا۔
اگلی صبح سرخی: "علینہ کا بیان۔ میں نے غیرت نہیں، حساب لیا۔"
نیچے خاکہ۔ سلاخوں کے پار عورت۔ آنکھ میں انگارہ۔ پیچھے بے نام قبر۔
جس نے پڑھا، اس کے اندر ایک سوال دفن ہو گیا:
یہ کہانی ختم ہوئی، یا ابھی شروع ہوئی ہے؟
--------------
مشکل الفاظ کے معنی
دفاعِ عصمت: عزت کا دفاع
ارادتاً: جان بوجھ کر
دفعہ 302: قتل کی سزا
سلاخیں: جیل کی گرل

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: