عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

وہ خطرناک عورت Woh Khatarnak Aurat

برگد کے سائے تلے پشیمانی کے آنسو اور تنہائی کا اعتراف— جب ضمیر جاگتا ہے تو انسان خدا کے سامنے خود کو قصوروار اور بالکل اکیلا پاتا ہے۔

مرکزی خیال:

افسانے کا مرکزی خیال انسانی ضمیر کی بیداری، مکافاتِ عمل اور خدا کے ساتھ تعلق پر مبنی ہے۔ یہ کہانی ظاہر کرتی ہے کہ انسان دنیاوی طاقت اور غرور میں آکر کسی کمزور (خاص طور پر عورت) پر ظلم تو کر سکتا ہے، لیکن جب وہ مظلوم اپنے معاملے کو دنیا کے بجائے کائنات کے مالک (سائیں) کے سپرد کر دیتا ہے، تو ظالم کا سارا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔ اصل طاقت دنیاوی وسائل نہیں، بلکہ سچائی اور خدا پر توکل ہے، جو انسان کو کبھی تنہا نہیں ہونے دیتے۔


برگد کے نیچے بوڑھا بیٹھا تھا۔  چہرہ خاموش… آنکھیں بولتی ہوئی۔

کسی نے ہنستے ہوئے چھیڑا:  "سائیں! بیوی کو ڈر کے مارے چھوڑ دیا تھا؟ بڑی خطرناک تھی نا؟"

بوڑھا مسکرایا:  "اللہ بخشے… بہت اچھی تھی۔"

"لوگ تو کچھ اور کہتے ہیں!"

بوڑھے نے سر ہلایا:  "ہاں… خطرناک تھی۔ میں ڈر گیا تھا۔"

"عورت سے ڈر گئے؟"  

قہقہہ گونجا۔

بوڑھے نے پہلی بار آنکھ اٹھائی:  "عورت سے نہیں… اس کے سائیں سے۔"

ہنسی وہیں دم توڑ گئی۔

"میں غریب تھا… مگر غرور امیروں والا تھا،" وہ بولا۔  

"ماں نے ایک غریب لڑکی سے بیاہ دیا۔ وہ خاموش تھی، سلیقہ مند… اور میں؟  میں اسے بھول گیا۔"

"میں باہر کھاتا، باہر جیتا… وہ گھر میں بھوک کے ساتھ جیتی۔   ایک دن اس نے صرف روٹی مانگی… میں نے اسے مار دیا۔"

سانس بھاری ہوئی۔ وقفہ لمبا۔

"وہ ٹوٹی نہیں۔ سلائی کرنے لگی۔ اپنی روٹی خود کمانے لگی…  

اور میں… میں اور چھوٹا ہو گیا۔"

"پھر ایک رات…"

"میں نے اسے سنا۔ وہ صحن میں بیٹھی تھی۔ اکیلی… مگر تنہا نہیں۔ باتیں کر رہی تھی:

'سائیں… ایک روٹی ہے۔ وہ کھا جائے گا… میں رہ جاؤں گی۔  پہلے تو تُو دیتا تھا، عزت سے…  اب تیرے نائب کے ہاتھ آئی ہے تو ذلت بھی ساتھ آئی ہے۔  مجھے اب روٹی تُو ہی دے… تیرا نائب خائن نکلا۔'"

"میں دہلیز پر جم گیا۔  پہلی بار سمجھ آیا… میں اس گھر میں اکیلا نہیں ہوں۔"

"وہ مجھ سے نہیں… اوپر شکایت کر رہی تھی۔  

اور میں… نیچے کانپ رہا تھا۔"

"صبح میں نے اسے چھوڑ دیا۔"

"اس کے باپ نے پوچھا: کیوں؟  

میں نے کہا:  یہ عورت خطرناک ہے… بہت اوپر تک پہنچ رکھتی ہے۔"

بوڑھے نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیری۔

"سچ؟  خطرناک وہ نہیں تھی۔"

پل بھر کو خاموشی۔

"خطرناک یہ تھا… کہ وہ سچ بولتی تھی—  اور میں خدا کے سامنے جھوٹا کھڑا تھا۔"

بوڑھے نے آسمان کو دیکھا۔ آنکھیں بھیگ گئیں۔

"میں نے اسے روٹی نہ دی…  اس کے سائیں نے مجھ سے نیند چھین لی۔"

آواز سرگوشی میں ڈھل گئی:"لوگ ٹھیک کہتے ہیں…  وہ خطرناک تھی—"

"کیونکہ وہ کبھی تنہا نہیں تھی۔  اور میں… میں ہمیشہ سے اکیلا تھا۔"

------------

مشکل الفاظ کے معنی

لفظمعنی
سائیںمالک، پروردگار، شوہر، بزرگ یا ولی اللہ
سلیقہ مندتمیز دار، ہنرمند، سگھڑ
نائبقائم مقام، نمائندہ (یہاں مراد شوہر ہے)
خائنخیانت کرنے والا، امانت میں دغا کرنے والا
دہلیزچوکھٹ، گھر کا دروازہ
مکافاتِ عملاعمال کا بدلہ، جیسا کرو گے ویسا بھرو گے

عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: