عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

خبر اور احساس Khabar aur Ehsaas

خبر اور احساس - انسانی ضمیر، اندرونی کٹھن اور سوالات پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی
مرکزی خیال: وہ ڈیڑھ سو روپے کے نوٹ میرے ذہن کے شیشے پر اس طرح چپک گئے تھے جیسے خون کے چھینٹے۔ ایک سو کا پیلہ، پچاس کا خاکی۔ انہیں تھامنے والی انگلیاں پتلی تھیں، جوڑ ابھرے ہوئے، ناخن بےرنگ۔ یہ تصویر میرے اندر ایک زندہ چیز بن کر رینگنے لگی تھی۔ میں جانتا تھا کہ یہ محض ایک منظر نہیں، یہ ایک سوال ہے جو میرے اپنے وجود سے پوچھا جا رہا ہے۔ اور میں اس کا جواب نہیں رکھتا۔


ایک ہفتہ گزر گیا تھا اس "واقعے" کو، مگر وہ بوٹیاں—وہ چار، پانچ چھوٹے سے پیس—اب بھی رات کی خاموشی میں میرے بستر پر بکھر جاتے تھے۔ میں احمد تھا، تیس سال کا، ایک پرائیویٹ فرم میں کام کرتا، اپنے اپارٹمنٹ میں رہتا۔ زندگی ایک پہیے کی طرح چل رہی تھی، ہر دن اپنی جگہ پر، بے آہٹ۔ گروسری، بلوں، دوستوں کے ڈنر پارٹیوں کے درمیان وقت کا احساس مٹ جاتا تھا۔ میں نے کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ چکن کا ریٹ کیا ہے۔ یہ ایک ایسی معلومات تھی جو میرے شعور کے پردے کے پیچھے کہیں دفن تھی، بے معنی۔

پھر وہ دن آیا۔ امی کا میسج۔ چکن۔ اور پھر وہ دو بہنیں۔ ان کے چہروں پر کوئی شِکایت نہیں تھی، کوئی الم نہیں۔ بس ایک خاموش عادت، جیسے سانس لینا۔ "بس اتنا سا…" اور پھر قصائی کا وہ جملہ، "ہور ڈیڑھ سو دا کنا آنا؟" ایک سادہ سوال جو میری پوری دنیا میں زلزلہ لے آیا۔ میں وہاں کھڑا اپنا موبائل دیکھتا رہا، مگر اس کی اسکرین پر الفاظ تیرنے لگے تھے۔ میں نے دیکھا کہ قصائی نے بے رغبتی سے کلیجی الگ رکھی اور دو تین اور چھوٹے ٹکڑے ڈال دیے۔ ایک پتلی پلاسٹک کی تھیلی۔ دونوں بہنوں نے نوٹ دئیے، تھیلی لی، اور بغیر کچھ کہے چل دیں۔ ان کے جانے کے بعد دکان پر وہی ہلچل تھی۔ قصائی دوسرے آرڈر پر چلّا رہا تھا۔ مگر میرے کانوں میں صرف وہ چھناکا گونج رہا تھا—ٹوٹتے ہوئے کانچ کی آواز۔

اگلے دن سے، میں نے اپنے آس پاس دیکھنا شروع کیا۔ میں وہی تھا، مگر میری آنکھیں بدل گئی تھیں۔ دفتر میں چائے لانے والے رضوان کی پھٹی ہوئی چپل۔ فرش صاف کرنے والی فاطمہ کی وہ ایک ہی پرانی چادر جو وہ ہفتے میں تین بار پہنتی آئی تھی۔ کبھی میں نے ان چیزوں کو "دیکھا" ہی نہیں تھا۔ وہ میرے منظر نامے کا پس منظر تھیں۔ اب وہ مرکز میں آ گئی تھیں۔

ایک رات، میں نے اپنے والد کو فون کیا۔ وہ ایک چھوٹے شہر میں رہتے ہیں۔ باتوں باتوں میں میں نے پوچھ ہی لیا، "ابّا، آج کل گھر میں چکن کا ریٹ کیا ہے؟" ابّا نے ایک رقم بتائی جو مارکیٹ ریٹ سے کچھ کم تھی۔ پھر اچانک خاموش ہو گئے۔ پھر بڑے سکوت سے بولے، "بیٹا، تمہاری دادی… تمہیں یاد ہے؟ وہ کہا کرتی تھیں کہ ہم نے اگست 1947 کے فسادات کے کے بعد ایسے دن دیکھے تھے جب گھر میں نمک تک نہیں ہوتا تھا۔ پھر اس وقت بھی لوگ جیت گئے۔"

دادی کا ذکر سن کر میری سانس رک سی گئی۔ مجھے ان کی وہ بات یاد آئی جو انہوں نے مرنے سے ایک سال پہلے کہی تھی۔ میں شاید بارہ تیرہ سال کا تھا۔ وہ کہہ رہی تھیں، "دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک وہ جنہیں بھوک کا احساس ہوتا ہے، دوسرے وہ جنہیں بھوک کی خبر ہوتی ہے۔ پہلے والے زندہ رہتے ہیں، دوسرے والے صرف گزارا کرتے ہیں۔"

میں اس وقت سمجھا ہی نہیں تھا۔ اب یہ جملہ میرے سر میں بم کی طرح پھٹا۔ کیا میں صرف گزارا کر رہا تھا؟ کیا میری پوری زندگی، میری کامیابیاں، میرا آرام دہ اپارٹمنٹ—سب ایک خبر تھی، ایک حقیقت نہیں؟

میں نے اپنے آپ کو دیکھنا شروع کیا۔ میری الماریاں بھری پڑی تھیں ایسے کپڑوں سے جو میں نے سال میں ایک بار پہنے تھے۔ فریج میں پڑی وہ باسٹھ ہوئی چٹنی جسے پھینکنے کا وقت نہیں ملا تھا۔ یہ سب کچھ میرے اردو گرد خاموشی سے چیخ رہا تھا۔

پھر وہ خیال آیا جو راتوں کو جگاتا۔ کیا میں ان بہنوں کی مدد کر سکتا تھا؟ ایک رقم ان کے گھر بھیج سکتا تھا؟ مگر یہ خیال ہی مجھ پر ایک اور طمانچہ تھا۔ میں انہیں جانتا تک نہیں تھا۔ میری "مدد" محض ایک دولت مند آدمی کی خود پسندی ہوتی، اپنے احساسِ جرم کو دبانے کا ایک طریقہ۔ میں نے محسوس کیا کہ میری بیگانگی صرف معاشی نہیں تھی، یہ انسانی تھی۔ میں اپنے ہی لوگوں سے اس قدر دور ہو چکا تھا کہ ان کی مدد کا تصور بھی ایک گناہ لگتا تھا۔

ایک دن، میں اسی مارکیٹ میں گیا۔ ایک دھکیلے ہوئے سٹال پر ایک بوڑھا آدمی پرانے اخباروں میں لپٹی ہوئی پکی ہوئی چنے بیچ رہا تھا۔ دس روپے کا پیکٹ۔ میں نے ایک پیکٹ لیا۔ پیسے دیتے ہوئے میری نظر اس کے ہاتھوں پر پڑی۔ وہ کانپ رہے تھے۔ میں نے کہا، "چچا، آپ کہاں رہتے ہیں؟"

اس نے اپنی سرخ آنکھوں سے مجھے دیکھا، جیسے یہ سوال کوئی عجیب ریاضی کا مسئلہ ہو۔ پھر ہلکے سے سر ہلایا اور کہا، "بٹیا، جہاں رات کو آنکھ لگ جائے، وہیں۔"

یہ جملہ میری ہڈیوں میں اتر گیا۔ جہاں رات کو آنکھ لگ جائے۔ میرا پورا اپارٹمنٹ، میرا آرام دہ بستر، میری "ہوم" کی تعریف—سب ایک افسانہ لگنے لگا۔

اور پھر، آج، موڑ آیا۔

میں دفتر سے لوٹ رہا تھا۔ اچانک بارش شروع ہو گئی۔ میں نے ایک چائے کی دکان کے شامیانے کے نیچے پناہ لی۔ دکان کے اندر ٹی وی پر خبریں چل رہی تھیں، مہنگائی پر بحث۔ ایک اینکر پُرجوش انداز میں اعداد و شمار دے رہا تھا۔ اتنے میں، میں نے اپنے سامنے والی گلی میں ایک نظر ڈالی۔ وہی دو بہنیں تھیں۔

وہ بارش میں بھیگتی ہوئی ایک چھوٹے سے گھر کے دروازے پر کھڑی تھیں۔ ان کے ساتھ ایک چھوٹا لڑکا تھا، چار پانچ سال کا۔ اس نے اپنی چھوٹی سی مٹھی میں سے کچھ نکال کر ایک بلی کے بچے کے آگے رکھ دیا۔ شاید روٹی کا ٹکڑا تھا۔ بلی نے خوشی سے کھانا شروع کر دیا۔ تب تک تینوں بھیگ چکے تھے۔ مگر اس لڑکے کے چہرے پر ایک مسکان تھی۔ ایک بے ساختہ، خالص مسکان۔ اور ان بہنوں کے چہروں پر بھی، ایک لمحے کے لیے، وہی ٹھنڈی خاموشی نہیں تھی۔ ایک نرمی تھی۔

میں وہیں جم کر رہ گیا۔ یہ وہ منظر تھا جس کی میں نے کبھی توقع نہیں کی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ غربت صرف دکھ ہے، بے بسی ہے۔ مگر یہاں، بارش میں بھیگتے ہوئے، ایک بلی کے بچے کو کھلاتے ہوئے، وہ مسکان تھی۔ یہ زندگی کا وہ رخ تھا جو میری سمجھ سے بالاتر تھا۔ یہ صبر نہیں تھا، یہ قبولیت تھی۔ یہ شکایت نہیں تھی، یہ وجود تھا۔

میں نے محسوس کیا کہ میری آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔ یہ رونا ان پر ترس کھانے کے لیے نہیں تھا۔ یہ رونا اپنے آپ پر تھا۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی اس طرح کی مسکان نہیں دی تھی۔ میری خوشیاں خریدی ہوئی تھیں، حاصل کی ہوئیں۔ یہاں خوشی بانٹی جا رہی تھی۔

بارش تھم گئی۔ وہ تینوں گھر کے اندر چلے گئے۔ میں بھی اپنی گاڑی کی طرف چل پڑا۔ مگر راستے بھر وہ مسکان میرے سامنے تھی۔

گھر پہنچ کر میں نے اپنے باورچی خانے کا دروازہ کھولا۔ فریج میں وہی باسٹھ ہوئی چٹنی تھی، اور بہت کچھ۔ میں نے ایک بڑا تھیلا نکالا۔ آج نہیں، کل صبح، میں ان چیزوں کو اس علاقے کی ایک معتبر خیراتی تنظیم کو دے دوں گا جو واقعی ضرورت مندوں تک پہنچاتی ہے۔ یہ میری مدد نہیں ہوگی۔ یہ میری "خبر" کو "احساس" میں بدلنے کی ایک چھوٹی سی، ذاتی کوشش ہوگی۔

میں بستر پر لیٹا تو وہ منظر پھر آیا۔ ڈیڑھ سو روپے۔ خاموش بے بسی۔ چند بوٹیاں۔ مگر اب اس کے ساتھ وہ مسکان بھی تھی۔

میں سمجھ گیا۔ زندگی واقعی ہر انسان کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔ کچھ کے پاس بوٹیاں ہوتی ہیں، کچھ کے پاس پورے مرغ۔ مگر انسانیت کا وزن ان چیزوں سے ناپا نہیں جا سکتا۔ اس کا وزن اس بات سے ناپا جاتا ہے کہ تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے، خواہ وہ ڈیڑھ سو روپے ہوں یا ڈیڑھ لاکھ، اسے تم کس طرح برداشت کرتے ہو۔ اور کبھی کبھی، بارش میں بھیگتے ہوئے، ایک بلی کے بچے کو کھلانے والی مٹھی میں، وہ سب کچھ ہوتا ہے جو کسی کے پاس ہو سکتا ہے۔

میں نے آنکھیں بند کر لیں۔ آج پہلی بار، میں نے محسوس کیا کہ میرا دماغ سن نہیں ہوا۔ وہ سوچ رہا تھا۔ درد کے ساتھ، شرم کے ساتھ، مگر ایک نئی طرح کی بیداری کے ساتھ۔ اور میں جانتا تھا کہ یہ صرف آغاز ہے۔ آئینہ دکھا چکا تھا۔ اب سفر باقی تھا۔

--------------------

مشکل الفاظ کے معانی

محض: صرف / صرف اور صرف

شِکایت: گلہ / اعتراض

الم: دکھ / غم

بے رغبتی: بے دلی / بغیر کسی شوق یا دلچسپی کے

چھناکا: کانچ یا دھات کے ٹوٹنے کی تیز آواز

سکوت: خاموشی / سکون

بیگانگی: اجنبیت / کٹ کر رہ جانا

خود پسندی: خود غرضی / اپنے آپ کو بڑا سمجھنا

احساسِ جرم: اپنے کسی عمل پر گناہ یا غلطی کا اندرونی ملامتی احساس

افسانہ: داستان / من گھڑت یا خیالی بات

قبولیت: رضامندی / حالتِ زار کو خوش دلی سے قبول کر لینا

اکارت: ضائع / برباد (سیاق و سباق میں(

باسٹھ ہوئی (چٹنی)  :(خراب یا بوسیدہ ہو جانا / باسی اور بے مصرف ہو جانا

مصنف کا نوٹ: "یہ افسانہ محض ایک معاشی ناہمواری کی داستان نہیں، بلکہ ایک عام انسان کے بے حسی سے بیداری تک کے اندرونی سفر کی عکاسی ہے۔ ہماری زندگیوں میں بعض اوقات ایک بظاہر معمولی اور نادیدہ واقعہ ایسا زلزلہ برپا کر دیتا ہے جو ہمارے بنائے ہوئے آرام دہ خول کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ ’خبر‘ اور ’احساس‘ کے درمیان جو باریک مگر گہرا فاصلہ ہے، یہی اس تحریر کی بنیاد ہے۔ میں نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ حقیقی انسانیت اور خوشی کا تعلق دولت کی فراوانی سے نہیں بلکہ اشتراک، قبولیت اور دردمندی سے ہے—اور یہ کہ آئینہ صرف چہرہ نہیں، روح کی حقیقت بھی دکھاتا ہے۔"


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: