عبدالرزاق واحدی ادبی مرکز

"ادب انسان کو جینا اور محبت کرنا سکھاتا ہے۔"

سفید داڑھی کا حساب Safaid Darhi Ka Hisaab

سفید داڑھی کا حساب - معاشرتی بے حسی، سچائی اور مظلومیت پر مبنی بہترین اردو افسانہ، عبدالرزاق واحدی

افسانے کا مرکزی خیال: افسانے کا مرکزی خیال معاشرتی بے حسی، سچ کی بے توقیری اور ایک بوسیدہ نظام کے ہاتھوں معصوم اور کمزور طبقے کا استحصال ہے۔ کہانی یہ دکھاتی ہے کہ کس طرح معاشرے کا طاقتور یا چالاک طبقہ (لڑکے) اپنے وقتی کھیل اور جرم کا بوجھ ایک لاچار اور ضعیف انسان پر ڈال دیتا ہے۔ ٹرین کا وہ ڈبہ دراصل ہماری سوسائٹی کی علامت ہے، جہاں سچائی کو اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے جان تک دینی پڑتی ہے۔ بوڑھے کا سچ اور اس کی موت، نظام کی اندھی آنکھ اور قانون کے رکھوالوں کی یکطرفہ سوچ پر ایک زوردار طمانچہ ہے۔ یہ افسانہ یہ سبق دیتا ہے کہ جب تک ضمیر بیدار نہ ہو، تب تک قانون محض ایک بے جان زنجیر ہے، اور جب ضمیر مر جائے تو پورا معاشرہ ایک چلتی پھرتی لاش بن جاتا ہے۔


ٹرین نہ اندھیرے میں تھی، نہ روشنی میں۔ بس ایک ایسی جگہ تھی جسے زندگی کہتے ہیں، مگر وہ سانس لینے جیسی نہیں لگتی۔

ڈبے کے کونے میں ایک بوڑھا بیٹھا تھا۔ سفید داڑھی۔ چہرہ جھریوں کا کتبہ۔ آنکھوں میں امید نہیں تھی، حساب تھا۔ وہ مسافر نہیں لگتا تھا۔ وہ سفر کا بوجھ لگتا تھا۔

دروازہ کھلا۔ آٹھ دس لڑکے اندر آئے۔ ہنسی ان کے ساتھ نہیں آئی تھی۔ وہ ہنسی کو زنجیر سے باندھ کر لائے تھے۔

"زنجیر کھینچتے ہیں۔" ایک نے کہا۔  

دوسرا بولا: "جرمانہ؟ ہم سب ڈال دیں گے۔"  

تیسرا ہنسا: "پھر کسی پر ڈال دیں گے۔ کھیل ہے۔"

بارہ سو روپے جمع ہوئے۔ ایک نے نوٹ مٹھی میں دبا کر کہا: "بوڑھا ہے نا۔ اس پر ڈال دیں گے۔ یہ لوگ ویسے بھی آدھے قبر میں ہوتے ہیں۔"

بوڑھا خاموش رہا۔ اس خاموشی میں صبر نہیں تھا۔ وہ تھکن تھی جو تب اترتی ہے جب آدمی کے اندر سے آدمی مر جائے اور صرف پنجر بچے۔

زنجیر کھنچی۔

ٹرین چیخی۔ جیسے کسی نے وقت کا گلا گھونٹ دیا ہو۔

ٹی ٹی آیا۔ اس کی آنکھ نے کمرے میں قدم رکھنے سے پہلے ہی مجرم چن لیا۔

"کس نے کھینچی؟"

انگلیاں بوڑھے پر آ گریں۔ اتنی پھرتی سے، جیسے وہیں رکھی ہوں۔

بوڑھا ہلا نہیں۔ صرف بولا:  "میں نے نہیں کھینچی۔ مگر اگر تمہیں الزام کے لیے ایک ٹوٹی ہوئی کمر چاہیے، تو یہ رہی۔"

ٹی ٹی دھاڑا: "بڑھاپے میں بھی چال؟"  

بوڑھے نے پہلی بار سر اٹھایا۔ اس آنکھ میں وہ سچ تھا جو قانون کی کتاب میں نہیں چھپتا:  "چال نہیں۔ یہ تمہارا نظام ہے۔ یہاں سچ کی کمر جھکی ہوتی ہے۔ اور جھکی ہوئی کمر ہمیشہ مجرم بنتی ہے۔"

تلاشی ہوئی۔

کُرتے کی جیب سے بارہ سو روپے نکلے۔ مڑے ہوئے۔ پسینے میں بھیگے ہوئے۔ جیسے کسی مزدور کی مہینے بھر کی مزدوری ہو۔

خاموشی اتری۔ مگر یہ وہ خاموشی نہیں تھی جو انصاف کے بعد اترتی ہے۔ یہ وہ خاموشی تھی جو جھوٹ کے تخت پر بیٹھنے کے بعد تالی بجاتی ہے۔

لڑکے اگلے اسٹیشن پر اتار دیے گئے۔ نہ جھگڑا۔ نہ ندامت۔ صرف ایک سرکاری کارروائی پوری ہوئی۔

ٹرین چل پڑی۔

بوڑھا وہیں بیٹھا رہا۔ کھڑکی سے باہر دیکھا۔ اندھیرا نہیں تھا۔ روشنی بھی فضول تھی۔ جیسے اجالا صرف زخم دکھانے کے لیے ہو، بھرنے کے لیے نہیں۔

اس نے آہستہ سے داڑھی پر ہاتھ پھیرا۔ اور پھر اس کی آواز کانپی۔ بڑھاپے سے نہیں۔ اس بوجھ سے جو پہلی بار زبان پر آیا تھا:  "میں بوڑھا نہیں ہوا۔ تم سب نے مل کر مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔"

پھر سناٹا۔

چند سانسوں بعد ٹرین نے جھٹکا کھایا۔ ایسا جھٹکا جیسے کوئی سویا ہوا ضمیر گریبان سے پکڑ کر اٹھایا گیا ہو۔

بوڑھے کا سر آگے کو جھکا، پھر دائیں کندھے پر لڑھک گیا۔  

آنکھیں بند تھیں۔  داڑھی پر ہاتھ جما تھا۔ ویسے ہی جیسے کوئی آخری ہچکی میں بھی رسید سنبھال لے۔

دروازہ پٹخ کر کھلا۔ ٹی ٹی چیخا: "کس نے کھینچی؟"  

اس بار کوئی انگلی نہیں اٹھی۔ کیونکہ الزام لگانے والا خود کٹہرے میں لاش بن چکا تھا۔

بوڑھا اسی طرح بیٹھا تھا۔ مگر اب اس کی سفید داڑھی پورے نظام کے منہ پر تھپڑ تھی۔ جس کا جواب کسی وردی، کسی کرسی، کسی قلم کے پاس نہیں تھا۔

ایک مسافر ہونٹ ہلایا: "یہ تو ابھی بول رہا تھا۔"  

دوسرے نے سر جھکا لیا: "بولنا جرم نہیں۔ سننے والے قبر میں ہیں۔"

ٹرین کھڑکیوں سے بھاگتے منظر گھورتی رہی۔ منظر آتے ہیں، جاتے ہیں۔ جو چلا جائے، وہ لوٹتا نہیں۔

بعد میں نہ نام ملا۔ نہ گاؤں۔ نہ کفن دفن والا۔

صرف تین چیزیں بچیں: ایک سفید داڑھی۔ بارہ سو روپے۔ اور ایک زنجیر جس کا ہاتھ کوئی نہیں تھا۔ مگر ایک بات طے ہو گئی:  

اس دن کے بعد اس ڈبے میں پھر کسی نے زنجیر کو ہاتھ نہیں لگایا۔ کیونکہ خالی نشست کبھی کبھار سپریم کورٹ سے بھی اونچی بولتی ہے۔ اور جب ٹرین سیٹی بجاتی تو ڈبے میں بیٹھے لوگوں کو لگتا جیسے کوئی بوڑھی آواز اب بھی پوچھ رہی ہو:  "میں بوڑھا نہیں ہوا۔ تم نے میرے ساتھ کیا کر ڈالا؟"

مگر وہ آواز نہیں تھی۔  ہوا بھی نہیں تھی۔ صرف ایک خاموشی تھی جو کراچی سے لاہور تک ہر اسٹیشن پر چڑھتی رہی۔ اور آج تک کسی اسٹیشن پر اتری نہیں۔

--------------------

مشکل الفاظ کے معنی:

جھریوں کا کتبہ: چہرے کی لکیریں جو ماضی کی تلخ داستان یا عمر کے کٹھن سفر کو ظاہر کریں (کتبہ: قبر پر لگی تختی)

پنجر: ہڈیوں کا ڈھانچہ، بالکل خالی یا کمزور جسم

ندامت: شرمندگی، پچھتاوا

فضول: بیکار، لاحاصل (کہانی کے سیاق و سباق میں: ایسی روشنی جس کا کوئی فائدہ نہ ہو)

کٹہرا: عدالت میں ملزم یا گواہ کے کھڑے ہونے کی جگہ

بوسیدہ نظام: پرانا، گلا سڑا یا ناکام قانون و معاشرت (کہانی کے تصور کے مطابق)

ضمیر: انسان کے اندر کی وہ آواز جو اچھے اور برے کی تمیز سکھاتی ہے


مصنف نوٹ: یہ کہانی ٹرین کے ایک ڈبے میں دم توڑتے انسانی ضمیر کا نوحہ ہے۔ چند منچلے لڑکے تفریح کے لیے زنجیر کھینچتے ہیں اور جرمانے سے بچنے کے لیے جھوٹی گواہی دے کر بارہ سو روپے کا سارا بوجھ ایک لاچار، سفید داڑھی والے بوڑھے پر ڈال دیتے ہیں۔ ٹکٹ چیکر کی اندھی تفتیش اور لڑکوں کی مکاری کے سامنے بوڑھا احتجاج کرنے کے بجائے اس بوسیدہ نظام کی حقیقت کو تسلیم کر لیتا ہے جہاں کمزور کی جھکی کمر ہی مجرم بنتی ہے۔ لڑکے تو سزا سے بچ کر اگلے اسٹیشن پر نکل جاتے ہیں، مگر بوڑھے کا حساس دل اس سنگ دلی کو برداشت نہیں کر پاتا اور وہ سفر کے دوران ہی دم توڑ دیتا ہے۔ اس کی یہ اچانک موت پورے نظام اور خاموش مسافروں کے منہ پر ایک ایسا طمانچہ ثابت ہوتی ہے کہ اس دن کے بعد اس ڈبے میں پھر کبھی کسی کو زنجیر کھینچنے کی ہمت نہیں ہوتی، اور بوڑھے کا سوال ایک ابدی خاموشی بن کر ہر اسٹیشن پر گونجتا رہ جاتا ہے۔


عبدالرزاق واحدی کے افسانے پڑھنے کے لیے آپ کا بے حد شکریہ۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: