مرکزی خیال: بے مقصد زندگی کی خاموش قبر — ایک ایسا انسان جو سانس تو لے رہا ہے مگر اندر سے مر چکا ہے، اور اسے احساس بھی نہیں کہ کب وہ خود اپنی کہانی کا مسخ شدہ کردار بن گیا۔
رات کے تین بجے تھے۔ ستارے دھندلے ہو چکے تھے، جیسے کوئی انہیں مٹا رہا ہو۔ وہ کرسی پر بیٹھا تھا — اُسی کرسی پر جہاں اس کے والد نے آخری سانس لی تھی۔ کمرے میں ایک پرانی گھڑی ٹک ٹک کر رہی تھی، وقت کو کاٹتی ہوئی۔
بیوی نے کچھ نہیں کہا تھا۔ وہ کبھی نہیں کہتی۔ جب وہ رات کو جاگتا ہے، وہ آنکھیں بند کر لیتی ہے — جان بوجھ کر۔ اس نے کئی بار سوچا تھا: کیا اسے نیند نہیں آتی؟ یا وہ بھی جاگ رہی ہے، صرف دکھاوا کر رہی ہے؟
آج اسے بیٹی یاد آئی۔ وہ کہتی تھی، "ابّا، آپ مسکراتے کیوں نہیں؟" اور وہ کہتا، "ہوں، بس تھکا ہوں۔" اب وہ مسکراہٹیں کسی اور شہر میں ہنسی بن گئی ہیں۔ بیٹی نے شادی کی تو وہ رو پڑا تھا — وہ نہیں، بیوی نے بتایا تھا۔ "تمہاری آنکھوں میں پانی تھا، میں نے دیکھا۔" اس نے انکار کیا تھا۔
جھوٹ بولا تھا۔
کھڑکی سے ہوا آئی۔ پردے اٹھے، جیسے کوئی اندر آنا چاہ رہا ہو۔ باہر ایک بلی بیٹھی تھی، آنکھوں میں چاندنی۔ وہ بلی روز آتی ہے۔ کبھی دروازے پر، کبھی چھت پر۔ وہ اسے روٹی ڈال دیتا ہے، مگر کبھی پاس نہیں آنے دیتا۔ آج اس نے پانی کا پیالہ بھی رکھ دیا تھا۔ بلی نے پیا، پھر اسے دیکھا۔ اُسے ایسا لگا جیسے بلی اسے پہچان رہی ہو۔
وہ اٹھا، کچن گیا، چائے بنائی۔ ابلتے پانی کی آواز سکون دیتی تھی۔ بیٹے نے کہا تھا ایک بار، "ابّا، آپ رات کو چائے پیتے ہیں تو نیند کیوں نہیں آتی؟" وہ ہنس نہیں سکا تھا۔ صرف کہا تھا، "تم اپنی پڑھائی کرو۔"
بیٹا اب اس شہر میں نہیں ہے۔ کسی اور ملک میں کسی اور زبان میں بات کرتا ہے۔ کبھی کبھی فون آتا ہے: "سب ٹھیک ہے، ابّا؟" اور وہ کہتا ہے، "سب ٹھیک ہے۔" یہ جھوٹ دونوں جانتے ہیں، پھر بھی دہراتے ہیں۔
چائے کا کپ ہاتھ میں تھا۔ گرمی انگلیوں میں اتر رہی تھی۔ سوچا: زندگی کیا ہے؟ ایک کپ چائے جو ٹھنڈی ہونے سے پہلے پی لی جائے۔ یا وہ بلی جو آتی ہے، پانی پیتی ہے، اور چلی جاتی ہے؟
بیوی نے کمرے میں روشنی کی۔ وہ چونک گیا۔
"پانی پی لو،" اس نے کہا۔ اتنے سالوں بعد بھی وہ اسے پانی پلاتی ہے۔ اس نے کہا تھا کبھی — شادی کے پہلے سال — "مجھے رات کو پانی اٹھا کر دینا۔" اور وہ پچیس سال سے دیتی ہے۔
اس نے کپ رکھا۔ وہ بیٹھ گئی پاس، چپ۔ ان کے درمیان فاصلہ تھا — ایک تکیے کا نہیں، ایک پوری زندگی کا۔
"تم کیوں جاگ رہے ہو؟" اس نے پوچھا۔
وہ چپ رہا۔
"آدھی رات کو بلی کو پانی پلا رہے تھے،" اس نے کہا، "پردے میں دیکھا۔"
وہ بول نہ سکا۔ پھر اس نے کہا، "کل تیری بیٹی نے فون کیا تھا۔ کہتی تھی، امّی، ابّا سے کہو کہ میں نے ان کی وہ کہانی پڑھی جو انہوں نے بیس سال پہلے لکھی تھی۔ جس میں لڑکا دروازے پر دستک دیتا رہتا ہے اور کوئی نہیں کھولتا۔"
دل تھم سا گیا۔
"وہ کہتی تھی، ابّا نے خود کو لکھ دیا ہے۔"
اس نے آسمان کی طرف دیکھا۔ بلی جا چکی تھی۔ صرف پیالہ خالی پڑا تھا۔
اس نے اٹھ کر دروازہ کھولا۔ باہر اندھیرا تھا، گلی خاموش۔ پتے سرسرا رہے تھے۔ وہ ایک لمحے کے لیے باہر کھڑا رہا۔ پھر اندر آیا۔
بیوی سو چکی تھی۔ اس نے سرہانے پانی کا گلاس رکھ دیا — وہی گلاس، وہی عادت۔
پھر وہ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا۔
گھڑی نے چار بجائے تو وہ آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔ نیند نہیں آ رہی تھی۔ صرف ٹک ٹک تھی — اور ایک بے مقصد سانس کا چلنا۔
صبح ہو گئی۔ بیوی نے پوچھا، "چائے لو گے؟"
اس نے کہا، "ہاں۔" اور پھر کچھ نہیں کہا۔
بیٹی نے شام کو فون کیا۔ "ابّا، آپ نے آج شام کو پوچھا کیوں؟ 'کیا کھایا تم نے؟' — آٹھ سال بعد کیوں پوچھا؟" اس نے جواب نہیں دیا۔
بس اتنا کہا: "دروازہ کھلا تھا، بیٹی۔ تم نے دستک نہیں دی۔"
فون کٹ گیا۔
اور وہ کرسی — جہاں اس کے والد نے آخری سانس لی تھی — خالی تھی۔
وہ اٹھ کر باہر نکلا۔ بلی دوبارہ آئی تھی۔ اس نے روٹی ڈالی۔ بلی نے نہیں کھائی۔ صرف دیکھتی رہی۔
اس نے کہا، "ٹھیک ہے۔" اور دروازہ بند کر دیا۔
دروازہ اب بند تھا، لیکن اس بار کمرے کے اندر سے۔
-------------------------
مشکل الفاظ کے معنی
دھندلے: مدہم، غیر واضح، جو صاف نظر نہ آئے۔
دکھاوا کرنا: ظاہر کچھ کرنا اور دل میں کچھ ہونا، ڈھونگ رچانا، تظاہر کرنا۔
انکار کرنا: مکر جانا، مانی ہوئی بات سے پھر جانا، نفی کرنا۔
چاندنی: چاند کی روشنی۔
دستک دینا: دروازہ کھٹکھٹانا۔
تھم سا جانا: رک جانا، ٹھہر جانا (جیسے دل کی دھڑکن کا اچانک رکنا)۔
سرسرا رہے تھے: پتوں کے آپس میں ٹکرانے یا ہوا سے ہلنے کی دھیمی دھیمی آواز (سرسراہٹ)۔
سرہانے: بستر یا چارپائی کا وہ حصہ جہاں سر رکھا جاتا ہے۔
بے مقصد: بغیر کسی وجہ، ہدف یا غرض کے۔
مرکزی خیال: کسی تحریر یا کہانی کا بنیادی نکتہ، لب لباب یا وہ سوچ جس پر پوری کہانی لکھی گئی ہو۔
مسخ شدہ کردار: وہ کردار جس کی اصل شکل، شخصیت یا روح بگڑ چکی ہو؛ بدلا ہوا یا بگڑا ہوا روپ۔
قاری: پڑھنے والا، مطالعہ کرنے والا۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: