عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

تصویر کے پیچھے Tasveer ke Peechay


مرکزی خیال: انسان جب اپنے کسی گناہ، غلطی یا بزدلی کو سالہا سال اپنے اندر چھپائے رکھتا ہے تو وہ باہر سے جتنا بھی عام دکھائی دے، اندر سے لمحہ بہ لمحہ مر رہا ہوتا ہے۔ سچا سکون، اپنے ماضی کے سچ کو قبول کرنے، اپنے گناہ کا اعتراف کرنے اور اپنے آپ کو معاف کرنے میں ہی پنہاں ہے۔ کہانی یہ سبق بھی دیتی ہے کہ دکھ اور ندامت کو مستقل بوجھ بنانے کے بجائے اسے قبول کر کے زندگی میں آگے بڑھنا چاہیے۔


بارش نے نہ صرف فضا کو تر کیا تھا بلکہ شہر کے تمام زخم بھی کھول دیے تھے۔ امجد سڑک کے کنارے اپنی چائے کی دکان پر کھڑا بے نام سی گلیوں کی طرف دیکھ رہا تھا۔ بارش کی بوندیں ٹین کی چھت سے ٹپک رہی تھیں، ایک یکسان دھڑکن جس میں پورا شام سما گیا تھا۔

"امجد بھائی، ایک کپ پکی چائے۔"

اس نے بغیر کچھ کہے چائے بنانا شروع کی۔ ہاتھوں کی حرکتیں خودکار تھیں، لیکن ذہن کہیں اور تھا۔ اسی گلی میں، آج سے ٹھیک بیس سال پہلے، ایک اور ایسی ہی بارش والے دن اس کی زندگی نے وہ موڑ لیا تھا جس کے بعد وہ کبھی سیدھا نہ ہو سکا۔

وہ ہر سال اسی تاریخ کو، اگر بارش ہوتی، تو دکان پر چہرے تلاش کرتا۔ شاید وہ لوٹ آئے۔ شاید معافی مانگ لیں۔ یا شاید صرف یہ بتا دیں کہ وہ زندہ ہے۔

"آپ کا چہرہ تو بہت اداس ہے آج، امجد بھائی۔"

ننھی، پڑوسی کی بیٹی، اپنی نیلی چھتری تہہ کرتے ہوئے بولی۔ وہ روز اس کی دکان سے چائے لے جاتی تھی اپنے بیمار باپ کے لیے۔

"بارشوں میں پرانے زخم ہیرے ہو جاتے ہیں، بیٹی۔" امجد نے چائے کا کپ اس کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے کہا۔ اس کی آواز میں وہی پراسرار گہرائی تھی جسے ننھی کبھی سمجھ نہ پاتی تھی۔

اس رات دکان بند کرتے وقت امجد نے الماری کے پیچھے چھپا وہ پرانا البم نکالا۔ پلاسٹک کی شیٹ کے پیچھے کالے اور سفید تصویریں وقت کی دھول میں دبی تھیں۔ ایک تصویر پر اس کی نظر ٹھہر گئی۔ ایک نوجوان امجد، کمرے پر ہاتھ رکھے، اپنے چھوٹے بھائی انور کے ساتھ کھڑا۔ انور کی مسکراہٹ میں ایک ایسی بے ساختگی تھی جو صرف معصومیت میں پائی جاتی ہے۔

اگلے دن بارش تھمی تو ہوا میں نمی کے ساتھ ایک بھاری خاموشی تیر رہی تھی۔ ایک اجنبی آدمی، کوئی پچاس سالہ، دکان پر آیا۔ اس کے کپڑے شہر کے باشندوں جیسے نہیں تھے۔

"چائے۔" اس نے مختصر سا کہا۔

آواز میں کچھ جانا پہچانا سا تھا۔ امجد نے چائے بناتے ہوئے اسے غور سے دیکھا۔ آنکھیں... کون سی چیز اسے اتنی واقف لگ رہی تھی؟

"آپ یہاں کے رہنے والے ہیں؟" اجنبی نے پوچھا، کپ کو دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوئے جیسے ٹھنڈ سے بچنا چاہتا ہو۔

"جی۔ پیدائش سے۔"

"پھر شاید آپ کسی کو جانتے ہوں۔ بہت پرانی بات ہے۔ انور نام کا لڑکا۔"

امجد کا ہاتھ رک گیا۔ چائے کا چمچ اس کی مٹھی میں جم گیا۔ دنیا ایک لمحے کے لیے ساکت ہو گئی۔

"کیوں؟" آخرکار اس کے حلق سے ایک خشک آواز نکلی۔

"وہ میرا بھائی تھا۔" اجنبی نے کہا، نگاہیں اب بھی چائے کے کپ میں گڑی ہوئیں۔ "بہت سال پہلے وہ یہیں کہیں گم ہو گیا تھا۔ میں... میں اسے ڈھونڈتا پھرتا ہوں۔"

امجد نے اپنے ہاتھ دیکھے۔ وہ کانپ رہے تھے۔ وہ سانس لینے کے لیے گہری سانس لینے لگا۔ "آپ کا نام؟"

"عارف۔"

یہ نام نہیں تھا۔ اس کا بھائی انور تھا۔ لیکن کیا بیس سال میں آدمی کا چہرہ، آواز، سب کچھ بدل نہیں جاتا؟ کیا یہ ممکن تھا؟

"وہ کیسے گم ہوا؟" امجد نے پوچھا، آواز اب بھی لرز رہی تھی۔

"خاندانی جھگڑا۔ میں نے... میں نے اسے مارا تھا۔" ارشد نے کہا، آنکھیں بند کر لیں۔ "لفظوں سے نہیں، ایک دھکے سے۔ وہ گر گیا۔ اور پھر... وہ اٹھا اور بھاگ گیا۔ میں نے کبھی اسے نہیں دیکھا۔"

امجد کی سانس رک گئی۔ یہ اس کی اپنی کہانی تھی، لیکن کردار بدل گئے تھے۔ اس نے انور کو نہیں مارا تھا۔ وہ تو اسے بچانا چاہتا تھا۔ وہ تو اسے باپ کی مار سے بچانے دوڑا تھا۔ لیکن اس کے ہاتھ لگنے سے پہلے ہی، انور نے خود کو اس کے آگے سے ہٹا دیا تھا، سیڑھیوں سے گر گیا تھا، اور پھر اٹھ کر بھاگ گیا تھا۔ بغیر مڑ کر دیکھے۔

"میں معافی مانگنے آیا ہوں۔" اجنبی نے کہا۔ "بیس سال سے میں ہر شہر میں اسے ڈھونڈتا ہوں۔ شاید وہ مجھے معاف کر دے۔"

امجد نے اس کی طرف دیکھا۔ آنکھوں میں وہی عذاب تھا جو ہر رات اسے جگاتا تھا۔ وہی احساسِ جرم۔ وہی تنہائی۔ کیا یہ معجزہ تھا کہ وہ اپنا ہی عکس دیکھ رہا تھا، ایک اور بدنصیب بھائی جو اپنے گناہ کا کفارہ ڈھونڈ رہا تھا؟

"انور زندہ ہے۔" امجد نے اچانک کہا۔

اجنبی کی آنکھیں کھل گئیں۔ "آپ جانتے ہیں؟"

"جی۔ وہ مر گیا ہے۔"

یہ جملہ ہوا میں لٹک گیا۔ اجنبی کا چہرہ ماند پڑ گیا۔

"وہ کب؟ کیسے؟"

"اس رات۔ جب وہ بھاگا۔ سڑک پار کرتے ہوئے۔ ایک گاڑی..." امجد نے جھوٹ بولا۔ الفاظ اس کے منہ سے ایسے نکلے جیسے وہ بیس سال سے انہیں دہرا رہا ہو۔ "میں نے دیکھا۔ میں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا۔"

اجنبی نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپا لیا۔ اس کے کندھے دھنکنے لگے۔ امجد نے محسوس کیا جیسے وہ اپنے آپ کو روک رہا ہے۔ یہ مرد، یہ اجنبی، اس کا ہم درد تھا۔ وہ بھی ایک بھائی تھا جس نے اپنے بھائی کو کھو دیا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس کا بھائی زندہ تھا اور کہیں دور تھا، جبکہ امجد کا بھائی... وہ واقعی مر چکا تھا۔ اس کے اپنے ہاتھوں سے۔

سچ یہ تھا کہ امجد نے اس رات انور کو ڈھونڈا تھا۔ اور جب اسے ملیٹری ہسپتال میں پہچا تو اس نے سب کو بتایا کہ یہ کوئی اجنبی لاش ہے۔ اس نے اپنے ہی بھائی کی لاش سے انکار کر دیا تھا۔ کیونکہ اسے ڈر تھا۔ باپ کے غصے کا، لوگوں کی انگلیاں اٹھانے کا، قانون کا۔ اس نے انور کو بے نام قبر میں دفن ہونے دیا۔

"میں نے اسے قتل کیا۔" اجنبی نے روتی ہوئی آواز میں کہا۔ "میں قاتل ہوں۔"

"نہیں۔" امجد نے کہا، آواز میں ایک نئی طاقت تھی۔ "تم نے اسے مارا نہیں۔ وہ حادثہ تھا۔ تم نے صرف دھکا دیا تھا۔ باقی قسمت تھی۔"

"آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟ آپ تو جانتے ہی نہیں..."

"میں جانتا ہوں۔" امجد نے کہا، اور پہلی بار اس نے اجنبی کی آنکھوں میں دیکھا۔ "کیونکہ میں نے بھی اپنے بھائی کو مارا تھا۔ اور میں نے اسے چھپا دیا۔ تم سے کہیں زیادہ بڑا مجرم ہوں میں۔"

دکان میں خاموشی چھا گئی۔ بارش پھر سے شروع ہو گئی تھی، ہلکی سی۔

"تمہارا بھائی زندہ ہے۔" امجد نے کہا۔ "تمہیں اسے ڈھونڈنا چاہیے۔ معافی مانگنی چاہیے۔"

"لیکن آپ نے کہا..."

"میں نے جھوٹ کہا۔" امجد نے اعتراف کیا۔ "میں نے تمہیں تمہارے گناہ سے آزاد کرانا چاہا۔ تمہاری طرح میں بھی بیس سال سے عذاب میں ہوں۔ لیکن تمہیں اس عذاب کا حق نہیں۔ تمہارا بھائی زندہ ہے۔ جاﺅ۔ اسے ڈھونڈو۔"

اجنبی نے امجد کو دیکھا۔ آنکھوں میں حیرت، شک، پھر ایک عجیب سی شکرگزاری۔

"آپ کون ہیں؟"

"ایک آدمی جس نے آج اپنے آپ کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔" امجد نے کہا۔

اجنبی کے جانے کے بعد، امجد نے البم دوبارہ نکالا۔ اس نے انور کی تصویر کو چھوا۔ آنکھوں میں آنسو تھے، لیکن چہرے پر ایک سکون تھا۔

"معاف کرنا، بھائی۔" اس نے کہا۔ "میں تمہیں بے نام نہیں رہنے دوں گا۔"

اگلے دن، امجد نے پہلی بار اس قبرستان کا رخ کیا جہاں ایک بے نام قبر میں اس کا بھائی سو رہا تھا۔ اس نے ایک سادہ سی تختی لگائی، جس پر لکھا تھا: "انور۔ محبت کا بھائی۔ یادوں میں زندہ۔"

بارش ہلکی ہو چکی تھی، اور سورج کی پہلی کرن بادل چیر رہی تھی۔ امجد نے محسوس کیا جیسے بیس سال کا بوجھ اس کے کندھوں سے اتر گیا ہو۔ دکھ واقعی بہت پرائیویٹ چیز ہوتی ہے۔ اسے تہوار نہیں بنانا چاہیے۔ بس اسے ایک سادہ سی تختی پر لکھ کر، اپنے دل سے اتار دینا چاہیے۔

وہ دکان کی طرف لوٹا تو ننھی اپنی چھتری لہراتی ہوئی آ رہی تھی۔

"آج آپ کا چہرہ کتنا روشن ہے، امجد بھائی!"

امجد نے مسکراتے ہوئے کہا، "بارش کے بعد ہمیشہ دھوپ نکلتی ہے، بیٹی۔ ہمیشہ۔"

اور اس نے سچ مچ محسوس کیا کہ بیس سال بعد، اس کی زندگی میں بھی دھوپ نکل آئی تھی۔

------------------------

مشکل الفاظ کے معنی:

یکساں: ایک جیسی / برابر

پراسرار: راز سے بھری ہوئی / جو آسانی سے سمجھ نہ آئے

بے ساختگی: قدرتی پن / بغیر کسی بناوٹ کے

ساکت: رُک جانا / بے حرکت ہو جانا

عذاب: شدید تکلیف / سزا یا پریشانی

کفارہ: گناہ کا بدلہ یا اس کی تلافی

دھنکنا (کندھے دھنکنا): ہچکیوں کے ساتھ رونا / شدتِ غم سے جسم کا کانپنا

ماند پڑنا: پھیکا پڑ جانا / بے رنگ ہونا

تختی: کتبہ / نام یا یادداشت کے لیے لگایا جانے والا پتھر یا بورڈ

مصنف نوٹ: اس افسانے کے ذریعے میں انسانی نفسیات کے اس پہلو کو اجاگر کرنا چاہتا تھا جہاں خوف انسان سے بزدلی کرواتا ہے، اور پھر وہی بزدلی عمر بھر کا روگ بن جاتی ہے۔

امجد نے اپنے بھائی کی لاش کو خوف کے باعث "اجنبی" قرار دے کر انکار کر دیا تھا، جبکہ آنے والا اجنبی (عارف) محض ایک دھکے کو اپنا گناہ سمجھ کر بیس سال سے بھٹک رہا تھا۔ میں یہ دکھانا چاہتا تھا کہ ہم اپنے اندر جن گناہوں کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہیں، وہ ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔

پیغام: گناہ یا غلطی انسان سے ہو سکتی ہے، لیکن اس کا بوجھ سمیٹ کر زندگی کو مظلومیت یا عذاب کا تہوار بنانے کے بجائے سچائی کو قبول کر لینا ہی حقیقی شفایابی اور "دھوپ" (روشنائی) کی طرف پہلا قدم ہے۔

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: