مرکزی خیال: انسان کی آخری اور سب سے بڑی طاقت اپنی مغلوبیت کا اعتراف ہے۔ جب دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں، تو جھک جانا ہی سیدھا ہونے کا پہلا قدم ہے۔
1
شام کے چار بجے تھے۔ دھوپ ابھی بھی تیز تھی، مگر اس کی کرنیں دیواروں پر ٹوٹ کر تھکی تھکی لگ رہی تھیں۔
راشد کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ سامنے والی عمارت کی چھت پر ایک بوڑھا آدمی کبوتروں کو دانہ ڈال رہا تھا۔ ہاتھ آہستہ اٹھتے، گرتے۔ کچھ نہیں بدلتا تھا۔
پاس وہی پرانا تکیہ تھا، وہی بے رنگ چادر، اور وہی چائے کا کپ جس کی شکن پرانی یادوں کی مانند گہری ہو چکی تھی۔
ٹیبل پر ایک کھلا لفافہ۔ اندر سے انکار کا خط جھانک رہا تھا۔ آخری انکار۔
اس نے اس سے پہلے تین دروازوں پر دستک دی تھی۔ اداریے، ایوارڈ کمیٹیاں، بڑے رسالے۔ ہر جگہ سے ایک ہی جواب آیا تھا — "آپ کا اسلوب بہت پرانا ہے، اب دور بدل گیا ہے۔"
اس نے سوچا تھا چوتھا دروازہ کھلے گا۔ چوتھے نے بھی انکار کیا۔
اب وہ کھڑکی سے درختوں کو جھلتا دیکھ رہا تھا۔ ایک کوّا شاخ سے دوسری شاخ پر اڑ رہا تھا، کچھ نہ ملا تو واپس آ گیا۔
راشد نے آہستہ سے کہا، "تو تو واپس آ گیا۔"
لفظ ہوا میں اُڑ کر دیواروں سے ٹکرائے اور مر گئے۔
2
وہ لائبریری میں گیا۔ ہزاروں کتابیں خاموش تھیں۔ دیوار پر لٹکی اپنی تصویر دیکھی — وہ تصویر جب اسے بہترین کہانی کار کا ایوارڈ ملا تھا۔ وہ مسکرا رہا تھا۔ مگر وہ مسکراہٹ اب اس کے چہرے پر نہیں تھی۔
الماری سے اپنی وہ کاپی نکالی جسے کبھی شائع نہیں کیا تھا۔ پہلا صفحہ کھولا۔
"یہ کہانی ایک ایسے آدمی کی ہے جس نے ساری زندگی الفاظ میں خداؤں کو تلاش کیا، اور جب کچھ نہ ملا تو اس نے ایک خالی کاغذ پر لکھا — رَبِّ، میں مغلوب ہوں۔"
آنکھوں میں کچھ تھا۔ آنسو نہیں، پانی نہیں — بلکہ ایک بوجھ۔ وہ بوجھ جو برسوں سے کھوپڑی کے اندر پتھر بن کر پڑا تھا۔
3
اس نے کاغذ پر لکھنا شروع کیا۔
"آج میں نے سوچا کہ الفاظ جھوٹ بولتے ہیں۔ میں نے زندگی بھر کہانیاں لکھیں، مگر اپنی نہیں لکھی۔ اب لکھتا ہوں — میں ٹوٹ چکا ہوں۔"
قلم رک گیا۔ اس نے دوبارہ اٹھایا۔ "مگر ٹوٹنا شاید پہلا سچ ہے جو میں نے لکھا ہے۔"
رات ڈھل گئی۔ کمرے میں صرف ایک چراغ جلتا رہا۔ باہر ہوائیں بدل رہی تھیں، مگر اسے کچھ محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
اس نے اٹھ کر وضو کیا۔ پھر سجدے میں چلا گیا۔
مٹی کی سردی پیشانی میں اتر رہی تھی۔ آہستہ سے کہا: "رَبِّ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِر"
لفظ بہت چھوٹے تھے۔ کمرہ بہت بڑا تھا۔ مگر کچھ ہوا۔ جیسے دیواروں نے خاموشی توڑی ہو۔ جیسے وہ پرانا کپ اچانک ہلکا ہو گیا ہو۔ جیسے کوّا، جو ساری شاخیں آزما چکا تھا، آخر ایک شاخ پر بیٹھ گیا ہو۔
وہ سجدے میں ہی رہا۔ آدھی رات سے زیادہ۔
4
صبح جب آنکھ کھلی تو کمرے میں کوئی فرق نہیں تھا۔ وہی دیواریں، وہی تکیہ، وہی کپ۔ مگر ٹیبل پر رکھا کاغذ — جس پر اس نے کبھی اپنی کہانی نہیں لکھی تھی — اب خالی نہیں تھا۔ اس پر صرف ایک جملہ تھا: "کہانی ختم نہیں ہوتی، صرف راوی بدل جاتا ہے۔"
اس نے سوچا یہ اس نے خود لکھا ہے۔ مگر قلم وہیں پڑا تھا جہاں رات رکھا تھا۔ سیاہی خشک تھی۔
وہ باہر نکلا۔ کبوتر اڑ رہے تھے۔ ہوا تازہ تھی۔ یقین نہیں ہوا کہ کچھ بدلا ہے۔ مگر جب مسکرایا تو مسکراہٹ اصلی تھی۔
پہلی بار ایسی مسکراہٹ جو بنا وجہ تھی۔
--------
ضروری نوٹ:
"رَبِّ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِر" یہ قرآنی دعا ہے (سورہ القمر، آیت 10) حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم سے مایوس ہو کر مانگی تھی۔
ترجمہ : "اے میرے رب! میں بے بس (مغلوب) ہو چکا ہوں، پس تو میری مدد فرما (بدلہ لے)۔"
مَغْلُوبٌ: جس پر کوئی غالب آ گیا ہو، جو بے بس یا کمزور ہو چکا ہو۔
فَانْتَصِرْ: پس تو میری مدد فرما، یا تو میرا بدلہ لے لے۔
نفل نماز میں یہ دعا سجدوں میں پڑھی جاسکتی ہے (جیسے تہجد، حاجت یا توبہ کی نماز) کے سجدے میں آپ یہ دعا عربی الفاظ کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں۔ سجدے میں دعا مانگنا قبولیت کا بہترین وقت ہے۔
اس دعا کو نماز کے علاوہ اٹھتے بیٹھتے، ہر فرض نماز کے بعد، یا مایوسی اور پریشانی کے وقت وظیفے کے طور پر پڑھنا بہت افضل ہے۔ جب انسان ہر طرف سے ناامید ہو جائے اور خود کو بے بس پائے، تو یہ دعا اللہ کی غیبی مدد کو حرکت میں لانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
شکل الفاظ اور ان کے معنی
| لفظ | معنی |
| مغلوبیت | ہار مان لینا، عاجزی، بے بسی کا اعتراف کرنا |
| اسلوب | لکھنے کا طریقہ، اندازِ بیاں، سٹائل |
| اداریے | اخبار یا رسالے کے مدیر (Editor) کا لکھا ہوا خاص مضمون |
| آزمودہ / آزما چکا | پرکھا ہوا، سب راستے دیکھ چکا ہونا |
| رَبِّ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِر | اے میرے رب! میں بے بس (ہار گیا) ہوں، پس تو میری مدد فرما۔ |
| راوی | کہانی بیان کرنے والا، قصہ گو |
| بنا وجہ | بغیر کسی وجہ کے، بے سبب |
ایک اہم نکتہ: کہانی کا مرکزی خیال اسی بات کے گرد گھومتا ہے کہ جب انسان اپنی مغلوبیت (بے بسی) کا اعتراف کر کے اپنے خدا کے سامنے جھک جاتا ہے، تو وہیں سے اس کی زندگی کا نیا باب شروع ہوتا ہے اور مایوسی امید میں بدل جاتی ہے۔

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: