عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

بند دروازے کی صدا Band Darwazay Ki Sada

بند دروازے کی صدا - ماضی کے خوف، اندرونی سکون اور سچائی کی قبولیت پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

مرکزی خیال: ماضی کے تلخ اور ناخوشگوار واقعات کو لاشعور میں دبا دینے سے انسان کو عارضی طور پر تو سکون مل جاتا ہے، لیکن وہ خوف اور بے چینی بن کر زندگی بھر تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ حقیقی نجات اور اندرونی سکون صرف اس بات میں ہے کہ انسان سچائی کا سامنا کرے، اپنے ماضی کو قبول کرے اور خود کو معاف کر کے آگے بڑھے۔


وہ تصویر پچیس سال سے الماری کے سب سے اوپر والے ڈبے میں بند تھی۔ سرخ رنگ کا پرانا البم، جس کے کونے سفید دھوپ سے پیلے پڑ گئے تھے۔ آج، اچانک، ایک بے نام سی بے چالی نے حنا کو اس ڈبے تک پہنچا دیا۔ البم کھولا۔ پہلا صفحہ پلٹا۔ اور پھر وہ تصویر… تین سال کی ایک بچی، سفید فراک میں، ایک جھولے پر بیٹھی ہوئی۔ اس کا چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا، مگر اس کی آنکھیں… ان آنکھوں میں ایک ایسا خوف تھا، جیسے وہ کسی ایسی چیز کو دیکھ رہی ہو جو صرف وہی دیکھ سکتی ہے۔ حنا کی اپنی پرانی تصویر تھی۔ اس نے ہمیشہ سوچا تھا کہ وہ بچپن میں خوش تھی۔ مگر یہ آنکھیں کچھ اور کہہ رہی تھیں۔

حنا ایک عام سی لائبریرین تھی۔ چالیس سال کی ہو چلی تھی۔ زندگی کتابوں کے درمیان گزار دی تھی۔ شادی نہیں کی تھی۔ ایک پرسکون، منظم، بظاہر بے رونق زندگی۔ راتوں کو وہ اکثر بے چین نیند سوتی۔ ایک ہی خواب بار بار آتا: ایک لمبا تاریک راستہ، اور آخر میں ایک بند دروازہ۔ دروازے کے پیچھے سے بچے کے رونے کی آواز آتی، اور وہ دروازہ کھلنے ہی والا ہوتا کہ وہ جاگ جاتی۔

تصویر دیکھنے کے بعد، وہ خواب اور گہرا ہو گیا۔ اب دروازے کے پیچھے سے وہی تین سالہ بچی کی آواز آتی، جو تصویر میں تھی۔ اور اس بار، دروازہ تڑاخ سے کھل جاتا۔ حنا پسینے میں شرابور بستر پر بیٹھ جاتی۔

وہ اپنی ماں سے ملی، جو اب بوڑھی اور کمزور ہو چکی تھیں۔

"امی، میرے بچپن میں… کوئی حادثہ تو نہیں ہوا تھا؟ کوئی ڈراؤنا واقعہ؟" حنا نے پوچھا، آہستہ سے۔

ماں کی آنکھوں میں ایک جھلک سی دوڑی۔ "کیسی بے ہودہ باتیں کرتی ہو! تم تو بڑی خوش قسمت بچی تھیں۔ ہمیشہ مسکراتی رہتی تھیں۔"

مگر ماں کا ہاتھ کانپ رہا تھا، جس میں وہ چائے کا کپ تھما تھا۔

حنا نے پرانے اخبارات کی لائبریری میں تحقیق شروع کی۔ اپنی پیدائش کے سال کے اخبارات پلٹے۔ کچھ نہ ملا۔ پھر اس نے اپنے گھر والے پرانے مکان کا پتہ لگایا، جہاں وہ پانچ سال کی عمر تک رہی تھی۔ وہ مکان اب کسی اور کے پاس تھا۔ نیا مالک بوڑھا شخص تھا۔ حنا نے بہانے سے بات شروع کی۔ پرانے پڑوس کے بارے میں پوچھا۔

بوڑھے شخص نے کہا، "ہاں، مجھے یاد ہے۔ اس مکان میں ایک خاندان رہتا تھا۔ ان کی ایک چھوٹی بچی تھی۔ بڑی پیاری۔ مگر…" وہ رک گیا۔

"مگر کیا؟" حنا کا دل زور سے دھڑکا۔

"مگر ایک واقعہ ہوا تھا۔ بچی گم ہو گئی تھی۔ پورے محلے میں ہلچل مچ گئی تھی۔ تین دن بعد، وہ قریبی پارک کے ایک جھولے پر بیٹھی مل گئی۔ بالکل صحیح سالم۔ مگر… اس کے بعد سے وہ بچی کبھی نہیں ہنسی تھی، لوگوں نے بتایا۔ پھر وہ لوگ یہاں سے چلے گئے۔"

حنا کے کانوں میں ایک سیٹی بج اٹھی۔ جھولے پر! وہی تصویر۔ وہی جھولا۔ وہ تین دن… وہ کہاں تھی؟ کس کے ساتھ تھی؟ اسے کیوں کچھ یاد نہیں؟

اس کی نفسیاتی کشمکش بڑھتی گئی۔ وہ کتابیں چھوڑ چھوڑ کر بیٹھنے لگی۔ لائبریری میں بھی وہ بے چین رہتی۔ ایک دن، ایک نوجوان لڑکا، جو اکثر نفسیات کی کتابیں پڑھنے آتا تھا، اس کے پاس آیا۔

"حنا آپا، آپ ٹھیک ہیں؟ آپ پچھلے ہفتے سے بہت پریشان لگ رہی ہیں۔"

حنا نے مسکرانے کی کوشش کی۔ "سب ٹھیک ہے، احمد۔ بس… نیند پوری نہیں ہوتی۔"

احمد نے گہری نظروں سے دیکھا۔ "کبھی کبھی ہمارا ذہن پرانی یادیں دبائے رکھتا ہے۔ اور جب وہ باہر آنا چاہتی ہیں، تو ہم بیمار ہونے لگتے ہیں۔"

احمد کی بات نے حنا کو اور بے چین کر دیا۔ اس نے ایک ماہر نفسیات سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر کے سامنے بیٹھ کر، اس نے سب کچھ بتا دیا۔ تصویر، خواب، بوڑھے شخص کی بات۔

ڈاکٹر نے کہا، "یادداشت، خاص طور پر ابتدائی بچپن کی، بہت عجیب ہوتی ہے۔ کبھی کبھی ہمارا دماغ صدمے کو بھولنے کے لیے پوری کی پوری یادیں مٹا دیتا ہے۔ مگر وہ جذبات، وہ خوف… وہ رہ جاتے ہیں۔"

حنا نے "یاد" کرنے کی کوشش تیز کر دی۔ مراقبہ کیا۔ اپنے آپ سے سوال کیا۔ ایک رات، وہ اپنے پرانے گھر کے سامنے کھڑی تھی۔ آنکھیں بند کیں۔ اور پھر… آوازیں سنائی دیں۔ ایک اجنبی آواز، نرم اور میٹھی۔ "چلو بیٹا، ہم جھولے پر جاتے ہیں۔" اور پھر… ایک گاڑی کی آواز۔ اندھیرا۔

اگلے دن، اس نے اپنے مرحوم باپ کے پرانے دوستوں کا پتہ لگانے کی کوشش کی۔ ایک نام بار بار سامنے آیا: "رشید چاچا"۔ وہ باپ کا قریبی دوست تھا، مگر حنا کے پانچ سال کے ہونے کے بعد وہ یکایک غائب ہو گیا تھا۔ کسی کو نہیں معلوم تھا وہ کہاں گیا۔ حنا کو ایک پرانی ڈائری ملی، جس میں باپ نے لکھا تھا: "رشید آج بہت پریشان تھا۔ اس کی نوکری چلی گئی ہے۔ اس کا رویہ عجیب ہو رہا ہے۔"

حنا نے رشید کی ایک پرانی تصویر ڈھونڈی۔ جب اس نے وہ تصویر دیکھی، تو اس کا سانس رک گیا۔ ایک ہولناک، دبی ہوئی یادیں مثل ایک سیلاب کے اس کے ذہن میں امڈ آئیں۔

وہ تین دن…

وہ رشید چاچا کے ساتھ تھی۔ وہ اسے آئس کریم دلانے لے گیا تھا۔ مگر پھر وہ اسے ایک اجنبی کمرے میں لے گیا۔ رشید چاچا روتا رہتا تھا۔ وہ کہتا رہتا، "مجھے معاف کر دینا حنا۔ تیرے ابّا نے میری مدد نہیں کی۔ مجھے نوکری سے نکال دیا گیا۔ میں سب کو دکھانا چاہتا تھا کہ اگر تم غائب ہو گئی تو وہ کیسا محسوس کرتے ہیں۔ مگر… میں تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ تم بہت پیاری ہو۔"

تین دن تک، وہ اسے چھپاتا رہا۔ اسے کھانا کھلاتا رہا۔ رات کو وہ ڈر جاتی تو وہ اسے کہانی سناتا۔ تیسرے دن، اس نے کہا، "چلو، میں تمہیں واپس چھوڑ آؤں۔ تمہارے امی ابّا بہت پریشان ہوں گے۔" وہ اسے پارک کے جھولے پر بٹھا گیا۔ ایک آخری بار مسکرایا۔ اور پھر غائب ہو گیا۔

حنا چیخ اٹھی۔ ساری یادیں، سچائی کے ساتھ، واپس آ گئی تھیں۔ وہ صدمہ نہیں تھا جسے اس نے بھلایا تھا۔ درحقیقت، اس نے ان تین دنوں کو ایک خوفناک واقعے کے بجائے، ایک عجیب دلچسپ مہم کے طور پر یاد رکھا تھا۔ مگر بعد میں، جب بڑے ہوئی، دیکھا کہ اس واقعے نے اس کے والدین کی زندگی اجیرن کر دی، رشید چاچا ہمیشہ کے لیے غائب ہو گیا، لوگوں کی نظروں میں ہمدردی کے بجائے شک کی نظر تھی… تو اس کے ننھے ذہن نے اس پورے واقعے کو دبا دیا۔ اس نے یہ فیصلہ کیا کہ بہتر ہے ان آنکھوں کو بند رکھا جائے جو اس حقیقت کو دیکھ سکتی ہیں کہ کسی کی مجبوری نے اس کی معصومیت چھین لی۔ مگر خوف، احساسِ جرم (کہ شاید وہ رشید کے ساتھ چلی گئی تھی)، اور تنہائی… وہ سب اس کے لاشعور میں رہ گئے۔ وہ بند دروازے والا خواب… وہ دروازہ اس کے دبے ہوئے حافظے کا تھا۔ اور رونے والی آواز… وہ تین سالہ حنا تھی، جو آزادی چاہتی تھی مگر ساتھ ہی محفوظ بھی رہنا چاہتی تھی۔

حنا ماہرِ نفسیات کے پاس دوبارہ گئی۔ اب وہ سکون سے سب کچھ سن سکتی تھی۔ ڈاکٹر نے کہا، "آپ نے خود کو معاف کرنا ہے۔ آپ ایک معصوم بچی تھیں۔ رشید نے غلط کیا، مگر اس نے آپ کو نقصان نہیں پہنچایا۔ درحقیقت، اس نے آپ کو واپس لوٹا دیا۔ آپ کے والدین نے آپ کو بچانے کے لیے یہ واقعہ کبھی ذکر نہیں کیا، شاید یہ سوچ کر کہ آپ بھول جاؤ گی۔ مگر جذبات بھولتے نہیں۔"

حنا نے وہ پرانی تصویر دوبارہ دیکھی۔ اب وہ اس بچی کی آنکھوں میں خوف نہیں، حیرت دیکھ سکتی تھی۔ حیرت ایک ایسے عالم پر جو اس کی سمجھ سے پرے تھا۔

اس نے تصویر کو اپنے بیڈروم کے فریم میں لگا دیا۔ اب وہ اپنی اس تین سالہ خود سے شرماتی نہیں تھی، بلکہ اسے گلے لگاتی تھی۔ رات کا وہ خواب آنا بند ہو گیا۔ ایک رات، اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ تاریک راستے پر چل رہی ہے۔ وہ بند دروازے تک پہنچی۔ دروازہ خود بخود کھل گیا۔ اندر وہی جھولا تھا، اور اس پر وہ تین سالہ بچی مسکرارہی تھی۔ حنا نے اسے جھولایا۔ اور پھر دونوں باہر نکل آئے، روشنی میں۔

آنکھیں بند ہونے سے پہلے ہی اگر آنکھیں کھل جائیں تو زندگی سدھر جاتی ہے۔ حنا کی آنکھیں کھل چکی تھیں۔ نہ صرف اپنے ماضی کے لیے، بلکہ اپنے حال کے لیے بھی۔ اس نے احمد سے بات چیت شروع کی، جو نفسیات کا طالب علم تھا۔ دونوں میں دوستی گہری ہوئی۔ حنا نے لائبریری میں بچوں کے کونے میں کہانی سنانے کا سیشن شروع کیا۔ خاص طور پر ان بچوں کے لیے جو خاموش رہتے تھے۔

اس نے اپنی ماں سے کہا، "امی، مجھے سب کچھ یاد آ گیا ہے۔"

ماں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ "ہم نے تمہیں بچا لیا تھا نا، بیٹا؟"

حنا نے ماں کے ہاتھ چومے۔ "ہاں امی۔ تم نے بچا لیا۔ اور اب… میں نے بھی خود کو بچا لیا ہے۔"

زندگی سدھرنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ سب کچھ مکمل ہو گیا۔ مطلب یہ تھا کہ اب وہ اپنے اندر کے خوف اور روشنی دونوں کو دیکھ سکتی تھی۔ اور یہ دیکھنا ہی سدھار کی پہلی سیڑھی تھی۔ وہ تصویر اب اس کے لیے ایک قید خانہ نہیں، بلکہ آزادی کا سرٹیفکیٹ بن گئی تھی۔

------------------

مشکل الفاظ کے معانی:

بے چالی: بے چینی / اضطراب

اجیرن: دو بھر / عذاب / مشکل

اشارہ / جھلک: نمایاں ہونا (سیاق و سباق کے مطابق)

تڑاخ سے: اچانک اور زور دار آواز کے ساتھ

شرابور: پوری طرح تر / بھیگا ہوا

ہولناک: ڈراؤنا / خوفناک

ملاقات / مراقبہ: گہرے دھیان میں جانا / غور و فکر کرنا

لاشعور: ذہن کا وہ پوشیدہ حصہ جہاں دبی ہوئی یادیں اور جذبات ذخیرہ ہوتے ہیں

معصومیت: پاکیزگی / بے گناہی

سدھار: اصلاح / بہتری

مصنف نوٹ : "اس افسانے کے ذریعے میری کوشش یہ دکھانا ہے کہ انسان کا دماغ صدمات اور خوف سے بچنے کے لیے اکثر یادوں کو مٹا یا دبا دیتا ہے، لیکن وہ جذبات اور احساسات ختم نہیں ہوتے۔ ہم میں سے اکثر لوگ اپنے ماضی کے دکھوں، احساسِ جرم اور خوف کو دل کے کسی بند کمرے میں چھپا کر 'عام زندگی' جینے کی کوشش کرتے ہیں، مگر وہ سائے خوابوں اور بے چینی کی صورت میں ہمارا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔

کہانی کے ذریعے قاری کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اپنے ماضی کا سامنا کرنا اور اندر کے خوف سے نہ بھاگنا ہی حقیقی آزادی ہے۔ جب تک ہم اپنے اندر کی معصومیت اور زخموں کو قبول کر کے خود کو اور دوسروں کو معاف نہیں کرتے، تب تک ہم ذہنی قید سے آزاد نہیں ہو سکتے۔ سچائی سے آنکھیں ملانا تکلیف دہ ضرور ہوتا ہے، لیکن یہی عمل انسان کے حال اور مستقبل کو روشن بناتا ہے۔"

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: