عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

شیشے کی پرچھائیاں Sheeshay Ki Parchhaiyan

 

شیشے کی پرچھائیاں - سیکھے ہوئے خوف، نفساتی بوجھ اور خیر خواہ رشتوں پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

مرکزی خیال: انسان کے اکثر خوف حقیقی نہیں ہوتے بلکہ وہ سماج، حالات یا پرورش کے دوران گود لیے گئے "سیکھے ہوئے خوف" (Learned Fears) ہوتے ہیں۔ معاشرتی بدنامی اور ڈر کے باعث ہم اکثر ان لوگوں کو ظالم یا خطرناک سمجھ بیٹھتے ہیں جو درحقیقت ہمارے خیر خواہ ہوتے ہیں۔ سچائی کا ادراک، مکالمہ اور ہمدردی انسان کو ماضی کے نفساتی بوجھ اور بے بنیاد خوف سے آزاد کر کے ایک نیا آغاز فراہم کرتی ہے۔



وہ تصویر اچانک نظر آئی۔

ایک پرانی الماری کے نیچے، دھول کے ذرّوں میں دبی ہوئی، ایک بوسیدہ فریم میں۔ عرفان نے کتابوں کا ڈھیر لگانے کے لیے الماری ہلائی تو وہ فریم کھسک کر فرش پر آ گرا۔ شیشے پر گرد کی تہہ تھی۔ اس نے فریم اٹھایا اور آستین سے صاف کیا۔

تصویر میں تین لوگ تھے۔ ایک جوان ماں، اس کی گود میں چھوٹا بچہ، اور ایک مرد جو پیچھے کھڑا ہاتھ بچے کے سر پر رکھے مسکرا رہا تھا۔ سب کے چہروں پر وہ سکون تھا جو صرف بے خبری میں ہوتا ہے۔ عرفان نے مرد کے چہرے کو غور سے دیکھا۔ آنکھیں۔۔۔ وہ آنکھیں! اس کا سانس جیسے سہم کر رک گیا۔

دن بھر وہ تصویر اس کی نظر کے سامنے تیرتی رہی۔ دفتر میں کام کے دوران، میٹنگز میں، کاپی کے بے معنی اعداد و شمار دیکھتے ہوئے۔ وہ آنکھیں۔۔۔ گہری، بھاری پلکوں والی، جیسے کسی کو گہرائی سے دیکھ رہی ہوں۔ جیسے سب کچھ جانتی ہوں۔

رات گئے گھر لوٹا تو خاموشی اس پر چھا گئی۔ اکیلا پن، جو اس کا پرانا ساتھی تھا، آج خاصا بھاری محسوس ہو رہا تھا۔ وہ تصویر اب بھی الماری پر رکھی تھی۔ اس نے دوبارہ اٹھائی۔ ماں کا چہرہ نرم اور محبت سے بھرا تھا۔ بچہ۔۔۔ وہ بچہ کون تھا؟ اس نے اپنے پرانے البم نکالے۔ ماں کی جوانی کی تصاویر، خاندانی فوٹو۔۔۔ مگر وہ تینوں ایک ساتھ کہیں نہیں تھے۔

"یہ آدمی کون ہے، اماں؟" اس نے اگلے دن فون پر پوچھا، بظاہر بے پروائی سے۔

دوسرے سرے پر خاموشی چھا گئی۔ پھر ماں کی آواز آئی، تھوڑی ہچکچاتی ہوئی: "کون سا آدمی؟"

"وہ تصویر۔۔۔ الماری والی۔ تم، میں۔۔۔ اور ایک اور صاحب۔"

"اوہ وہ۔۔۔ وہ تیرے ابّا کا ایک دوست تھا، پرانا۔ اب بات چیت نہیں رہی۔" بات بدلنے کی کوشش میں ماں کی آواز تیز ہو گئی۔ "تم نے کھانا وقت پر کھایا؟"

راز ہمیشہ خاموشی سے پہچانا جاتا ہے—جواب نہ دینے سے نہیں، بلکہ جواب کو جلد ختم کر دینے سے۔ عرفان نے دبے لہجے میں "ہاں" کہا اور فون رکھ دیا۔ اسے وہ لہجہ یاد آیا جب وہ چھوٹا تھا اور کسی خاص گلی سے گزرتے ہوئے ماں اس کا ہاتھ کس کر پکڑ لیتی تھی: "جلدی کرو بیٹا!"

اور وہ نظریں۔۔۔ گلی کے کونے پر کھڑے اس دکاندار کی نظریں، جو ہمیشہ انہیں دیکھتا رہتا تھا۔ وہی گہری، بھاری پلکوں والی آنکھیں۔

اب وہ آنکھیں اس کی روزمرہ زندگی میں داخل ہونے لگی۔ بازار میں سبزی خریدنے جاتا تو لگتا سامنے والی دکان سے وہی دیکھ رہی ہیں۔ دفتر میں کھڑکی سے باہر دیکھتا تو پرچھائیوں میں وہی شکل نظر آ جاتی۔ رات کو جب نیند نہ آتی تو وہ تصویر اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی۔ مرد کا ہاتھ بچے کے سر پر۔۔۔ ایک تحفظ کی علامت؟ یا پھر قبضے کی؟

ایک ہفتے بعد، ماں اسے ملنے آئی۔ عرفان نے تصویر اٹھا کر میز پر رکھ دی۔

"اسے پھینک دوں؟"

ماں کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ "کیوں۔۔۔ کیوں پھینکو گے؟"

"کیونکہ یہ یہاں نہیں رہنی چاہیے۔" اس کی آواز میں ایک کپکپاہٹ تھی جسے وہ چھپا نہ سکا۔ "کیونکہ میں جانتا ہوں کہ یہ شخص کون ہے۔"

"تم کیا جانتے ہو؟" ماں کی آواز میں خوف تھا، یا شاید شرم؟

"وہ دکاندار! گلی کے کونے والا، جسے دیکھ کر تم میرا ہاتھ تیز پکڑ لیتی تھیں۔ جس کے بارے میں تم نے کبھی بات نہیں کی۔" عرفان نے گہرا سانس لیا۔ "میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ وہ مجھے گھور رہا ہے۔ میں اس سے ڈرتا تھا۔"

ماں نے تصویر اٹھائی، اپنے لرزتے ہاتھوں میں سنبھال کر۔ اس کی آنکھیں نم تھیں۔ "تو تمہیں یاد ہے؟"

"یاد؟ میں تو بس ڈرتا تھا۔ مجھے کچھ پتا نہیں تھا۔"

"تم بہت چھوٹے تھے۔" ماں نے تصویر میں بچے کے چہرے پر انگلی پھیری۔ "تمہارے ابّا کے جانے کے بعد ہم بہت تنہا تھے۔ وہ صاحب۔۔۔ وہ ہمیشہ مدد کو تیار رہتے تھے۔ تم بیمار پڑے تو وہی رات بھر دوائی لانے کے لیے دوڑتے رہے۔ تمہیں اسکول چھوڑنے جاتے، جب میں کام پر ہوتی۔ لیکن لوگ باتیں بناتے تھے۔ بدنامی کا ڈر تھا۔ میں نے۔۔۔ میں نے دوری بنا لی۔ تمہیں بھی دور رکھا۔ تم میں خوف سکھا دیا، کیونکہ میں خود ڈری ہوئی تھی اور معاشرے کا سامنا نہیں کر سکتی تھی۔"

عرفان نے اپنے اندر ایک خلا محسوس کیا۔ وہ ڈر۔۔۔ جو اس کے اندر بس گیا تھا، وہ گلی سے دوڑ کر گزرنا، وہ خیالی عفریت جو اس کی نیندیں چراتا تھا—یہ سب ایک سیکھا ہوا خوف تھا؟ ماں کے اپنے خوف کی میراث؟

"پھر یہ تصویر؟" اس کی آواز بھرائی ہوئی۔

"تمہاری پانچویں سالگرہ پر کھینچی تھی، اس کے فوراً بعد۔۔۔ میرے فیصلے سے پہلے۔ میں نے یہ فریم چھپا دیا تھا، مگر پھینک نہ سکی۔" ماں نے آنسو پونچھے۔ "وہ صاحب۔۔۔ انہوں نے کبھی شکایت نہیں کی۔ بس دور سے تمہیں دیکھتے رہے۔ جب تک وہ اس گلی میں رہے، پھر وہ کہیں دور چلے گئے۔"

عرفان نے تصویر واپس لی۔ اب اسے مرد کے چہرے کی مسکراہٹ میں ایک خاموش اداسی نظر آئی، ہاتھ میں نرمی، اور آنکھوں میں وہ جذبہ جسے محبت کہتے ہیں۔ وہ عفریت دراصل کبھی عفریت تھا ہی نہیں! وہ تو ایک خیر خواہ انسان تھا، جسے اس نے اپنے خوف کی عینک سے دیکھا تھا۔

اس رات عرفان برسوں بعد پہلی بار پُرسکون نیند سویا۔

اگلی صبح اس نے فیصلہ کیا۔ وہ پرانی گلی اب بھی ویسی ہی تھی، مگر ذرا تنگ محسوس ہو رہی تھی۔ وہ دکان اب ایک موبائل فون کی مرمت کی دکان بن چکی تھی۔ ایک نوجوان لڑکا بیٹھا کام کر رہا تھا۔

"معاف کیجیے،" عرفان نے پوچھا، "یہاں پہلے ایک جنرل اسٹور ہوا کرتا تھا۔ ان کے مالک۔۔۔ کیا آپ جانتے ہیں وہ کہاں ہیں؟"

لڑکے نے سر اٹھایا: "آزاد صاحب یا رحمت اللہ صاحب؟ اگر آپ رحمت اللہ صاحب کی بات کر رہے ہیں تو وہ میرے چچا ہیں۔"

عرفان کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔ "کیا۔۔۔ کیا میں ان سے مل سکتا ہوں؟"

"وہ تو شہر سے باہر گاؤں میں رہتے ہیں۔ کافی بزرگ ہو گئے ہیں۔" لڑکے نے ایک کاغذ پر پتا لکھ کر دیا: "وہ خوش ہوں گے اگر کوئی پرانا جاننے والا انہیں یاد کرے۔"

خط لکھنے میں عرفان کو ایک ہفتہ لگا۔ الفاظ ٹوٹتے رہے، لیکن آخر کار جو وہ لکھ پایا، وہ نہایت سادہ تھا:

"محترم رحمت اللہ صاحب،

میں عرفان ہوں۔ شاید آپ مجھے یاد نہ کریں۔ میں وہ بچہ ہوں جس کے سر پر آپ کا ہاتھ ایک پرانی تصویر میں ہے۔ میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ۔۔۔ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں، اگر ممکن ہو تو۔

عر فان۔"

جواب ایک ہفتے بعد آیا—ایک سادہ لفافہ۔ اندر سے کاغذ کا ایک ٹکڑا نکلا جس پر صرف پتا اور تاریخ لکھی تھی، اور نیچے ایک ہی لفظ درج تھا: "آ جاؤ۔"

سفر کے دوران عرفان کا ذہن بالکل واضح تھا۔ ڈر ختم ہو چکا تھا، بس ایک پراسرار سا سکون تھا۔ گاؤں چھوٹا اور پُرامن تھا، مکان ایک باغیچے کے پیچھے تھا۔ دروازہ کھٹکھٹانے پر ایک بوڑھا شخص باہر آیا۔ وہی آنکھیں۔۔۔ اب جھریوں سے بھری ہوئی، مگر وہی گہرائی!

"اندر آؤ،" بوڑھے نے بغیر کسی تعارف کے کہا، جیسے وہ سالہا سال سے اسی کا انتظار کر رہا ہو۔

کمرے میں چائے کے دوران ایک طویل خاموشی رہی۔ پھر بوڑھے نے ایک پرانا البم کھولا۔ اسی تصویر کی ایک کاپی وہاں بھی موجود تھی۔ اس نے اسے نکالا: "تمہاری ماں نے مجھے یہ دی تھی، تمہاری سالگرہ پر۔"

"آپ۔۔۔ آپ ہم سے ناراض نہیں تھے؟" عرفان نے پوچھا، آواز کچھ لڑکھڑاتی ہوئی، "ہم ناگہاں دور ہو گئے۔ میں۔۔۔ میں تو آپ سے ڈرتا تھا۔"

رحمت اللہ صاحب کی آنکھوں میں ایک نمی چمکی: "ناراض؟ بیٹا! خلوص اور محبت میں غصہ نہیں ہوتا، صرف ایک خاموش تکلیف ہوتی ہے۔ اور تمہاری ماں کا ڈر میں سمجھتا تھا۔ یہ سماج لوگوں کے دلوں میں بے وجہ خوف بوتا ہے۔ میں تو بس تمہیں دور سے دیکھتا رہا، تمہیں بڑا ہوتے دیکھا۔۔۔ میرے لیے یہی کافی تھا۔"

عرفان نے وہیں، اس خاموش کمرے میں اپنے اندر کے اس بچے کو آزاد ہوتے محسوس کیا جو سالوں سے تاریک کونے میں دبکا بیٹھا تھا—وہ بچہ جو کسی سے نہیں ڈرتا تھا، جب تک کہ اسے ڈر سکھایا نہ گیا ہو۔ اس نے اپنے ہاتھ بڑھائے اور بوڑھے کے خشک ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ کوئی لفظ نہیں بولا گیا، بس ایک ہلکی سی کپکپاہٹ تھی جو روح سے نکل کر ہوا میں تحلیل ہو گئی۔

واپسی کی ریل گاڑی میں عرفان نے کھڑکی سے باہر دیکھا—سبزہ زار، درخت اور کھلے آسمان میں اڑتے پرندے۔ اس کے ذہن میں وہ تصویر اب بالکل واضح تھی اور اس کا خوف ہمیشہ کے لیے غائب ہو چکا تھا۔ اس نے محسوس کیا جیسے اس نے اپنے وجود سے ایک پرانا، بھاری کوٹ اتاری کر پھینک دیا ہو۔

گھر پہنچ کر اس نے وہ پرانی فریم صاف کی۔ اسے ایک خوبصورت کاغذ میں لپیٹا اور الماری کے اوپر والے خانے میں رکھ دیا۔ چھپانے کے لیے نہیں۔۔۔ بلکہ احترام سے یاد رکھنے کے لیے۔

اس رات جب اس نے آنکھیں بند کیں تو اسے بوڑھے کی مسکراتی آنکھیں یاد آئیں، اور اس نے اپنے اندر اس بچے کو مسکراتے ہوئے دیکھا جو اب کسی پرچھائیں سے نہیں ڈرتا تھا۔

---------------

مشکل الفاظ کے معانی:

بوسیدہ: پرانا، بوسیدہ، ٹوٹا پھوٹا

پرچھائیاں: سائے، انعکاس، عکاسی

میراث: ترکہ، وہ چیز یا عادت جو آبا و اجداد یا والدین سے منتقل ہو

عفریت: ڈراؤنا منظر، بلا، خوفناک وجود

خلوص: پاکیزگیِ نیت، سچائی، بے غرض محبت

تحلیل: حل ہو جانا، غائب ہو جانا، جذب ہو جانا

ادراک: فہم، آگاہی، سچائی کو سمجھنا

مصنف کا نوٹ: افسانہ "شیشے کی پرچھائیاں" کے ذریعے میں قاری کی توجہ اس نفسیاتی حقیقت کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ بچوں کا ذہن ایک صاف شیشے کی مانند ہوتا ہے۔ جب ہم اپنے معاشرتی خوف، تعصبات یا تحفظات ان پر مسلط کرتے ہیں، تو وہ شیشہ دھندلا جاتا ہے اور انہیں ہر دور سے مسکراتا چہرہ ایک "عفریت" نظر آنے لگتا ہے۔

کہانی کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنے اندر پرورش پانے والے ڈر کا تجزیہ کرنا چاہیے۔ کیا وہ ہمارا اپنا تجربہ ہے یا کسی اور کا دیا ہوا بوجھ؟ جب ہم سچائی کی تلاش میں قدم بڑھاتے ہیں اور تفہیم (Understanding) کا راستہ اختیار کرتے ہیں، تو سالہا سال پرانے نفساتی عقدے اور غیر مرئی خوف لمحوں میں ختم ہو جاتے ہیں، اور انسان کو حقیقی ذہنی و روحانی آزادی حاصل ہوتی ہے۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: