![]() |
| یہ افسانہ خاموشی کی آواز ہے جو تتلی کے ٹوٹتے پر اور عورت کی نہ ٹوٹنے والی عادت کے درمیان پڑھنے والے کو بےچین کر دیتا ہے۔ |
مرکزی خیال:
منافقت کی وہ خاموش زہریلی شکل جو رشتوں میں بناوٹی خلوص اور مصنوعی محبت کے روپ میں چھپی ہوتی ہے، اور اسے برداشت کرنے والے دل کی آہستہ موت — خاص طور پر ان خواتین کے حوالے سے جنہیں "صبر" کا درس دیا گیا ہے۔
وہ ہر شام چھت پر آتی۔ پیلے رنگ کی وہی پرانی چونری، جسے اس کے شوہر نے برسوں پہلے پرانی دلی کی کسی دکان سے خریدا تھا۔ چونری سے تتلی کا پر جھڑکتا تھا — جھڑن نہیں، وقت کے ساتھ پھیکا پڑ جانے والا رنگ تھا، جو اب سفیدی کی طرف مائل ہو چکا تھا۔
اس کے سامنے لکڑی کے پرانے پنجرے میں تین تھکی ہوئی تتلیاں تھیں۔ ایک نیلی، دو پیلی۔ اس نے خود پکڑا تھا انہیں، اُس دن جب اس کی بڑی بیٹی نے پہلی بار اسے "بڈھی" کہا تھا۔
شوہر نیچے بیٹھا ٹیلی ویژن کی آواز تیز کیے۔ آواز اوپر آتی تو بالوں میں الجھ جاتی — لفظ نہیں، صرف شور۔
"آج بہت دھوپ تھی۔" اس نے پنجرے سے کہا۔ تتلیوں نے پروں کو ہلکا سا جھٹکا دیا — جواب نہ تھا، بس عادت تھی۔
سامنے والی چھت پر ایک لڑکی کپڑے سکھا رہی تھی۔ ہاتھ بےقرار تھے۔ ہر کپڑے کو اس طرح جھاڑنا گویا کسی بوسیدہ چہرے پر طمانچے مار رہی ہو۔ پھر اچانک لڑکی رکی، اندر گئی۔ دس منٹ بعد ایک جوان لڑکا باہر آیا — اس نے لڑکی کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کچھ کہا جسے وہ سن نہ سکی، لیکن دیکھا کہ لڑکی کا چہرہ پہلے کھلا پھر بند ہوا، جیسے کوئی کتاب جسے پڑھے بغیر بند کر دیا گیا۔ وہ اس منظر کو گھورتے ہوئے سوچتی رہی: "یہ وہی ہے جو میرے ساتھ ہوا تھا۔"
یاد آیا تیس برس پہلے کا دن۔ سہیلی نیلامہ اس کے گھر آئی تھی، شوہر کی قمیض سلائی کرنے کے بہانے۔ نیلامہ کی آواز میں شہد گھلا تھا۔ "تمہارا گھر تو جنت ہے، زرگل۔ تمہارے خاوند کیا کمال کے ہیں۔" زرگل اس وقت سادگی کے لیے مشہور تھی۔ اس نے کبھی کسی پر شک نہ کیا۔ پھر وہ رات آئی جب اس نے شوہر کی جیب میں وہ خط پڑھا۔ خط میں تھا: "تمہاری انگلیوں کی مہندی میرے دل میں اتر گئی ہے۔" خط نیلامہ کا تھا۔ شوہر نے جب پوچھا تو صرف کہا: "تمہیں شک کرنے کی عادت ہے، زرگل۔ یہ تمہارا وہم ہے۔" اور اس نے مان لیا۔
کیوں؟ کیونکہ اسے سکھایا گیا تھا کہ "محبت میں شک نہیں ہوتا۔" لیکن کسی نے نہیں بتایا تھا کہ شک سے بڑا زہر "دکھاوے" کا ہوتا ہے۔
تلیوں نے اچانک پَر مارنا شروع کر دیا۔ نیلی تتلی نیچے گر گئی۔ اس نے پنجرہ کھولا، اسے باہر نکالا۔ تتلی نے اڑنے کی کوشش کی مگر اونچائی نہ پا سکی — بس تھوڑا اڑ کر ہتھیلی پر آ گری۔
یاد آیا جب وہ چھوٹی تھی تو نانی کہتی تھیں: "تتلی اگر تمہاری ہتھیلی پر بیٹھ جائے تو سمجھ لو اس نے تم پر اعتماد کیا۔ اسے توڑنا سب سے بڑا گناہ ہے۔"
آج وہ ہتھیلی پر بیٹھی تتلی کو دیکھ رہی تھی — اور اس کے ساتھ جو نیلامہ نے کیا، جو شوہر نے کیا، جسے اس نے "معافی" کا نام دے کر دل میں دفن کر دیا تھا، وہ اس تتلی کے ٹوٹے پَر کی طرح تھا — شاید اندر سے ٹوٹ چکا تھا مگر باہر سے پورا تھا۔ اچانک نیچے سے شوہر کی آواز آئی: "زرگل! کیا کر رہی ہو اوپر؟ نیلامہ کی بیٹی کا فون تھا، وہ کل شادی کے لفافے لینے آ رہی ہے۔"
زرگل نے تتلی کو واپس پنجرے میں نہ رکھا — ہاتھ بڑھا کر اسے آسمان کی طرف اچھالا۔ تتلی اڑی نہیں، گر گئی۔ نیچے صحن کے فرش پر اس کا پیلا پَر بکھر گیا۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ دل میں ایک خاموش چیز پکار رہی تھی: "میں نے کبھی کسی کا اعتماد نہیں توڑا۔ پھر کیوں سب نے میرا توڑا؟"
اس نے جواب نہ پایا۔ صرف وہ جانی پہچانی آواز سنی — نیلامہ کی بیٹی کی، جو کل آئے گی، اسی چہرے کے ساتھ، مٹھاس بکھیرتی ہوئی۔ اور زرگل نے فیصلہ کیا کہ وہ پھر سے وہی کرے گی جو وہ کرتی آئی ہے — مسکرانا، چائے بنانا، اور تتلیوں کی موت کو آنکھوں میں چھپا لینا۔ کیونکہ اسے سکھایا گیا تھا کہ "برداشت" عورت کا زیور ہے۔ مگر کسی نے نہیں بتایا تھا کہ زیور کبھی کبھی زنجیر بن جاتا ہے۔
--------------------------
مشکل الفاظ کے معنی
• چونری (چُنری): رنگ برنگا یا ڈاٹ دار (بندھنی) سوتی دوپٹہ۔
• مائل ہونا: جھکاؤ ہونا، کسی دوسری رنگت یا کیفیت کی طرف جانا (جیسے: سفیدی کی طرف مائل ہونا)۔
• بوسیدہ: پرانا، گلا ہوا، پھٹا پرانا یا خستہ حال۔
• طمانچے: تھپڑ (جمع)۔
• منافقت: دل میں کچھ اور زبان پر کچھ ہونا، دو رُخی، بناوٹ۔
• مصنوعی: بناوٹی، نقلی، جو حقیقی نہ ہو۔
• برداشت: صبر، تحمل، دکھ یا تکلیف کو خاموشی سے سہنا۔
• زنجیر بن جانا: یہاں اس سے مراد آزادی کا چھن جانا یا کسی مجبوری اور قید میں جکڑے جانا ہے۔
• خاموش موت: ایسی کیفیت جہاں انسان جسمانی طور پر زندہ ہو مگر اندر سے اس کا احساس اور روح مر چکی ہو۔
ایک ادبی نوٹ: افسانے کا مرکزی جملہ — "عورت کا زیور کبھی زنجیر بن جاتا ہے" — دراصل اس معاشرتی المیے کی عکاسی کرتا ہے جہاں 'صبر اور برداشت' کو عورت کی خوبی (زیور) بنا کر پیش کیا جاتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ یہی خوبی اس کے حقوق اور زبان کو بند کرنے کا ذریعہ (زنجیر) بن جاتی ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: