![]() |
| بعض چابیاں تالے نہیں کھولتیں، پہچان دیتی ہیں۔ |
مرکزی خیال:
کچھ تالے کھولنے کے لیے نہیں ہوتے۔ پہچاننے کے لیے ہوتے ہیں۔
نور احمد دادی کا صندوق صاف کر رہا تھا۔ بالائی منزل پر تھا۔ صندوق پر دھول تھی۔ تالا زنگ آلود تھا۔
ماں نے کہا تھا۔ ضروری کاغذ نکال لو۔ باقی پھینک دو۔
البموں میں۔ زرد خطوں میں۔ بوسیدہ کپڑوں میں۔
ایک چھوٹی کالی چابی ملی۔ عام نہیں تھی۔ دستہ نفیس تھا۔ گلکاری تھی۔ سرا انوکھا تھا۔
ہاتھ میں لی۔ کئی منٹ بیٹھا رہا۔
یہ کس چیز کی چابی تھی؟
گھر کا ہر تالا آزمایا۔ ہر دراز۔ ہر صندوق۔ کہیں فٹ نہ ہوئی۔
راز بن گئی۔ نیند اڑ گئی۔ دفتر میں بھی یہی سوچ۔
ثمینہ نے کہا۔ "دماغ کیوں کھا رہے ہو؟ شاید جس چیز کی ہے وہ اب ہے ہی نہیں۔"
نور کے لیے یہ چابی نہیں رہی تھی۔ ماضی کا حصہ تھی۔ ایک دروازہ تھا۔
ایک دن بچپن کے کمرے میں بیٹھا تھا۔ چابی گھما رہا تھا۔
نظر نیچے پڑی۔ ایک چھوٹا لکڑی کا صندوقچہ۔ بچپن سے وہیں تھا۔ ہمیشہ بند رہتا تھا۔ تالا نہیں دیکھا تھا۔
سرکایا۔ باہر نکالا۔ پلٹا۔
پیچھے چھوٹا تالا تھا۔ مٹی سے اٹا ہوا۔ شکل بالکل چابی جیسی۔
ہاتھ کانپے۔ چابی لگائی۔
کٹ۔ ٹن!
کھل گیا۔
دل زور سے دھڑکا۔ ڈھکنا اٹھایا۔
اندر زیور نہیں تھا۔ کاغذ بھی قیمتی نہیں تھا۔
صرف ایک زرد خط۔ اور ایک سیاہ سفید فوٹو۔
فوٹو میں دادی جوان تھیں۔ ہاتھ میں کتاب۔ سامنے نوجوان لڑکا۔ دادا۔ جنہیں نور نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔
خط دادی کا تھا۔ دادا کے نام۔
محبت تھی۔ جدائی کا درد تھا۔ امید تھی۔
آخری لائن: "تمہاری وہ کتاب، جس کی جلد کے اندر ہم نے اپنے خواب چھپائے تھے، وہ اب بھی میری ہے۔ ہر رات اوراق پلٹتی ہوں۔"
آنکھیں بھر آئیں۔
یاد آیا۔ دادی کے پاس ایک پرانی جلد بند کتاب رہتی تھی۔ کہتی تھیں یہ سب سے قیمتی متاع ہے۔
دوڑا۔ ماں سے کتاب مانگی۔
مل گئی۔ جلد ٹٹولی۔ اوراق کے درمیان خفیہ خانہ تھا۔
اندر ایک اور خط۔ دادا کا لکھا ہوا۔ دل کے سب سے گہرے الفاظ۔
اس روز سمجھ آیا۔
یہ چابی لوہا نہیں تھی۔
محبت کے خزانے کی کنجی تھی۔ اپنی کہانی کی پہلی سطر تھی۔
چابی پاس رکھ لی۔
جب زندگی الجھے۔ جب مایوسی ہو۔ چابی دیکھتا۔
یاد آتا۔ ہر انسان کے اندر ایک ان کہی کہانی ہے۔ ہر بند تالے کے پیچھے راز ہے۔
اور کبھی کبھی سب سے بڑی دولت ایک چھوٹی سی کالی چابی میں ہوتی ہے۔
--------------
مشکل الفاظ کے معنی
متاع: دولت، قیمتی چیز
بوسیدہ: پرانا، گلا ہوا
جلد: کتاب کا کور
خفیہ خانہ: چھپا ہوا خانہ

اپنی قیمتی رائے کا اظہار کیجیے: