مرکزی خیال: وہ بھوکا نہیں تھا، پھر بھی چاولوں کے دانے گن رہا تھا۔ ہر ایک دانے کو انگلیوں کے درمیان دبائے، سفید کو سفید سے ملا رہا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب گھڑی کی ٹک ٹک بھی بہت اونچی سنائی دیتی ہے۔ کمرے میں صرف وہ تھا اور وہ چالیس، بیالیس، تینتالیس چاول۔ شام کی مدھم روشنی میں اس کی انگلیوں کے پوروں پر چمکتی نمی نظر آ رہی تھی۔
زید انصاری ایک عام سا اکاؤنٹنٹ تھا۔ اس کی زندگی دو عددی سلسلوں، بیلنس شیٹوں اور ڈیڈ لائنز کے درمیان گزرتی تھی۔ دفتر کے بعد وہ براہِ راست اس گھر میں واپس آتا جہاں اس کی بیوی عائشہ اور نو سالہ بیٹی صبا اس کا انتظار کرتیں۔ عائشہ سادہ، فرض شناس عورت تھی۔ صبا… صبا کے بارے میں زید کچھ نہیں سوچتا تھا۔ سوچنے سے ایک عجیب سی کسک سینے میں اٹھتی تھی، جیسے کوئی نادیدہ ہاتھ اس کے دل کو بھینچ دے۔
زید کی زندگی میں سب کچھ 'بعد میں' کے لیے تھا۔ 'ابھی نہیں، بیٹا، بعد میں۔ جب تم بڑے ہو جاؤ گے۔ جب تم پڑھ لکھ جاؤ گے۔ جب نوکری لگ جائے گی۔ جب گھر بن جائے گا۔' یہ جملے اس نے اپنے باپ سے سنے تھے، اور اب وہ خود، بغیر سوچے سمجھے، صبا سے کہہ دیتا۔ "ابھی نہیں، صبا۔ بعد میں۔"
ایک دن دفتر سے واپسی پر اس نے صبا کو ڈائننگ ٹیبل پر ایک کاغذ پر کچھ بناتے دیکھا۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک پہاڑی گاؤں کا منظر تھا۔ ایک جھرنا، اس سے نیچے بہتے پانی میں کھڑی ایک لڑکی، اور آسمان پر رنگ برنگے پرندے۔
"یہ کیا بنا رہی ہو؟" زید نے پوچھا، اپنی آواز میں ایک غیر ارادی سخت لہجہ لائے بغیر۔
"یہ میرا خواب ہے، ابو۔ میں بڑی ہو کر پہاڑوں پر جھرنے بناؤں گی۔ ہر جھرنا الگ رنگ کا ہو گا۔" صبا کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو زید نے کبھی اپنی آنکھوں میں نہیں دیکھی تھی، یا شاید بہت پہلے بجھ چکی تھی۔
"یہ سب بکواس ہے۔ پڑھائی پر دھیان دو۔ کل میتھس کا ٹیسٹ ہے نا؟" وہ جانتا تھا کہ اس کی آواز میں کتنی بے رحمی ہے، مگر روک نہ سکا۔ صبا کی آنکھوں کی چمک فوراً بجھ گئی۔ اس نے سر جھکا لیا۔
اس رات زید کو نیند نہیں آئی۔ وہ بار بار اپنے باپ کی یادوں میں کھو جاتا۔ ایک سادہ سا اسکول ٹیچر، جن کی ساری زندگی دو بیٹوں کو 'کچھ بنانے' کی تیاری میں گزر گئی۔ بچپن میں زید کو رنگین پینسلوں کا بہت شوق تھا۔ ایک بار اس نے اپنے گاؤں کے تالاب کی تصویر بنائی تھی۔ باپ نے کاغذ پھاڑتے ہوئے کہا تھا، "یہ سب فضول ہے۔ تمہیں ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہے۔" وہ تصویر کہاں گئی؟ وہ شوق کہاں گیا؟ اس کا 'وہ' لڑکا کہاں گیا؟
ایک عجیب خوف اس نے محسوس کیا۔ ناکامی کا خوف نہیں۔ بلکہ اس بات کا خوف کہ کہیں صبا کی آنکھوں کی وہ چمک بھی، اس کی اپنی آنکھوں کی چمک کی طرح، وقت کے تالاب میں بجھ کر رہ نہ جائے۔ مگر وہ کچھ کر نہ سکا۔ خوف کی جڑیں بہت گہری تھیں۔ سماج کا خوف، روایت کا خوف، 'لوگ کیا کہیں گے' کا خوف… یہ سب اس کی رگوں میں خون بن کر دوڑ رہا تھا۔
پھر وہ واقعہ پیش آیا۔ دفتر میں بڑا آڈٹ تھا۔ رات گئے تک کام کر کے جب وہ گھر پہنچا تو گھر میں سناٹا تھا۔ عائشہ نے بتایا کہ صبا بخار میں ہے۔ ڈاکٹر نے کہا ہے معمولی انفیکشن ہے۔ مگر زید کے دل پر ایک پتھر رکھا گیا تھا۔ وہ صبا کے کمرے میں گیا۔ وہ نیند میں تھی، اس کے ہونٹوں پر ایک مبہم سی مسکراہٹ تھی۔ اس کے تکیے کے نیچے وہی ڈرائنگ تھی – جھرنے والی۔ زید نے ڈرائنگ نکالی۔ دیکھا تو اس میں ایک اضافہ ہوا تھا۔ جھرنے کے پاس اب ایک اور چھوٹا سا کردار تھا، جس کے ہاتھ میں فائل تھی اور سر پر چمکدار کرنیں بنی ہوئی تھیں۔ نیچے لکھا تھا: "میرا ابو۔ جو ہمیشہ بہت کام کرتا ہے۔"
زید کی آنکھیں بھر آئیں۔ اس نے محسوس کیا جیسے اس کا سارا وجود ایک خالی کاغذ ہے جس پر دوسروں نے اپنے خواب لکھ دیے ہیں۔ اس نے کبھی خود کو نہیں پہچانا تھا۔ وہ صرف ایک 'تیاری' تھی، ایک 'ذمہ داری' کا پیکٹ، ایک 'مستقبل' کا وعدہ۔ اور اب وہ اپنی ہی بیٹی کو وہی راستہ دکھا رہا تھا۔
اگلے دن اس نے دفتر سے چھٹی لی۔ اس نے صبا کے سامنے وہ ڈرائنگ رکھی اور کہا، "یہ جھرنا… تم اسے کس رنگ کا بناؤ گی؟"
صبا حیران ہوئی۔ "سرخ، نارنجی، نیلا… ہر رنگ کا، ابو۔"
"اور یہ پرندے؟"
"یہ پرندے اڑ کر دور چلے جائیں گے۔ بہت دور۔"
زید نے ایک گہری سانس لی۔ "صبا… ابو سے کوئی خواب چھین لیا تھا۔ میں تمہارا خواب نہیں چھین سکتا۔"
یہ کہہ کر وہ اٹھا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔ اس نے الماری کا وہ کنارا کھولا جہاں اس کے پرانے سامان رکھے تھے۔ دھول بھری ایک ڈبے سے اس نے رنگین پینسلوں کا ایک پرانا ڈبہ نکالا۔ چند پینسلیں ٹوٹی ہوئی تھیں، مگر رنگ اب بھی موجود تھے۔ وہ ڈبہ لے کر صبا کے پاس آیا اور اس کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
"یہ لے لو۔ میرے تھے۔ اب تمہارے ہیں۔"
اس دن شام کو زید نے برسوں بعد اپنا ہاتھ کاغذ پر چلایا۔ اس نے کوئی شاہکار نہیں بنایا۔ صرف ایک لہر دار لکیر کھینچی، پھر دوسری، پھر تیسری۔ وہ جھرنا نہیں بنا سکا، مگر اس نے پانی کی روانی کو محسوس کرنے کی کوشش کی۔ اور تب اسے احساس ہوا کہ زندگی گزارنے کا مطلب یہ نہیں کہ تمام لہریں مکمل ہوں۔ بس کبھی کبھی، اپنے ہاتھ میں پینسل تھام لینا ہی کافی ہوتا ہے۔
اختتام پر، جب صبا تندرست ہو گئی اور اس نے اپنے جھرنے کے ساتھ کچھ نئے پرندے جوڑے، زید نے اپنے ڈیسک سے وہ چالیس چاول نکالے جنہیں وہ گن رہا تھا۔ وہ اب انہیں نہیں گنے گا۔ وہ انہیں کھڑکی سے باہر، چڑیوں کے لیے بکھیر دے گا۔ شاید چڑیاں بھی کوئی خواب لے کر آئیں گی، یا نہیں۔ فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ اس نے آج سیکھ لیا تھا کہ زندگی کو ٹالنے کے لیے نہیں، بلکہ چکھنے کے لیے ہوتی ہے۔ ایک ایک لمحہ، ایک ایک دانہ۔ اور بعض اوقات، ایک جھرنا جو کبھی نہیں بنا، بس ایک ڈرائنگ میں ہی سہی، زندگی کو بہتا رہنے دینے کا حوصلہ ضرور دے جاتا ہے۔
------------
مشکل الفاظ کے معنی
• کسک: ہلکا سا درد یا خلش
• نادیدہ: نہ دکھائی دینے والا / غائب
• مبہم: غیر واضح / جو صاف نہ ہو
• شاہکار: بہترین تخلیق / کمال کا کام
مصنف نوٹ : "جھرنا" اس بات کی علامت ہے کہ جذبے اور خواب کسی تسلسل یا ضوابط کے پابند نہیں ہوتے؛ انہیں بس بہنے کے لیے راستہ چاہیے ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے بچوں کے خوابوں کو اپنی تلخیوں اور خوف کی نذر کر دیں گے تو زندگی کا بہاؤ رک جائے گا۔ یہ کہانی صرف ایک باپ اور بیٹی کا قصہ نہیں، بلکہ ہر اس انسان کا آئینہ ہے جو اپنی پنسل کہیں ماضی کے دھول بھرے ڈبوں میں چھوڑ کر صرف حساب کتاب کی دنیا میں قید ہو چکا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: