مرکزی خیال: انسانی ذہن بعض اوقات شدید دردناک سچائی اور احساسِ جرم سے بچنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لے کر اسے سچ مان لیتا ہے۔ تاہم، جب تک انسان اپنے ماضی کے خوف اور غلطی کا سامنا کھل کر نہیں کرتا، تب تک وہ اپنے ہی بنائے ہوئے اندرونی قید خانے اور بے نام گھٹن سے آزاد نہیں ہو سکتا۔
وہ رسی ہر شام ساڑھے سات بجے اس کی کلائی کو جکڑ لیتی تھی۔
یہ کوئی نظر آنے والی رسی نہ تھی، نہ کوئی بھاری بیڑی۔ بس ایک احساس تھا… ایسا محسوس ہوتا جیسے اس کی پوری کہنی سے لے کر ہتھیلی کی ہڈیوں تک کے درمیان کوئی نامعلوم طاقت زور سے کس گئی ہو۔ یہ احساس اس وقت شروع ہوتا جب شام کی دھندلکا بیت الخلاء کی اس چھوٹی سی کھڑکی سے چپک کر اندر سرکنے لگتی، اور اس وقت ختم ہوتا جب وہ جوتے پہن کر باہر نکلتا اور سڑک پر آنے والوں کے بہاؤ میں گم ہو جاتا۔
سبیتہ کا دفتر ایک پرانی عمارت کے تہہ خانے میں تھا، جس کے بیت الخلاء میں ایک ٹوٹی سی کھڑکی تھی۔ ہر شام، جب دفتر خالی ہونے لگتا، وہ اپنی میز سے اٹھتا، ایک جھوٹ سا بولا جاتا کہ "فون پر بات کرنی ہے"، اور اس بیت الخلاء میں جا کر بند ہو جاتا۔ وہاں، آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر، وہ اپنی کلائی کو دیکھتا۔ کچھ نہیں ہوتا تھا۔ صرف وہی پرانا نشان، ایک سفید داغ، جو بچپن میں چولہے سے جل جانے کا تھا۔ مگر اس کے نیچے… اس کے نیچے وہ رسی محسوس ہوتی۔
اس نے کبھی کسی سے اس کا ذکر نہیں کیا۔ ایسا کوئی نہیں تھا جس سے وہ کہہ سکتا۔ اس کی ماں مر چکی تھی، باپ نے دوسری شادی کر لی تھی، اور وہ اس شہر میں اکیلے ایک کرائے کے کمرے میں رہتا تھا۔ زندگی ایک ٹائم ٹیبل کی طرح چل رہی تھی: دفتر، کمرہ، بازار، نیند۔ اور اس ٹائم ٹیبل میں، ساڑھے سات بجے کی یہ رسی ایک ایسی گھنٹی تھی جو صرف اس کے اعصاب پر بجتی تھی۔
ایک دن، عمارت میں نئے صفائی والے آئے۔ ان میں ایک لڑکا تھا، شاید بیس سال کا، جس کی آنکھیں بے حد چمکدار تھیں۔ اس کا نام رحمن تھا۔ رحمن ہر شام بیت الخلاء کی صفائی کرتا۔ سبیتہ نے ایک دن اسے دیکھا۔ رحمن نے جب فرش دھویا، تو پانی کا ایک چھینٹا آئینے پر پڑا۔ اس نے کپڑے سے آئینہ صاف کیا، اور اچانک، آئینے میں سبیتہ کی نظر سے نظر مل گئی۔ دونوں نے ایک لمحے کے لیے ایک دوسرے کو دیکھا۔ رحمن کی مسکان میں ایک عجیب سی سادگی تھی۔ "بھائی صاحب،" اس نے کہا، "یہاں تو بہت تنگ ہے۔ سانس لینے کو جی چاہتا ہے۔"
اگلے دن، جب سبیتہ وہاں گیا، تو اس نے دیکھا کہ رحمن نے کھڑکی کے پاس والی دیوار پر ایک چھوٹا سا آئینہ اور ٹوٹا ہوا پلاسٹک کا گلدان رکھ دیا ہے، جس میں ایک مصنوعی سفید پھول تھا۔ یہ ایک چھوٹی سی تبدیلی تھی، مگر اس سے وہ ڈبہ نما کمرہ کچھ کم بے رحم لگنے لگا۔
سبیتہ اور رحمن میں بات چیت شروع ہوئی۔ معمولی سی باتیں۔ موسم، کھانے کی چیزیں، شہر کے ٹریفک جام۔ ایک دن رحمن نے پوچھ ہی لیا، "بھائی صاحب، آپ ہر روز ٹھیک ساڑھے سات بجے یہاں آتے ہیں۔ کوئی خاص وجہ؟"
سبیتہ نے اپنی کلائی کی طرف دیکھا۔ اس نے کہا، "کچھ نہیں۔ بس… ایک عادت ہے۔"
رحمن نے آئینے کی طرف اشارہ کیا۔ "میرے ابّا کہتے تھے، آئینے میں کبھی کبھی انسان اپنے آپ کو نہیں، اپنے اندر کی کوئی اور چیز دیکھتا ہے۔" وہ ہنس دیا، جیسے کوئی مذاق کر رہا ہو۔ مگر سبیتہ کے دل میں یہ بات کھٹک گئی۔ اس رات اس نے اپنے کرائے کے کمرے میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنی کلائی کو بہت غور سے دیکھا۔ وہ سفید نشان… کیا یہ واقعی چولہے سے جلنے کا تھا؟ اچانک ایک دھندلی سی یاد نے جھٹکا مارا۔ ایک گلی، شام کا وقت، ایک بچہ روتا ہوا، اور اس کا ہاتھ کسی گرم چیز سے جل کر… لیکن وہ چیز کیا تھی؟ یاد مکمل نہیں ہو رہی تھی۔ بس ایک خوف، ایک شدید خوف جو اس دھندلی تصویر کے ساتھ واپس آیا۔
اگلی شام، جب اس نے رحمن سے بات کی، تو اس نے پوچھا، "تمہارے ابّا کیا کرتے تھے؟"
رحمن نے فرش پر پانی چھڑکتے ہوئے کہا، "وہ ایک بڑے گھر میں ملازم تھے۔ ایک دن سیڑھیوں سے گر کر… خیر، اللہ نے بلا لیا۔" اس نے کہا، "لیکن انہوں نے ایک بات سکھائی: جس چیز کو آپ چھپاتے ہیں، وہی چیز آپ کو چھپا لیتی ہے۔"
سبیتہ نے اپنے ہونٹ چباتے ہوئے کہا، "مگر کچھ چیزیں… ایسی ہوتی ہیں جو محسوس ہوتی ہیں، حالانکہ ہوتی نہیں۔ جیسے کوئی رسی بندھی ہو۔"
رحمن نے اپنا کام جاری رکھا۔ "بھائی صاحب، اگر محسوس ہوتی ہے تو وہ ہے ہی۔ پر سوال یہ ہے کہ اسے کس نے باندھا؟"
یہ سوال سبیتہ کے دماغ میں گونجتا رہا۔ کس نے باندھا؟
ایک ہفتہ گزر گیا۔ سبیتہ کی رسی پہلے سے زیادہ تنگ محسوس ہونے لگی۔ اب وہ صرف شام کو ہی نہیں، بلکہ ہر وقت اپنی کلائی پر ایک بوجھ سا محسوس کرتا، جیسے وہ کسی بے وزن زنجیر سے جکڑا ہوا ہو۔ پھر وہ دن آیا۔ رحمن نے کہا کہ اسے دوسری عمارت میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔ آخری دن، اس نے سبیتہ کو الوداع کہتے ہوئے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی، پرانی سی تسبیح نکالی۔ "میرے ابّا کی ہے۔ میں نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ آپ رکھ لیں۔"
سبیتہ نے انکار کیا مگر رحمن نے اس کی جیب میں ڈال دی۔ "یہ آپ کی رسی نہیں کاٹے گی، پر… یہ یاد دلاتی رہے گی کہ کوئی ہے جو جانتا ہے۔"
رحمن چلا گیا۔ بیت الخلاء پھر سے پہلے جیسا ویران اور بے رحم ہو گیا۔ مگر اس دن، جب سبیتہ نے وہاں کھڑے ہو کر آئینے میں دیکھا، تو اس نے تسبیح اپنی جیب سے نکالی اور اپنی اس کلائی پر رکھی جہاں رسی محسوس ہوتی تھی۔ ٹھنڈے دانے اس کی کھال کو چھوئے۔ اچانک، آئینے میں اس کی اپنی تصویر دھندلانے لگی۔ اور پھر، تصویر کے پیچھے… کچھ ابھرا۔ وہ دھندلی سی یاد، پوری طرح واضح ہو گئی۔
وہ چھ سال کا تھا۔ گھر میں تنہا تھا۔ ماں نے اسے ڈانٹا تھا کہ وہ باہر نہ جائے۔ اس نے باورچی خانے میں کھیلتے ہوئے چولہے کی سلاخ چھو لی تھی، اور چلّایا تھا۔ درد سے بے حال، وہ گلی میں بھاگا تھا۔ سامنے ایک سائیکل سوار تیز آ رہا تھا۔ وہ گھبرا کر ایک طرف ہٹا تھا۔ سائیکل سوار بچ گیا۔ مگر اس کے پیچھے جو خاتون چل رہی تھی، وہ اچانک سامنے آ گئی تھی… اور گر کر سر پٹخ دیا تھا۔ وہ عورت، اس کی دادی تھیں، جو اس دن اچانک اسے دیکھنے آئی تھیں۔ وہیں، اس گلی میں، اس کے سامنے، خاموشی سے چل بسی تھیں۔
سبیتہ نے ہمیشہ سوچا تھا کہ اس کا نشان چولہے کا ہے۔ مگر نہیں۔ یہ نشان اس لمحے کا تھا جب اس نے اپنی دادی کو گلی میں پڑا دیکھا تھا، اور اپنا ہاتھ گرم اسفالٹ پر دبا دیا تھا۔ یہ نشان ایک جھوٹ تھا۔ ایک ایسا جھوٹ جو اس نے اپنے آپ کو بار بار دہرا کر سچ بنا لیا تھا، تاکہ اصل حقیقت، اس کی بےحد احمقانہ غلطی کی وجہ سے ہونے والے ایک بڑے نقصان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
رسی بندھی تھی احساسِ جرم کی۔ اس نے خود اپنے آپ کو یہ یقین دلایا تھا کہ وہ صرف چولہے سے جل گیا تھا۔ اس جھوٹ نے اسے ایک رسی دی تھی، جو اسے ہر شام اس خوفناک یاد سے دور، اس بیت الخلاء میں کھینچ لاتی تھی۔ آئینے میں اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
اس نے تسبیح کو اپنی مٹھی میں بند کر لیا۔ وہ بیت الخلاء سے باہر نکلا۔ ساڑھے سات بجے تھے۔ دفتر خالی ہو چکا تھا۔ مگر وہ واپس اپنی میز پر نہیں گیا۔ وہ سیدھا عمارت سے باہر نکلا، اور اپنے پاؤں اٹھاتا ہوا اس گلی کی طرف چل پڑا، جہاں سے وہ تیس سال سے بھاگتا چلا آ رہا تھا۔
کلائی پر رسی کا احساس اب بھی تھا۔ مگر اب وہ جانتا تھا کہ یہ رسی اس نے خود اپنے ہاتھوں سے بنائی تھی۔ اور جو چیز بنی ہے، اسے کاٹا بھی جا سکتا ہے۔
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ شام کا آخری سرخ رنگ غائب ہو رہا تھا۔ اس نے سوچا: شاید خدا نے جو لمحات مجھے دیے تھے، وہ صرف ایک رسی بنانے اور اسے محسوس کرنے کے لیے نہیں تھے۔ شاید وہ اس رسی کو پہچاننے، اسے چھونے، اور پھر… اسے کھولنے کے لیے تھے۔
اس نے اپنی کلائی پر ہاتھ پھیرا۔ سفید نشان اب بھی وہیں تھا۔ مگر اب وہ صرف ایک نشان نہیں تھا۔ اب وہ ایک راستہ تھا۔ ایک ایسا راستہ جو ایک جھوٹے قید خانے سے باہر، ایک سچے اور درد بھرے مگر اصلی زندگی کی طرف جاتا تھا۔ اور وہ چل پڑا۔
کمرے میں آئینہ خالی تھا۔ صرف کھڑکی سے آتی ہوئی شام کی روشنی میں، وہ مصنوعی سفید پھول چمک رہا تھا۔ جیسے کوئی خاموش مسکراہٹ، جو اب بھی وہاں تھی۔
-----------------
مشکل الفاظ کے معنی
• تہہ خانہ: زمین کے نیچے بنا ہوا کمرہ
• اعصاب: اعصابی نظام / پٹھے (مراد ذہن اور جسم کا حسّی نظام)
• احساسِ جرم: اپنی کسی غلطی یا گناہ کا اندرونی پچھتاوا
• اسفالٹ: سڑک بنانے کے لیے استعمال ہونے والا تارکول اور بجری کا آمیزہ
• دھندلکا: شام کا ہلکا اندھیرا / شفق
مصنف نوٹ: یہ افسانہ انسان کے اندرونی خوف، ماضی کے چھپے ہوئے احساسِ جرم اور خود سے کیے گئے جھوٹ کی گہری نفسیاتی عکاسی کرتا ہے۔ کہانی ثابت کرتی ہے کہ جب تک انسان سچائی کا سامنا نہیں کرتا، اس کی روح پر بندھی غیر مرئی زنجیریں کبھی ڈھیلی نہیں ہوتیں۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: