![]() |
| بعض شور اندر ہوتا ہے، اور باہر صرف کپ ٹھنڈا ہوتا ہے۔ |
مرکزی خیال:
بے قدری کا قطرہ برسوں کی قدر دھو دیتا ہے۔ جب اندر کا شور باہر نہ نکلے تو انسان ٹھنڈی چائے بن جاتا ہے۔ ایک جملہ، ایک گرم کپ، روشنی واپس لا سکتا ہے۔
رات کے تین بجے تھے۔ تیسری منزل پر ایک کمرے میں روشنی جل رہی تھی۔
آصف کرسی پر بیٹھا تھا۔ ٹھنڈے کپ کو دیکھ رہا تھا۔ بیوی نے دو گھنٹے پہلے کہا تھا:
"آپ سے بات کر کے دیوار سے باتیں کرنا بہتر ہے۔ کم از کم دیوار جواب نہیں دیتی۔"
ہنسا تھا تب۔ اب کپ کی کھل پر اپنی تصویر دیکھ رہا تھا۔ بکھرا ہوا، ادھورا۔
باہر ہلکی بارش تھی۔ شیشے پر لکیریں تھیں۔ ہر لکیر ایک یاد کی طرح۔ کبھی ساتھ بہتی، کبھی الگ ہو جاتی۔
بیٹے نے صبح پوچھا تھا:
"ابو، آپ ہنستے کیوں نہیں؟"
"ہوں نا میں۔"
"لیکن آنکھیں نہیں ہنستیں۔"
آٹھ سال کا بچہ تھا۔ فرق جانتا تھا۔
آصف نے بالوں پر ہاتھ رکھا۔ بچے کا سر گرم تھا۔ اس کی ہتھیلی سرد۔
دفتر میں ساتھی نے کہا تھا:
"آصف صاحب، پروموشن نہیں ملے گی۔ فائل میں لکھا ہے: 'موثر مواصلت کی کمی'۔"
موثر مواصلت۔ یعنی دل کی بات نہ کہنا۔ نہ رونا، نہ چلانا۔ نہ کہنا کہ میں تھک گیا ہوں۔
چپ رہا۔
موبائل پر پرانی تصویر تھی۔ پانچ سال پہلے۔ شادی میں۔ بھیگتا چہرہ۔ روشن آنکھیں۔
شیشے میں دیکھا۔ کندھوں پر بوجھ نہیں تھا۔ مگر جھکا ہوا تھا۔
ماں بیمار پڑیں تو ڈاکٹر نے کہا تھا:
"یہ جسمانی کمزوری نہیں، روحانی ہے۔"
تب سمجھا نہیں تھا۔ اب سمجھتا ہے۔
روح تھک جاتی ہے۔ بارش کے بعد کی مٹی کی طرح۔ دب جاتی ہے۔ پھول نہیں نکالتی۔
اٹھا۔ کچن میں گیا۔ چائے نہ بنائی۔ فرج کھولا۔ کھانا تھا۔ دودھ تھا۔ پھل تھے۔ سب تھا۔ سوائے بھوک کے۔
بارہ سال پہلے ایک روٹی پر گزارا کرتا تھا۔ بھوک تھی تو کھاتا تھا۔ اب سب ہے۔ جی نہیں چاہتا۔
بھوک نہ ہونا بیماری ہے۔ اور اس سے بڑی یہ کہ کوئی پوچھے بھی نہیں۔
بالکونی میں کھڑا ہوا۔ بارش تیز تھی۔ نیچے کتا بھیگ رہا تھا۔ کبھی بھاگتا، کبھی درخت کے نیچے جاتا، پھر واپس بارش میں۔
انسان بھی ایسا ہے۔ پناہ ڈھونڈتا ہے۔ مگر چپ چاپ بھیگنا بھی انداز ہے۔
جملہ یاد آیا: "انسان تب تھک جاتا ہے جب دکھ چھپانے پڑیں۔"
چھپانا نہیں آیا۔ بس چپ رہا۔ چپ رہنا بھی ایک طرح کا رونا ہے۔
صبح ہوئی۔ بیوی نے پوچھا:
"چائے پی لو گے؟"
"وہ جو تم نے کل کہا تھا نا... دیوار سے باتیں..."
کپ رکھ دیا۔
"غصے میں کہا تھا۔"
"میں نے سنا ہے۔" آصف نے کہا۔ "تم ٹھیک کہتی ہو۔ میں بولتا نہیں۔"
بیوی نے دیکھا۔ ایک لمحہ تھا۔ کچھ کہنا چاہا۔ نہ کہا۔
"چائے لے آؤں۔"
شام کو پرانی ڈائری نکالی۔ پہلا صفحہ: "میں لکھوں گا کہ میں کیا محسوس کرتا ہوں۔"
بیس صفحے بھرے تھے۔ پھر تاریکی۔
قلم اٹھایا۔ لکھا:
"آج محسوس کیا کہ بے قدری کا قطرہ برسوں کی قدر دھو دیتا ہے۔"
قلم رکھ دیا۔ جملہ کافی تھا۔
رات پھر آئی۔ سو نہ سکا۔ کھڑکی کھولی۔ دور چراغ تھا۔
دادی کی بات یاد آئی:
"بیٹا، جب اندھیرا ہو تو آنکھیں بند کر لیا کر۔ روشنی اندر ہوتی ہے۔"
آنکھیں بند کیں۔ اندھیرا تھا۔ پھر روشنی آئی۔ چھوٹی، لرزتی ہوئی، مگر تھی۔
بیٹے کا چہرہ۔ دوست کا کندھا۔ بیوی کی پتلی کھچڑی۔ نمک کم، ہاتھوں کی گرمی۔
رو پڑا۔ خاموشی سے۔ جیسے بارش زمین کو بھگوتی ہے بغیر آواز کے۔
صبح بیوی اٹھی۔ کچن میں دو کپ چائے تھی۔ ایک پر نوٹ:
"میں بولنا سیکھوں گا۔ تم سنو گی؟"
کاغذ پکڑا۔ آنکھیں نم تھیں۔
آصف آیا۔
"چائے ٹھنڈی ہو گئی۔"
"پھر سے گرم کر لیں۔"
اس بار آنکھیں ہنسیں۔ تھوڑی، مگر ہنسیں۔
----------------
مشکل الفاظ کے معنی
مواصلت: بات چیت، رابطہ
بے قدری: قدر نہ کرنا، اہمیت نہ دینا
تاریکی: اندھیرا، خلا
لرزانا: ہلکا کانپنا

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: