برآمدے میں پرانی کرسی رکھی تھی۔ لکڑی کے رنگ اکھڑ چکے تھے، مگر اس کی سمت اب بھی گلی کے موڑ کی طرف تھی—جہاں سے سالوں پہلے بیٹا شام کو سائیکل سے اتر کر اندر آتا تھا۔
ماں نے چائے کا کپ اٹھایا۔ چمچ سے چینی ہلائی، مگر چائے پھیکی تھی۔ ڈاکٹر نے پرہیز بتایا تھا، لیکن حلق میں کڑواہٹ بیماری کی نہیں، سناٹے کی تھی۔
کل رات فون پر اس نے کہا تھا، "امی، لاہور میں نیا فلیٹ مل گیا ہے۔ کمپنی اچھی ہے، مصروفیت زیادہ رہے گی۔"
"بہت خوب بیٹا..." ماں نے بستر کے کونے کو مضبوطی سے پکڑا تھا۔ "کھانا وقت پر کھا لیا کرو۔"
"امی! آپ کو پتہ ہے میں کام کے وقت ڈسٹربنس پسند نہیں کرتا۔ بچپن سے عادت ہے۔"
لائن کٹ گئی تھی۔ فون کا بند ہونا اب کوئی نئی بات نہیں تھی۔
بارہ بجے۔ دھوپ صحن سے سسکتی ہوئی دیوار پر چڑھ گئی۔ ماں نے فون دوبارہ اٹھایا۔ نمبر ملا کر کان سے لگایا۔ تین گھنٹیاں گئیں۔ چار۔ پانچ۔ پھر فون کٹ گیا۔
کپ میز پر رکھا۔ چائے ٹھنڈی ہو کر جمنے لگی تھی۔
انھوں نے نظر اٹھا کر سامنے کرسی کو دیکھا۔ وہ بالکل خالی تھی۔ آئینے کے سامنے کھڑی ہوئیں تو بال برف کی طرح سفید اور چہرہ جھریوں کا نقشہ بنا ہوا تھا۔ ایک دم ماضی کا پردہ سرکا۔
یاد آیا...
جب بیٹا سات سال کا تھا، کسی بات پر روتا ہوا کمرے میں آیا تھا۔ اس نے ماں کا آنچل پکڑنا چاہا تھا۔ ماں نے ہاتھ جھٹک دیا تھا: "مرد روتے نہیں ہیں! جاؤ، اپنے روم میں جا کر خاموش بیٹھو۔"
جب وہ سکول سے آ کر دن بھر کی باتیں سنانے بیٹھتا، تو ماں برتن دھوتی ہوئی کہتی: "بہت بولتے ہو، تھوڑی دیر چپ رہنا سیکھو۔ مجھے کام کرنے دو۔"
جب وہ گرتا اور ہاتھ بڑھاتا، تو ماں دور کھڑی ہو کر کہتی: "خود اٹھو! کوئی تمہیں سہارا دینے نہیں آئے گا۔"
آج بیٹا بڑا ہو گیا تھا۔ بہت بڑا۔ اس نے رونا چھوڑ دیا تھا، سہارا مانگنا بھول گیا تھا، اور سب سے بڑھ کر—اس نے خاموش رہنا سیکھ لیا تھا۔
ماں نے لرزتے ہاتھوں سے چائے کا کپ اٹھا کر سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
بجلی چلی گئی۔ کمرے میں یکلخت اندھیرا پھیل گیا۔ لیکن اس اندھیرے میں ماں کو پہلی بار احساس ہوا کہ وہ کرسی خالی نہیں تھی۔
اس کرسی پر ان کا اپنا ماضی بیٹھا تھا۔ اس پر وہ خاموشی بیٹھی تھی جو انہوں نے خود اپنے ہاتھوں سے بیٹے کے اندر بوئی تھی۔ بیٹا دور نہیں گیا تھا، اسے تو دور جانا سکھایا گیا تھا۔
انھوں نے آئینے کے سامنے سے ہٹ کر کرسی کی طرف قدم بڑھائے، اس کے لکڑی کے ٹھنڈے بازوؤں پر ہاتھ رکھا اور پہلی بار اعترافِ جرم کی طرح آہستہ سے بولی: "تم نے ٹھیک سکھایا تھا... میں نے ہی غلط پڑھایا تھا۔"
---
مشکل الفاظ کے معنی:
برآمدہ: گھر کے سامنے کا کھلا صحن یا ورنڈہ
سناٹا: مکمل خاموشی یا ویرانی
لرزتے: کانپتے ہوئے
یکلخت: اچانک یا ایک دم
اعترافِ جرم: اپنی غلطی یا گناہ کو مان لینا
مصنف کا نوٹ:اس افسانے کے ذریعے قاری کی توجہ اس المیے کی طرف مبذول کروانا چاہتا تھا کہ بچوں کی کردار سازی اور تربیت میں ہمارے رویے ان کے مستقبل کی بنیاد بنتے ہیں۔ اکثر اوقات ہم بچوں کی معصومیت اور جذبات کو "ضبط"، "سختی" اور "ڈسپلن" کے نام پر دبا دیتے ہیں، لیکن جب وہی بچے بڑے ہو کر رویوں میں سرد مہری اور خاموشی اختیار کر لیتے ہیں تو ہم اسے ان کی بے وفائی یا لاپروائی سے تعبیر کرتے ہیں۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: