![]() |
| بعض سوال مر کر بھی پوچھے جاتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:
کچھ کرسیاں خالی نہیں رہتیں۔ وہ سوال بن کر بیٹھ جاتی ہیں۔
سلیم آیا۔ کھانا کھایا۔ کمرے میں چلا گیا۔
باپ نے کہا: "بیٹھ جاؤ۔"
"نہیں۔"
باپ خاموش ہو گیا۔
ماں نے کہا: "طبیعت ٹھیک نہیں۔"
"کل دیکھوں گا۔"
وہ کل نہیں آیا۔
ایک صبح باپ نہ اٹھا۔
لوگ آئے۔ کفن باندھا۔ لے گئے۔
سلیم نے اسی دن کھانا کھایا۔
برسی پر کھانا بنا۔ لوگ آئے۔ کھا کر چلے گئے۔
سلیم نے تصویر دیکھی۔
تصویر نے اسے خاموشی سے دیکھ لیا۔
اب ہر شام سلیم اسی کرسی پر بیٹھتا ہے۔
نہ کوئی بات کرتا ہے۔
نہ کوئی جواب دیتا ہے۔
بس خاموشی ہے۔ اور وہ عادی ہو چکی ہے۔
-----------------------------
مشکل الفاظ کے معنی
برسی: سالگرہ فوت
کفن: میت کا کپڑا
عادی: جس کی عادت ہو جائے
خاموشی: بولے بغیر

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: