عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سائبان کی تلاش Saiban Ki Talash

سائبان کی تلاش - نفسیاتی سکون، بے یقینی سے نجات اور انسانی ہمدردی پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی


مرکزی خیال: اپنا گھر انسان کے لیے محض اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ تحفظ اور نفسیاتی سکون کی علامت ہوتا ہے۔ کرائے کے گھروں کی بے یقینی اور وراثتی مفلسی انسان کے باطن کو توڑ دیتی ہے۔ تاہم، انسانی ہمدردی، مشترکہ دکھ کا احساس اور ایک دوسرے کی خاموش تکالیف کو سمجھنا سماج کو ایک مضبوط سائبان فراہم کرتا ہے۔


میرے کانوں میں یہ الفاظ ابھی اٹکے ہی تھے: "چلو، اب یکم سے گھر خالی کر دینا۔"

خالی کرنا… گھر کو خالی کرنا! جیسے یہ چار دیواری، یہ چھت، یہ دروازے کبھی میرے تھے ہی نہیں۔ جیسے میں بس ایک ہوا تھا جو ان کمروں میں کچھ دیر کے لیے ٹھہر گئی تھی اور اب باہر نکال دی جائے گی۔ سخت سردی تھی، لیکن میری پسلیاں نہیں کپکپا رہی تھیں بلکہ ایک اندرونی کپکپی تھی جو ہڈیوں سے نکل کر روح کو جکڑ رہی تھی۔

میں باہر نکلا تو سامنے سرخ اور سبز رنگ کا ایک پرانا رکشہ کھڑا تھا۔ ڈرائیور اس کے سائے میں بیٹھا اپنے موبائل پر بے فکر سا کچھ دیکھ رہا تھا۔ اُس لمحے ایک عجیب ہیبت نے مجھے گھیر لیا۔ ایک وہ انسان ہے جو رات کو اپنے "گھر" میں سو جاتا ہے، اور ایک میں ہوں جس کے سر کے اوپر چھت کا نام "کرایہ" ہے۔ اور یہ نام بہت بھاری ہے۔

میں نے بیگم اور دونوں بیٹیوں سے کچھ نہیں کہا۔ ابھی پندرہ دن باقی تھے۔ کیسے کہتا کہ تمہارے خوابوں کی کشتی کو ایک بار پھر کنارے سے دھکیل دیا گیا ہے؟ شہر کے اس پرانے محلے میں، جہاں عمارتیں ایک دوسرے سے یوں جڑی ہیں جیسے سہارے کے لیے ایک دوسرے کو تھامے ہوئے ہوں، وہاں ہمارا کرائے کا مکان تھا۔ بیگم نے بالکنی میں گملے سجائے تھے۔ آمنہ، میری چھوٹی بیٹی، نے اپنے کمرے کی دیوار پر ایک خوابناک سی پہاڑیوں اور جھیل کی تصویر لگا رکھی تھی۔

"بابا! کیا یہ ہمارا اپنا گھر ہوگا ایک دن؟" اُس نے ایک دن پوچھا تھا۔ میں نے کہا تھا: "ہاں بیٹا، ضرور!" وہ "ضرور" اب بھی میرے گلے میں پھنس گیا تھا—ایک جھوٹی قسم کی طرح۔

میں ظاہر میں ایک پُرسکون آدمی تھا—ایک چھوٹے دفتر میں اکاؤنٹنٹ۔ ہنستا، سلام دعا کرتا، معمولات نبھاتا۔ مگر میرا باطن ایک کھنڈر تھا۔ ایک خاموش خوف راتوں کو میرے ساتھ لیٹ جاتا کہ اگر میں بیمار پڑ گیا یا نوکری چلی گئی تو…؟ ایک احساسِ جرم کہ میں اپنوں کو وہ تحفظ نہ دے سکا جو ایک اپنا گھر دیتا ہے۔ ایک ٹوٹی ہوئی امید، جیسے کوئی پتنگ ڈور کٹنے کے بعد بھی آسمان کی طرف دیکھتی رہتی ہے۔

بارشوں نے اُس ہفتے شہر کو دھو ڈالا تھا۔ میں ایک دن کام سے لوٹا تو بیگم نے چائے دیتے ہوئے کہا: "مالکِ مکان آئے تھے، کوئی بات تھی؟" میں نے چائے کے کپ میں دیکھا جیسے وہاں جواب تلاش کر رہا ہوں۔ "نہیں… بس معمول کی بات تھی۔" میری آواز میں وہی جھوٹ تھا جو ہر اس شخص کی آواز میں ہوتا ہے جو اپنے پیاروں کو ایک تلخ سچ سے بچانا چاہتا ہے۔

ایک رات میں نے اپنا پرانا سوٹ کیس نکالا جس میں کچھ پرانے کاغذات اور تصویریں تھیں۔ ایک تصویر کے پیچھے ایک پرانا خط ملا—میرے مرحوم والد کا لکھا ہوا۔ ان کے ہاتھ سے لکھی ہوئی سطروں میں درج تھا: "بیٹا! زندگی میں سب سے بڑا سکون اپنی چھت کے نیچے ہے۔ میں تمہیں وہ نہ دے سکا۔ معاف کرنا۔" میرے والد نے بھی ساری عمر کرائے کے گھروں میں کاٹی تھی۔ یہ احساسِ جرم وراثت میں منتقل ہوا تھا۔

میں بیٹیوں کے کمرے میں گیا۔ آمنہ سو رہی تھی۔ اس کی دیوار پر لگی وہ تصویر—پہاڑ، جھیل، اور ایک چھوٹا سا لال چھت والا گھر—کے نیچے اس نے پینسل سے لکھ رکھا تھا: "میرا گھر"۔ میری سانس رُک گئی۔ اس بچی نے اپنے خواب کو ایک کاغذ کے ٹکڑے پر قید کر دیا تھا کیونکہ حقیقت میں اس کے لیے جگہ نہ تھی۔

یکم سے دو دن پہلے میں نے مالکِ مکان کو فون کیا۔ التجا کرنے کے لیے نہیں بلکہ اپنی مجبوری بیان کرنے کے لیے: "صاحب! مجھے ایک مہینہ اور چاہیے۔ میں کرایہ ادا کر دوں گا۔" وہ راضی نہیں ہوا۔ آخر کار میں نے کہا: "صاحب! آپ کا اپنا گھر ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ چھت کا وہ احساس کیا ہوتا ہے جو کبھی نہیں اُجڑتا؟ میری بچیوں کو یہ احساس نہیں پتہ۔ وہ صرف ایک تصویر کے نیچے 'میرا گھر' لکھنا جانتی ہیں۔"

فون پر خاموشی چھا گئی۔ پھر مالک نے کہا: "کل دفتر آ جاؤ۔"

اگلے دن جب میں مالک کے پاس پہنچا تو اس نے اپنی جیب سے ایک پرانی سی تصویر نکالی—ایک لال چھت والے مکان کی!

"یہ مکان میرے باپ کا تھا،" وہ بولا، "ہم نے اسے قرضوں کی ادائیگی کے لیے بیچ دیا تھا… میں بھی برسوں کرائے کے گھر میں پلا ہوں۔ یہ احساس… میں اچھی طرح جانتا ہوں۔"

میز پر چابیاں پڑی تھیں اور ایک چھوٹا سا نوٹ: "آخری تاریخ اگلے سال کی یکم ہے۔ اپنی بیٹی سے کہنا، وہ تصویر اپنے کمرے کی دیوار پر لگائے، محض خوابوں میں نہیں۔"

میں باہر نکلا تو بارش ہو رہی تھی۔ وہی پرانا رکشہ وہیں کھڑا تھا۔ ڈرائیور نے رکشے کی چھت پر ایک پلاسٹک کی شیٹ باندھ رکھی تھی—اس کا اپنا عارضی سائبان!

میں نے چابیاں ہاتھ میں لیں۔ یہ چابیاں بھی عارضی تھیں، مگر آج وہ میرے ہاتھ میں بھاری نہیں لگیں۔ شاید اس لیے کہ ایک انسان نے دوسرے انسان کی خاموشی میں اپنی ہی کہانی سن لی تھی۔ اور اُس لمحے، بس اُس لمحے کے لیے، مجھے یوں لگا جیسے آسمان بھی اپنی تمام وسعتوں کے باوجود زمین پر گرے ہوئے لوگوں کو اپنے سائبان میں ڈھانپ لیتا ہے۔

----------------

مشکل الفاظ کے معانی:

پسلیاں: سینے کی ہڈیاں 

احساسِ جرم: گناہ یا کوتاہی کا اندرونی پچھتاوا

مرحوم: وفات پا جانے والا، جس پر رحم کیا گیا ہو

وراثت: ترکہ، آبا و اجداد سے ملنے والی چیز یا حالت

سائبان: چھت، چھایا، سایہ دار جگہ / تحفظ

وسعت: کشادگی، پھیلاؤ

مصنف کا نوٹ: افسانے کے ذریعے قاری کو یہ سمجھانا چاہتا تھا کہ مادی دنیا کی بے ثباتی میں انسان کی سب سے بڑی ضرورت "تحفظ اور چھت" کا احساس ہے۔ معاشی نقطہ نظر سے محروم افراد کس طرح اندرونی کرب اور احساسِ کمتری کا شکار رہتے ہیں، یہ کہانی اس کی ترجمانی کرتی ہے۔ جب انسان اپنے جیسے دوسرے انسان کی ماضی کی تلخیوں اور خاموش سسکیوں کو محسوس کرتا ہے تو تلخی، رحم دلی اور ہمدردی میں بدل جاتی ہے۔



عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: