عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

گواہی Gawahi

گواہی - سچ کا سامنا، ضمیر کی بیداری اور حقیقی آزادی پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی


 گواہی

مرکزی خیال: خوف، ضمیر کے بوجھ اور سچ کی آخری فتح ہے۔ انسان جب ذاتی مصلحت یا ڈر کی وجہ سے سچ کو چھپاتا ہے تو وہ ظاہری طور پر محفوظ ہو جاتا ہے لیکن اندر سے عمر بھر کے لیے ندامت اور بے سکونی کا قیدی بن جاتا ہے۔ سچ کا سامنا کرنے کی ہمت ہی انسان کو حقیقی آزادی اور سکون فراہم کرتی ہے۔


فراخ روشنی بارش کے پتلے پردے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی۔ دروازے کی کھٹکھٹاہٹ نے استاد کو کرسی سے اٹھا دیا — ہاتھ کانپ رہا تھا مگر آواز میں معمولی سی شفقت تھی۔ باہر کھڑے نوجوان کی جیکٹ کی ہُڈ بارش میں بھیگ کر دھندلا رہی تھی؛ چہرہ اضطراب میں ٹھنڈا تھا۔

"استادِ محترم؟" وہ بولا۔ استاد نے اندر آنے کو کہا۔

کمرہ سادہ تھا: کتابوں کی قطاریں، پرانی الماری، اور میز پر الٹا پڑا فوٹو فریم۔ چائے آئی، بھاپ نے درمیان کے فاصلے میں ایک پتلی دھند چھوڑی، بات چیت آہستہ آہستہ مسلسل ہوئی — مگر بارش کے شور میں ایک خطاب، ایک نام بار بار ٹپکتا رہا: رحمتُ اللہ۔

لڑکے نے میز پر ایک پھیکا، گلگام خط رکھا اور کہا: "والد صاحب کے انتقال کے بعد ان کے پرانے صندوق سے یہ خط ملا۔ حرف کم ہیں، مگر اثر بہت گہرا: 'استاد، میں نے دیکھ لیا۔ اب میں جان گیا ہوں کہ اس رات کیا ہوا تھا۔'

دستخط — آپ کا شاگرد، رحمتُ اللہ۔"

استاد کے ہونٹوں پر مسکراہٹ جم گئی، مگر آنکھیں خشک رہیں۔ پندرہ سال کا عرصہ ہوا کی طرح ٹکرایا اور وہ پھر اس رات کے سامنے تھا: ایک سڑک، تیز بارش، ایک ٹکراؤ، اور پھر خاموشی۔

"یہ خط مجھ تک کبھی نہیں پہنچا،" استاد نے کہا، مگر وہ الفاظ خود سے کمزور لگے۔

لڑکے نے بتایا کہ والد یہ خط ڈاک خانے لے جا رہے تھے کہ راستے میں لاپتا ہو گئے۔ پولیس نے کہا شاید خود چلے گئے ہوں؛ ماں نے مرتے دم تک یہی کہا کہ رحمتُ اللہ کبھی بھاگنے والا انسان نہیں تھا۔ استاد کے سینے میں پندرہ سال کی گرد جم چکی تھی — وہ گرد جس کا وزن اس نے ہر صبح اٹھایا تھا۔

لڑکے نے پوچھا: "آپ کو کیوں نہیں بتایا؟ آپ ہی تو کہتے ہیں کہ سچ سامنے آ کر رہتا ہے۔"

استاد سنبھلا، چائے کا کپ کانپتے ہاتھوں میں تھا۔ باہر بارش نے دنیا دھندلا دی تھی؛ اسی طرح کی بارش، وہی گھبراہٹ، وہی ٹکراتی آواز۔

استاد نے آہستگی سے کہا: "تمہارے والد بہت حساس اور سچے آدمی تھے۔ اس رات سڑک پر ایک بااثر شخص کی تیز رفتار گاڑی نے ایک پیادہ رو کو ٹکر ماری تھی۔ تمہارے والد نے گاڑی کا نمبر نوٹ کر لیا تھا۔ وہ پولیس کے پاس جانے سے پہلے مجھ سے مشورہ کرنے آ رہے تھے کہ میں شہر کا معتبر استاد ہوں۔ مگر میں اس وقت گھر پر نہیں تھا... اور بعد میں، میں ڈر گیا۔"

استاد کی آواز میں سچائی کا قفل ٹوٹنے کا اشارہ تھا: "جب مجھے معلوم ہوا کہ گاڑی کس بااثر اراکینِ شہر کی تھی، تو میں ڈر گیا۔ سچ بولنے سے میرے گھر اور خاندان کی سلامتی کو خطرہ تھا۔ میں نے سوچا کہ چپ رہنا کم تر نقصان ہوگا... مگر یہ ڈر عمر بھر کے لیے میرا عذاب بن گیا۔"

خاموشی چھا گئی۔ بارش کی ٹپ ٹپ کے بیچ لڑکا خط سمیٹ کر کھڑا ہوا۔ "میں صرف سچ چاہتا تھا تاکہ دنیا کو بتا سکوں کہ میرے والد بے ایمان یا بھاگے ہوئے نہیں تھے۔"

دروازے پر کھڑے ہو کر لڑکے نے پیچھے مڑ کر کہا: "شاید آپ نے اپنے خاندان کو بچا کر ٹھیک کیا — یا شاید نہیں... مگر اب مجھے سکون ہے کہ میرے والد ایک سچے انسان تھے۔"

جب دروازہ بند ہوا تو استاد نے الماری کے پچھلے خانے سے ایک قدیم ڈائری کا ورق نکالا۔ اس پر رحمتُ اللہ کے گاؤں کا پتہ اور اس رات کا پورا سچ درج تھا۔ استاد نے اچانک فیصلہ کر لیا: کل وہ عدالت جائے گا، سچ سلجھائے گا، اور پوری قیمت چکائے گا۔ اس نے ڈائری کا ورق پھاڑا اور چولہے پر جلا دیا؛ شعلہ اس کے چہرے کو روشن کر گیا، اور پہلی بار پندرہ سالوں میں، امید کی چھوٹی سی چنگاری اس کی آنکھوں میں جل اٹھی۔

بارش رک گئی۔ سڑک پر ہوا تازہ تھی۔ استاد کھڑکی کے پاس کھڑا ہوا اور نیچے اس لڑکے کو دور جاتے دیکھا — ایک بوجھ ہلکا ہوتا دکھائی دیا۔

استاد نے آہستگی سے اپنے ضمیر کو مخاطب کر کے کہا: "میں نے دیر کی، مگر اب مجھے سب بتانا ہے۔"

-------------

مشکل الفاظ کے معنی

اضطراب: بے چینی : گھبراہٹ

گلگام: مٹا ہوا : دھندلا

معتبر: قابلِ اعتماد : عزّت دار

پیادہ رو: پیدل چلنے والا

قفل: تالا

قدیم: پرانا

چنگاری: آگ کا ذرہ

ضمیر: باطن کی آواز : اخلاقی احساس

مصنف نوٹ: مصنف اس افسانے کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ سچائی کو دبانے سے مسئلے ختم نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک دائمی عذاب کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ایک معتبر استاد (جسے معاشرہ رہنما سمجھتا ہے) بھی خوف کے باعث بزدلی کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن انسانیت اور کردار کی عظمت اسی میں ہے کہ انسان اپنی غلطی کا اعتراف کرے اور سچ کے لیے کھڑا ہو۔

1. خاموشی کا عذاب: بزدلی میں اختیار کی گئی خاموشی انسان کو زندگی بھر سکون سے جینے نہیں دیتی۔

2. تلافی کا موقع: سچ کا سامنا کرنے کے لیے کبھی بھی اتنی دیر نہیں ہوتی کہ انسان تلافی کی کوشش چھوڑ دے۔

3. حق کی فتح: سچ اور ایمانداری کبھی ضائع نہیں ہوتی؛ رحمتُ اللہ کا سچ پندرہ سال بعد بھی سامنے آ کر رہا اور اس کے کردار پر سے داغ دھل گیا۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: