![]() |
| یہ افسانہ آپ کو کچھ نہیں بتاتا — مگر ختم کرنے کے بعد آپ خود ہی اپنا جوتا اتار کر کسی کو دینے لگتے ہیں۔ |
مرکزی خیال:
خاموشی کوئی کمزوری نہیں، بلکہ اکثر وہی گہرائی ہوتی ہے جہاں سے دوسروں تک پہنچنا ممکن ہو۔ خوف خودکشی کی شکل میں نہیں، زندگی کی معمولی سی حرکت میں ٹوٹ سکتا ہے — ایک جوتا دینے سے۔
رات کے تین بجے تھے۔ نہر کا پانی سیاہ تھا۔ ٹھنڈا۔
وہ کنارے پر کھڑا تھا۔ انگلیاں کیچڑ میں دھنستی جا رہی تھیں۔ ہتھیلی میں کاغذ کا ٹکڑا — آدھا لکھا ہوا خط۔
"تمہارے بغیر زندگی..." جملہ وہیں رک گیا تھا۔ جیسے سانس۔
پیچھے گاؤں اندھیرے میں ڈوبا تھا۔ سامنے صرف پانی کا بہاؤ۔
وہ بولا نہیں۔ بولنا اسے کبھی آیا ہی نہیں تھا۔ ماں مرتے وقت سرہانے بیٹھ کر کہہ گئی تھی: "تم بہت خاموش ہو، بیٹا۔ دنیا تمہیں سمجھے گی نہیں۔"
وہ دنیا کے بارے میں نہیں سوچ رہا تھا۔ وہ اس کے بارے میں سوچ رہا تھا جس نے کل کہا تھا: "تمہاری خاموشی مجھے ڈراتی ہے۔" اس نے سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ لفظ نہیں ملے تھے۔
پانی بہہ رہا تھا۔ ایک کاغذی جہاز بہتا بہتا آ کر اس کے پاؤں سے لگ گیا۔ اس نے اٹھایا۔
بچوں کی ٹیڑھی میڑھی لکیر میں لکھا تھا: "اللہ جانے کیوں پیدا کیا تھا"
اس نے جہاز پانی کے حوالے کر دیا۔ وہ گھوما، ڈگمگایا، اور اندھیرے میں کھو گیا۔ وہ تھوڑی دیر اور کھڑا رہا۔ پھر ایک قدم پیچھے ہٹا۔
دوسرا۔
تیسرے قدم پر جوتا کیچڑ میں دھنس گیا۔ اس نے جوتا اتار کر کنارے پر رکھ دیا۔ ننگے پاؤں لوٹنے لگا۔
گلیوں میں اندھیرا اور گہرا تھا۔ ایک کتا بھونکا۔ جواب میں صرف اس کے قدموں کی چاپ رہ گئی۔
دروازہ کھلا۔ اندر چراغ نہیں تھا۔ فرش ٹھنڈا تھا۔ وہ بیٹھ گیا۔ دیوار پر اس کا سایہ الگ کھڑا تھا۔ ایک اور انسان۔ اس نے سائے سے پوچھا: "تم کب جاؤ گے؟"
سایہ چپ رہا۔
اس نے کاغذ نکالا۔ وہی آدھا خط۔ ماچس کی تیلی رگڑی۔
کاغذ سکڑا۔ سیاہ ہوا۔ راکھ ہو گیا۔
پانی پیا۔ لیٹ گیا۔
صبح کھڑکی سے دھوپ آئی تو یاد آیا — جوتا کنارے پر رہ گیا تھا۔ وہ پھر نہر کی طرف چلا۔
جوتا وہیں تھا۔ اس کے ساتھ ایک اور جوتا — چھوٹا، پھٹا ہوا، بچوں والا۔ اس نے دونوں اٹھا لیے۔
درخت کے نیچے ایک بچہ بیٹھا تھا۔ ننگے پاؤں۔ آنکھوں میں وہی خوف جو رات کو پانی میں تھا۔
وہ رکا۔ پھر خاموشی سے ایک جوتا اس کے آگے رکھ دیا۔
بچے نے لیا۔ کچھ نہ کہا۔
وہ بھی نہ بولا۔
پھر پلٹ گیا۔
دنیا ویسے کی ویسی تھی۔ مگر اس کے کندھے سے کوئی بوجھ اتر گیا تھا۔
کنارے پر۔
یا شاید نہر بہا لے گئی تھی۔
-------------
مشکل الفاظ کے معنی:
• چاپ: قدموں کی آواز، آہٹ (جیسے: قدموں کی چاپ)۔
• سرہانے: سر کے پاس، بستر پر سر کی طرف کی جگہ۔
• تیڑھی میڑھی: کج، جو سیدھی نہ ہو، الٹی سیدھی (لکیریں)۔
• دھنسنا: نیچے کی طرف بیٹھ جانا، زمین یا کیچڑ میں دب جانا۔
• ڈگمگانا: لڑکھڑانا، توازن کھو دینا، لرزنا۔
• سکڑنا: پچھک جانا، حجم میں چھوٹا ہو جانا (جیسے آگ لگنے پر کاغذ کا سکڑنا)۔
• راکھ: کسی چیز کے جلنے کے بعد بچ جانے والا سفوف یا غبار۔
ادبی نوٹ: افسانے میں الفاظ بہت سادہ لیکن اپنے معانی اور تاثر میں بے حد گہرے ہیں۔ "خاموشی" اور "سائے" کا استعمال کہانی کی فضا کو ایک خوبصورت سحر انگیز اداسی عطا کرتا ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: