عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

کھڑکی Khirki

بعض کرسیاں خالی نہیں ہوتیں، وہ تربیت سے بھری ہوتی ہیں۔ 

مرکزی خیال:

جو بچپن میں "خاموش رہو" سکھاتا ہے وہ بڑھاپے میں "فون نہیں اٹھتا" پاتا ہے۔ کرسی خالی نہیں تھی۔ وہ ہماری دی ہوئی تربیت سے بھری تھی۔


برآمدے میں پرانی کرسی تھی۔ اب بھی اُسی طرف دیکھتی تھی جہاں بیٹا شام کو بیٹھتا تھا۔

ماں نے چائے کا کپ اٹھایا۔ چینی نہیں ڈالی۔ کھانسی بڑھ گئی تھی۔ بیٹے نے کل کہا تھا، "امی، شہر میں نوکری مل گئی۔ اچھی کمپنی ہے۔"

"بہت اچھا بیٹا۔"

"تیس ہزار ماہانہ۔"

مسکرائی تھی۔ تیس ہزار۔ بیٹے نے کہا تھا لاہور جائے گا۔ گھر کا کھانا، ماں کی چائے، پرانی کرسی — سب وہیں رہ گیا۔

اب بارہ بجے تھے۔ فون نہ بج رہا تھا۔ نمبر ملایا۔ تین گھنٹیاں۔ چار۔ پانچ۔

"ہیلو امی! کیا بات ہے؟"

"کچھ نہیں بیٹا، بس..."

"امی کام ہے۔ کل بات کریں۔"

لائن کٹ گئی۔

کپ اٹھایا۔ چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ کرسی کی طرف دیکھا۔ خالی تھی۔ آئینے میں خود کو دیکھا۔ بال سفید۔ ہاتھ لرزتے۔

یاد آیا۔ بچپن میں بیٹا روتا تھا تو کہتی تھی، "روتے نہیں، بڑے بنو۔" گرتا تھا تو کہتی تھی، "خود اٹھو، میں نہیں اٹھاؤں گی۔" سوال کرتا تھا تو کہتی تھی، "بہت باتیں کرتے ہو، خاموش رہو۔"

اب بیٹا خاموش تھا۔ بہت خاموش۔ خود اٹھنا سیکھ گیا تھا۔ رونا چھوڑ چکا تھا۔

کپ رکھ دیا۔ بجلی گئی۔ کمرے میں اندھیرا چھا گیا۔ اندھیرے میں کرسی پہلے سے زیادہ خالی لگی۔

----------------

مشکل الفاظ کے معنی

برآمدہ: گھر کے باہر کا حصہ، ورنڈہ  

ماہانہ: ہر مہینے کی تنخواہ  

لرزنا: کانپنا  

چوکاٹ: کھڑکی یا دروازے کا فریم


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: