مرکزی خیال:اس افسانے کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان قانون کی نظر میں جھوٹ اور فریب کے ذریعے وقتی طور پر بری ہو سکتا ہے، لیکن اپنے ضمیر کی عدالت سے نہیں بچ سکتا۔ حقیقی سکون اور آزادی جھوٹی کامیابی میں نہیں بلکہ سچ کے اعتراف اور حقیقت کا سامنا کرنے میں مضمر ہے۔ ضمیر کی آواز پر لبیک کہنا ہی مردہ روح میں نئی جان ڈالنے کا باعث بنتا ہے۔
(1)
عدالت کے سامنے والی سڑک پر دھوپ تیز ہو رہی تھی۔ عارف نے اپنا سفید کرتا اتار کر کمر سے باندھ لیا تھا۔ اس کی آنکھیں عدالت کے زرد پتھروں والے دروازے پر ٹکی تھیں۔ اندر اس کا مقدمہ چل رہا تھا۔ پانچویں پیشی۔
"عارف!"
پیچھے سے ایک ہاتھ نے اس کے کندھے پر دستک دی۔ وکیل صاحب تھے۔ چمکتی ہوئی قمیض،کالی پتلون، ہاتھ میں چمڑے کا بریف کیس۔ ان کے چہرے پر وہی پراعتماد مسکراہٹ تھی جو پہلی ملاقات سے تھی۔
"کچھ پریشان نظر آتے ہیں؟"
عارف نے گردن ہلائی، "نہیں... بس سوچ رہا تھا۔"
"سوچنے کی ضرورت نہیں۔ آج فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔" وکیل صاحب نے اس کی پیٹھ تھپتھپائی، "چلو، چائے پی لیتے ہیں۔ گرمی میں بھاگ دوڑ سے گلا سوکھ گیا ہوگا۔"
چائے والے کی چھوٹی سی دکان پر بیٹھے تو وکیل صاحب نے دو پیالیوں کا آرڈر دیا۔ عارف نے دیکھا کہ وکیل صاحب کے ہاتھ پر ایک پرانی گھڑی تھی۔ اس کی سوئیاں آہستہ آہستہ چل رہی تھیں۔ وقت کی طرح۔
"جناب، آپ پندرہ سے بیس بندے بھی مار کر ان کے پاس چلے جاؤ۔" وکیل صاحب نے چائے کا ایک گھونٹ لیا، "وکیل چائے منگوائے گا اور کہے گا کہ جناب یہ تو مسئلہ ہی کوئی نہیں۔ پہلی پیشی میں ہی فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔"
عارف نے مسکرانے کی کوشش کی۔ یہی جملے اس نے تین ماہ پہلے بھی سنے تھے جب وہ پہلی بار وکیل صاحب کے چیمبر میں گیا تھا۔ اس وقت اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، آنکھوں کے سامنے وہ تصویر تیرتی تھی جو اب بھی رات کو اسے جگا دیتی تھی۔
"مگر..." عارف نے آواز کو مستحکم کرنے کی کوشش کی، "اگر..."
"کوئی اگر نہیں۔" وکیل صاحب نے اس کی بات کاٹ دی، "بے شک وکیل سبز باغ دیکھاتے ہیں، مگر ہمارا یہ حوصلہ مردے میں نئی روح پھینکتا ہے۔"
مردے میں نئی روح...
لفظ عارف کے ذہن میں گونجے۔ اس نے اپنے ہاتھ دیکھے۔ صاف۔ سفید۔ مگر اسے لگتا تھا کہ وہ ہمیشہ سرخ ہی رہیں گے۔
(2)
تین ماہ پہلے کی بات تھی۔ عارف لاہور سے کراچی آیا تھا۔ نوکری کی تلاش میں۔ ایک پرانے دوست کے کہنے پر وہ ایک پرائیویٹ اسکول میں ڈرائیور لگ گیا۔ بچوں کو گھر چھوڑنے لے جانے کا کام۔
رابعہ چھٹی جماعت میں پڑھتی تھی۔ آٹھ سال کی معصوم بچی۔ ہمیشہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھتی، اپنے بستے سے رنگین پنسلیں نکال کر عارف کو دکھاتی۔ "عارف چاچا، میں نے آج ایک پرندہ بنایا ہے۔" "عارف چاچا، آپ کو سبز رنگ پسند ہے یا نیلا؟"
ایک دن وہ اسکول سے غائب رہی۔ ہیڈ مسٹریس نے عارف سے پوچھا تو اس نے کہا کہ رابعہ بیمار تھی اس لیے نہیں آئی۔ مگر حقیقت یہ تھی کہ وہ اسے چھوڑنا بھول گیا تھا۔ اس دن اس کی بیٹی کی سالگرہ تھی۔ لاہور میں۔ فون پر بیوی کے ساتھ جھگڑا ہوا۔ ذہن پراگندہ تھا۔
شام کو جب اس نے واپس آکر وین کا دروازہ کھولا تو سانس رک گئی۔
رابعہ وین کے فرش پر سوئی ہوئی تھی۔ چہرے پر آنسوؤں کے خشک نشانات۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو بولی: "عارف چاچا، میں نے آپ کا بہت انتظار کیا۔"
اس لمحے عارف کے اندر کچھ ٹوٹ گیا۔ خوف نے اسے ڈس لیا۔ اگر اس کے والدین کو پتہ چل گیا؟ اگر اسکول والوں نے سمجھ لیا؟ نوکری چلی جائے گی۔ پھر لاہور کیسے لوٹے گا؟ بیوی کیا کہے گی؟
"رابعہ بیٹا، تم نے کسی کو نہیں بتایا نا؟"
بچی نے سر ہلایا۔
"اچھا تو اب ہم ایک کھیل کھیلیں گے۔" عارف کی آواز کانپ رہی تھی، "تم یہ کہو گی کہ تم بیمار تھیں اس لیے اسکول نہیں آئیں۔ میں تمہیں اب گھر چھوڑتا ہوں۔"
رابعہ نے حیرت سے دیکھا، "لیکن میں نے تو..."
"بس۔ یہی کہنا ہے۔"
اگلے دن رابعہ اسکول نہیں آئی۔ اگلے ہفتے پتہ چلا کہ خاندان کہیں اور شفٹ ہو گیا ہے۔ عارف نے سکھ کا سانس لیا۔ مگر راتوں میں وہ تصویر آنے لگی۔ وین کا اندھیرا۔ ایک بچی کی بھوکی، خوفزدہ آنکھیں۔ اس کا اپنا جھوٹ۔
پھر ایک ماہ بعد پولیس آئی۔ رابعہ لاپتہ ہو گئی تھی۔ والدین نے رپورٹ درج کرائی۔ تفتیش میں عارف کا نام سامنے آیا۔ اس دن کا واقعہ۔
عارف نے انکار کیا۔ جھوٹ پر جھوٹ بولا۔ مگر اندر سے کچھ مر چکا تھا۔
(3)
"چلو، اب وقت ہو گیا ہے۔" وکیل صاحب نے چائے کی پیالی ٹیبل پر رکھی، "آج جج صاحب فیصلہ سنائیں گے۔"
عدالت کے کمرے میں ہوا جمی ہوئی تھی۔ عارف اپنی سیٹ پر بیٹھا، ہاتھوں میں پسینہ آ رہا تھا۔ اس نے چاروں طرف دیکھا۔ رابعہ کے والدین سامنے والی بینچ پر بیٹھے تھے۔ ماں کی آنکھیں سرخ تھیں۔ باپ کے چہرے پر تھکن کے گہرے نشانات۔
"یہ آدمی جھوٹ بول رہا ہے۔" وکیل مخالف نے دلیل دی، "اس نے تسلیم کیا تھا کہ اس دن رابعہ اس کی وین میں تھی۔ بعد میں اپنا بیان بدل دیا۔"
عارف کا وکیل کھڑا ہوا، "جناب، میرے موکل نے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ یہ سب پولیس کی دھمکیوں کے تحت لیا گیا بیان تھا۔ رابعہ اس دن بیمار تھی، اس کے والدین نے خود ہیڈ مسٹریس کو اطلاع دی تھی۔"
جج صاحب نے عارف کی طرف دیکھا۔ ایک طویل، گھورتی ہوئی نظر۔ عارف نے نظریں جھکا لیں۔ اس کے سامنے رابعہ کا چہرہ تیرنے لگا۔ وہ رنگین پنسلیں۔ وہ پرندے کی تصویر جو اس نے بنائی تھی۔
"افسر، اس دن کی حاضری کی رجسٹر پیش کریں۔"
ہیڈ مسٹریس نے رجسٹر پیش کیا۔ جج صاحب نے ورق پلٹے۔ عارف کے سینے میں دل تیز دھڑک رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ حاضری کے کالم میں رابعہ کے نام کے سامنے 'غ' لکھا ہوا تھا۔ غائب۔
مگر جب جج صاحب نے اس صفحے کو دیکھا تو ایک عجیب سا اظہار ان کے چہرے پر آیا۔
"یہاں تو حاضری لگی ہوئی ہے۔"
عارف نے حیرت سے سر اٹھایا۔ کیا؟
ہیڈ مسٹریس نے کانپتی آواز میں کہا، "جناب، شاید... شاید غلطی سے..."
"غلطی؟" جج کی آواز میں سختی آ گئی، "تین ماہ سے چلنے والے مقدمے کی بنیاد ایک غلطی پر ہے؟"
کمرے میں سرگوشیاں اٹھنے لگیں۔ عارف نے وکیل صاحب کی طرف دیکھا۔ وکیل صاحب مسکرا رہے تھے۔ اطمینان سے۔ ایک خفیف سے اشارے سے انہوں نے بتایا: دیکھا، میں نے کہا تھا نا؟
عارف کا دماغ تیزی سے چلنے لگا۔ کیسے ممکن ہے؟ اس نے خود دیکھا تھا۔ رابعہ غائب تھی۔ اس نے اس دن وین میں ساری دوپہر گزاری تھی۔ پھر اچانک اسے یاد آیا۔ تین ہفتے پہلے وکیل صاحب نے کہا تھا: "تمام ثبوت میری ذمہ داری ہیں۔ آپ بس خاموش رہیں۔"
کیا...؟
جج صاحب فیصلہ سنا رہے تھے: "...ثبوت ناکافی ہیں۔ ملزم بری ہے۔"
رابعہ کی ماں کا رونے کی آواز گونجی۔ باپ نے اسے سہارا دینے کی کوشش کی۔ عارف اپنی جگہ سے اٹھا۔ پیروں تلے زمین ڈول رہی تھی۔
باہر نکلا تو وکیل صاحب نے اسے گلے لگا لیا، "مبارک ہو! کہا تھا نا کہ پہلی پیشی میں فیصلہ ہمارے حق میں ہوگا۔"
"لیکن..." عارف کی آواز بیٹھی ہوئی تھی، "وہ رجسٹر..."
"رجسٹر؟" وکیل صاحب نے قہقہہ لگایا، "جناب، عدالت میں کاغذات ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ اصل حقیقت کوئی نہیں دیکھتا۔"
عارف نے اپنے ہاتھ دیکھے۔ صاف۔ سفید۔ قانونی طور پر بری۔ مگر اندر سے وہ پہلے سے کہیں زیادہ گندا محسوس کر رہا تھا۔
"وکیل صاحب، ایک بات پوچھوں؟"
"پوچھیں۔"
"آپ کو یقین تھا کہ میں بے قصور ہوں؟"
وکیل صاحب کی مسکراہٹ تھوڑی سی بے رونق ہوئی۔ انہوں نے عارف کے کندھے پر ہاتھ رکھا، "عارف صاحب، میرا کام آپ کو بری کروانا ہے، یہ فیصلہ کرنا نہیں کہ آپ بے قصور ہیں یا نہیں۔"
"اور اگر میں قصوروار ہوتا؟"
"تو بھی بری ہو جاتے۔" وکیل صاحب نے بریف کیس اٹھایا، "میرا فلسفہ سادہ ہے: ہر مرتا ہوا آدمی زندہ رہنے کا مستحق ہے۔ اگر میرے حوصلے سے مردے میں روح پھونک سکتا ہوں، تو یہ میرا فرض ہے۔"
وہ چلے گئے۔ عارف عدالت کی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا۔ شام ڈھل رہی تھی۔ اس نے اپنے فون سے لاہور میں اپنی بیٹی کی تصویر دیکھی۔ آٹھ سال کی۔ رابعہ جیسی عمر۔
ایک آواز اس کے اندر گونجی: تم جانتے ہو سچ کیا ہے۔
اس نے فون بند کیا۔ اٹھا۔ سیدھا عدالت کے اندر واپس گیا۔ رابعہ کے والدین ابھی تک وہیں تھے۔ ماں رو رہی تھی۔ باپ خالی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
عارف نے ان کے سامنے کھڑے ہو کر سر جھکا دیا۔
"میں معافی چاہتا ہوں۔"
باپ نے حیرت سے دیکھا، "کیوں؟ تم تو بری ہو گئے۔"
"نہیں۔" عارف نے گہری سانس لی، "میں وہ سب بتاؤں گا جو واقعی ہوا۔ رابعہ کہاں ہے، میں نہیں جانتا۔ مگر جو کچھ اس دن ہوا، وہ بتا سکتا ہوں۔"
ماں کی آنکھوں میں ایک چمک سی آئی۔ امید کی کونپل۔
عارف نے عدالت کے اس کونے میں بیٹھ کر، ایک ایک لفظ ٹوٹی ہوئی آواز میں کہنا شروع کیا۔ وہ وین۔ وہ بھول۔ وہ ڈر۔ وہ جھوٹ۔
جیسے وہ بولتا گیا، ویسے ہی اس کے سینے سے ایک بوجھ اترتا گیا۔ تین ماہ سے دبایا ہوا سچ، اب باہر نکل رہا تھا۔ مردے میں نئی روح پھونکنے کا اصل طریقہ یہ تھا: مردہ سچ کو زندہ کرنا۔
باہر، وکیل صاحب اپنی گاڑی میں بیٹھے تھے۔ انہوں نے عدالت کی طرف دیکھا۔ مسکرائے۔ ان کی گھڑی کی سوئیاں چل رہی تھیں۔ وقت کی طرح۔ کچھ فیصلے وقت سے پہلے ہو جاتے ہیں، کچھ بعد میں۔ مگر سچائی کا فیصلہ ہمیشہ دیر سے ہی سہی، آتا ضرور ہے۔
عدالت کے دروازے پر شام کی پہلی بتی روشن ہوئی۔ اندر، ایک آدمی اپنے مردہ ضمیر میں نئی روح ڈال رہا تھا۔
----------------
مشکل الفاظ کے معنی:
پراگندہ: پریشان، منتشر، الجھا ہوا (خاص طور پر ذہن یا فکر کا الجھن میں ہونا)۔
سبز باغ دکھانا: جھوٹے دلاسے دینا، بڑے بڑے اور خوبصورت لیکن نا قابلِ عمل وعدے کرنا۔
حوصلہ: ہمت، جرأت، دل کو مضبوط رکھنا۔
مردے میں نئی روح پھونکنا: کسی بالکل مایوس یا ختم ہو جانے والی چیز میں دوبارہ زندگی اور امید پیدا کر دینا۔
تیرنا (تصویر کا): آنکھوں کے سامنے کسی یاد یا نقش کا بار بار ابھرنا یا نظر آنا۔
تفتیش: چھان بین، تحقیقات، کھوج لگانا۔
سرگوشیاں: دھیمی آواز میں آپس میں باتیں کرنا، کھسر پھسر۔
خفیف: ہلکا سا، باریک، تھوڑا۔
بریت (بری ہونا): الزام سے پاک قرار پانا، سزا یا مقدمے سے آزاد ہونا۔
امید کی کونپل: آس یا امید کی نئی کرن، نئی شروعات کا اشارہ۔
ضمیر: انسان کی اندرونی اخلاقی حِس، جو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتی ہے۔
مصنف کا نوٹ:انسان قانون اور عدالت کے کٹہرے سے جھوٹ، حیلے بہانوں اور ماہر وکلاء کی شکنجہ سازی کے ذریعے وقتی طور پر تو بری ہو سکتا ہے، لیکن ضمیر کی عدالت انسان کا تعاقب کبھی نہیں چھوڑتی۔ سچی آزادی اور سکون قانونی بریت میں نہیں، بلکہ اپنے گناہ کا اعتراف کرنے اور حقیقت کا سامنا کرنے میں مضمر ہے۔ ظاہری جیت کے مقابلے میں اندرونی سچائی اور ضمیر کی نکھار ہی انسان کو حقیقی معنی میں زندہ رکھتی ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: